بجٹ 2026-27 اور آئی ایم ایف کے مطالبات: وفاق میں بڑھتا ہوا معاشی دباؤ
پاکستان کا معاشی منظر نامہ اس وقت ایک نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے بجٹ 2026-27 کے حوالے سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو مطمئن کرنے کی کوششیں دن رات جاری ہیں اور اس سلسلے میں دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کا عمل انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ آئی ایم ایف کے نئے قرض پروگرام کی سخت شرائط کے باعث وفاقی حکومت پر ریونیو بڑھانے اور سبسڈیز یا ٹیکس چھوٹ کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے شدید دباؤ ہے۔
اسی تناظر میں ایک حیران کن اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے فنانس بل 2026-27 میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں (Tax Concessions) کی مکمل تفصیلات اور ان کے درست اعداد و شمار جاری کرنے سے باقاعدہ گریز کیا ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بجٹ اقدامات کی تمام باریکیاں اور تفصیلات فی الحال اسٹریٹیجک وجوہات کی بنا پر ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔
ٹیکس رعایتوں کو چھپانے کے پیچھے اصل محرکات: اربوں روپے کا مالی خسارہ
معاشی ماہرین اور باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے فنانس بل کی تفصیلات کو خفیہ رکھنے کے پیچھے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط اور ممکنہ طور پر قومی خزانے کو پہنچنے والا بڑا مالیاتی دھچکا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے بجٹ میں مختلف شعبوں کو دی جانے والی مراعات کے باعث قومی خزانے پر مجموعی طور پر تقریباً 360 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کے باعث حکومت ان اعداد و شمار کو کھل کر سامنے لانے سے کتراتی نظر آ رہی ہے، کیونکہ آئی ایم ایف کسی بھی ایسے اقدام کا مخالف ہے جس سے حکومت کے مجموعی محصولات (Revenue Collection) میں کمی واقع ہو۔
وہ شعبے جہاں ٹیکس ریلیف سے حکومتی آمدنی کم ہونے کا خدشہ ہے
ذرائع نے ان اہم شعبوں کی نشاندہی کی ہے جہاں حکومت کی جانب سے دی گئی ممکنہ رعایتیں آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں رکاوٹ بن سکتی ہیں:
-
تنخواہ دار طبقہ (Salaried Class): مہنگائی کے پسے ہوئے تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ریلیف سے قومی خزانے پر نمایاں مالی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔ اگرچہ یہ عوام کے لیے ایک مثبت قدم ہے، مگر آئی ایم ایف اسے ٹیکس نیٹ میں کمی کے طور پر دیکھتا ہے۔
-
سپر ٹیکس (Super Tax): ملک کے بڑے کارپوریٹ سیکٹر پر عائد سپر ٹیکس کے خاتمے یا اس میں مرحلہ وار کمی کی تجاویز زیرِ غور ہیں۔ اس اقدام سے بھی حکومتی محصولات میں واضح کمی متوقع ہے۔
-
برآمد کنندگان (Exporters): ملکی برآمدات کو فروغ دینے کے نام پر برآمد کنندگان کے لیے ٹیکس کی شرح میں کمی کی جا رہی ہے۔
-
رئیل اسٹیٹ (Real Estate): پراپرٹی اور رئیل اسٹیٹ کے لین دین پر عائد سخت ٹیکسوں میں ممکنہ نرمی کی باتیں کی جا رہی ہیں تاکہ جمود کا شکار اس صنعت کو دوبارہ چلایا جا سکے۔
متبادل ریونیو اقدامات: آئی ایم ایف کو راضی کرنے کی آخری کوشش
چونکہ 360 ارب روپے کا یہ ممکنہ خسارہ آئی ایم ایف کے پروگرام کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، اس لیے حکومت اور آئی ایم ایف کے وفد کے درمیان اس خسارے کے ازالے کے لیے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت جاری ہے۔
“حکومت آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرانے کی کوشش کر رہی ہے کہ اگر ایک طرف ٹیکس ریلیف دیا گیا ہے، تو دوسری طرف پیٹرولیم لیوی، سیلز ٹیکس کے دائرہ کار کو بڑھا کر یا لگژری آئٹمز پر مزید ڈیوٹیز لگا کر اس خسارے کو پورا کیا جائے گا۔”
تاہم، جب تک آئی ایم ایف ان متبادل اقدامات سے مکمل طور پر مطمئن نہیں ہو جاتا، تب تک ٹیکس ریلیف پیکیج کے مالی اثرات سے متعلق حتمی اور مکمل اعداد و شمار کو منظر عام پر لانے سے گریز کیا جاتا رہے گا۔
سیاسی اور عوامی ردِعمل کا خدشہ
حکومت کی اس حکمتِ عملی نے جہاں معاشی حلقوں میں تشویش پیدا کی ہے، وہیں سیاسی میدان میں بھی اپوزیشن کو ایک نیا ہتھیار مل گیا ہے۔ پنجاب اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پہلے ہی بجٹ اجلاس میں بھرپور شرکت کا فیصلہ کر رکھا ہے اور اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی ایوان کے اندر حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے تیار ہیں۔
وفاقی سطح پر ٹیکسوں کے اس گورکھ دھندے اور آئی ایم ایف کی خفیہ شرائط کو اپوزیشن جماعتیں عوام کے سامنے لانے کا عزم ظاہر کر چکی ہیں۔ عوام، جو پہلے ہی بجلی کے بھاری بلوں اور مہنگائی سے تنگ ہیں، اس بجٹ سے کسی معجزاتی ریلیف کی امید لگائے بیٹھے ہیں، لیکن آئی ایم ایف کے سائے تلے بننے والا یہ بجٹ کتنا عوام دوست ثابت ہوتا ہے، یہ آنے والے چند دن واضح کر دیں گے۔
تازہ ترین لائیو اپڈیٹس کے لیے آپ Azeemulshan TV کی تفصیلی رپورٹ
بیلجیم میں پاکستان ایمبیسی کی جانب سے قومی ہاکی ٹیم کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب
پر جا کر مزید معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔