ٹرمپ انتظامیہ کا بچوں کے لیے نیا سرمایہ کاری پروگرام، اہل نومولود کو ایک ہزار ڈالر ملیں گے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بچوں کے مالی مستقبل کو بہتر بنانے کے مقصد سے ایک نیا سرمایہ کاری پروگرام متعارف کرایا ہے، جس کے تحت مخصوص مدت میں پیدا ہونے والے اہل بچوں کے نام پر حکومت کی جانب سے ایک مرتبہ ایک ہزار امریکی ڈالر جمع کرائے جائیں گے۔
اس پروگرام کے تحت وہ بچے اہل ہوں گے جو یکم جنوری 2025 سے 31 دسمبر 2028 کے درمیان پیدا ہوئے ہوں اور ان کے پاس سوشل سکیورٹی نمبر موجود ہو۔ والدین یا سرپرست پروگرام میں رجسٹریشن کے بعد یہ رقم حاصل کر سکیں گے۔
یہ پڑھیں ورلڈ بینک کا بڑا اعلان، نائجیریا کو 1.25 ارب ڈالر کا ترقیاتی پیکیج مل گیا
یہ اکاؤنٹس طویل مدتی سرمایہ کاری کے اصول پر قائم کیے گئے ہیں، جہاں ابتدائی سرکاری رقم مختلف انڈیکس فنڈز میں سرمایہ کاری کی جائے گی۔ بعد ازاں والدین، رشتہ دار، آجر یا دیگر ادارے بھی اس اکاؤنٹ میں مزید رقم جمع کرا سکتے ہیں، جس سے مستقبل میں بچے کی بچت میں اضافہ ممکن ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد بچوں کو زندگی کے آغاز ہی سے مالی بنیاد فراہم کرنا ہے تاکہ وہ بالغ ہونے پر بہتر معاشی مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔ ان کے مطابق اگر وقت کے ساتھ اس اکاؤنٹ میں مزید سرمایہ شامل ہوتا رہے تو یہ رقم مستقبل میں نمایاں حد تک بڑھ سکتی ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق لاکھوں بچوں کے اکاؤنٹس پہلے ہی بنائے جا چکے ہیں، جبکہ ان میں سے بڑی تعداد ایسے بچوں کی ہے جو ابتدائی ایک ہزار ڈالر کی سرکاری رقم کے لیے اہل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اکاؤنٹ میں جمع ہونے والی رقم بنیادی طور پر کم لاگت والے ایس اینڈ پی 500 انڈیکس فنڈ میں سرمایہ کاری کی جائے گی، جبکہ آئندہ مزید سرمایہ کاری کے متبادل بھی شامل کیے جائیں گے۔
یہ پڑھیں فیفا فٹبال ورلڈ کپ 2026: فرانس کی عراق کے خلاف شاندار فتح، ناک آؤٹ مرحلے میں کوالیفائی
اس اکاؤنٹ کی رقم بچے کی ملکیت ہوگی اور 18 سال کی عمر کے بعد مخصوص مقاصد، جیسے اعلیٰ تعلیم یا پہلی رہائش کی خریداری، کے لیے استعمال کی جا سکے گی۔ اگر رقم ان مقاصد کے علاوہ استعمال نہ کی جائے تو اس پر وہی قواعد لاگو ہوں گے جو عام ریٹائرمنٹ اکاؤنٹس پر ہوتے ہیں۔
مالی ماہرین کے مطابق اگر ابتدائی ایک ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری میں وقت کے ساتھ مناسب منافع حاصل ہوتا رہے تو بچے کے بالغ ہونے تک اس کی مالیت کئی گنا بڑھ سکتی ہے، جبکہ اضافی سرمایہ کاری کرنے والے خاندانوں کو نسبتاً زیادہ فائدہ حاصل ہونے کا امکان ہے۔