آبنائے ہرمز میں کشیدگی: بھارتی بحری جہاز پر امریکی حملہ، ‘وشو گرو’ کا دعویٰ اور عالمی سطح پر ہزیمت
نیو یارک اور نئی دہلی، 15 جون 2026: بین الاقوامی پانیوں بالخصوص خلیج کے خطے میں جاری اسٹریٹجک کشیدگی اس وقت ایک انتہائی خطرناک موڑ اختیار کر گئی جب آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے پر امریکی افواج نے ایک بھارتی بحری جہاز پر حملہ کر دیا۔ اس اچانک اور شدید فوجی کارروائی کے نتیجے میں جہاز پر موجود 3 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس واقعے نے جہاں خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے، وہی نریندر مودی کی حکومت کے اس نام نہاد ‘وشو گرو’ (عالمی رہنما) کے بیانیے کو بھی شدید زک پہنچائی ہے جس کا وہ اکثر عالمی سطح پر ڈھنڈورا پیٹتے رہے ہیں۔
عالمی جریدے بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق، بحیرۂ عمان میں ایک بھارتی آئل ٹینکر کی تباہی کے بعد بھارت اس واقعے کی عالمی سطح پر مذمت کروانے کا خواہش مند تھا، لیکن اس کے برعکس امریکا نے آبنائے ہرمز کی بندش پر اپنے سخت موقف کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے نئی دہلی کو ہی آڑے ہاتھوں لے لیا ہے۔
امریکی کارروائی اور نئی دہلی کو دوٹوک دھمکی
سفارتی ذرائع اور عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق، آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر امریکی بحریہ نے ایکشن لیا۔ امریکی وزیر خارجہ نے اپنے بھارتی ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو میں کسی بھی قسم کی نرمی دکھانے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ واشنگٹن نے نئی دہلی کو دوٹوک اور سخت الفاظ میں واضح کیا ہے کہ خطے میں موجود تمام ممالک کو “امریکی فوج کا حکم ماننا پڑے گا”۔
آبنائے ہرمز کا بحران:
امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی ──> بھارتی جہاز پر حملہ (3 ہلاک) ──> واشنگٹن کی دہلی کو سخت دھمکی
امریکا کی جانب سے اپنے قریبی اسٹریٹجک پارٹنر بھارت کو اس طرح کھلم کھلا دھمکانا اور اس کے بحری اثاثوں پر حملہ کرنا، بین الاقوامی مبصرین کے لیے انتہائی حیران کن ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ جب بات امریکی مفادات اور عالمی تجارتی گزرگاہوں پر کنٹرول کی ہو، تو واشنگٹن کسی بھی ملک کی مصلحت پسندی یا دوستی کو خاطر میں نہیں لاتا۔
بھارتی اپوزیشن کا مودی حکومت پر شدید وار: ‘نااہل اور کمزور قیادت’
اس واقعے کے فوراً بعد بھارت کی داخلی سیاست میں ایک زلزلہ آ گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے بی جے پی اور وزیراعظم نریندر مودی کو عالمی سطح پر ملک کی رسوائی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
راہول گاندھی نے اپنے بیان میں کہا کہ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ جو حکومت اپنے بحری جہازوں اور فوجیوں کو امریکی حملوں سے نہیں بچا سکتی، وہ دنیا کی قیادت کرنے کا ڈھونگ کیسے رچا سکتی ہے؟ کانگریس نے مودی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر پارلیمنٹ میں اس ہزیمت پر جوابدہ ہو۔
‘وشو گرو’ کی حقیقت اور بدلتی ہوئی عالمی بساط
نریندر مودی اور ان کی جماعت بی جے پی گزشتہ کئی سالوں سے بھارتی عوام کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہے تھے کہ بھارت اب ایک ‘وشو گرو’ یعنی دنیا کا استاد اور ایک سپر پاور بن چکا ہے۔ تاہم، آبنائے ہرمز کے اس واقعے نے اس پروپیگنڈے کی قلعی کھول دی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، امریکا کی جانب سے بھارتی موقف کو یکسر مسترد کرنا اور الٹا دھمکیاں دینا یہ ثابت کرتا ہے کہ واشنگٹن نئی دہلی کو ایک برابر کے شراکت دار کے بجائے محض اپنے علاقائی مفادات کے لیے ایک کارندے کے طور پر دیکھتا ہے۔ جب بھارت نے اپنے طور پر آزادانہ نقل و حرکت کی کوشش کی، تو اسے فوری طور پر فوجی اور سفارتی طاقت کے ذریعے اپنی اوقات یاد دلا دی گئی۔
مشرقِ وسطیٰ اور بین الاقوامی سیاست کی مزید بریکنگ نیوز اور گہرائی سے تجزیوں کے لیے آپ ایکسپریس اردو انٹرنیشنل کا پورٹل دیکھ سکتے ہیں جہاں ہر لمحہ بدلتی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
خطے پر اس تنازع کے ممکنہ اثرات
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس علاقے میں امریکا اور بھارت جیسے اتحادیوں کے درمیان تصادم کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
-
تیل کی قیمتوں میں اضافہ: اس کشیدگی کے باعث خام تیل کی عالمی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے جس سے قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔
-
بھارت امریکہ تعلقات میں دراڑ: اس واقعے کے بعد نئی دہلی اور واشنگٹن کے دفاعی معاہدوں پر شکوک و شبہات کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔
-
علاقائی طاقتوں کا ردِعمل: چین اور روس جیسے ممالک اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور وہ بھارت کی اس کمزوری کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
کھیلوں اور دنیا بھر کے دیگر اہم ترین ایونٹس کی لائیو کوریج کے لیے آپ Azeem ul shan TV کا صفحہ بھی وزٹ کر سکتے ہیں۔
حاصلِ کلام
آبنائے ہرمز کا یہ واقعہ بھارت کے لیے ایک بہت بڑا اسٹریٹجک اور سفارتی دھچکا ہے۔ 3 بھارتی شہریوں کی ہلاکت اور امریکہ کی کھلی دھمکی نے مودی حکومت کے قوم پرستانہ بیانیے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔ اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ مودی حکومت اس عالمی ذلت کا جواب کس طرح دیتی ہے، یا پھر وہ ہمیشہ کی طرح گھٹنے ٹیک کر امریکی احکامات کے آگے سر تسلیم خم کر لے گی۔