دریائے سندھ کا قہر! جتوئی کے اعجاز آباد میں سینکڑوں ایکڑ زمین دریا برد، بستیاں اجڑنے لگیں۔
جتوئی (حافظ محمد فاروق احمد خان سعیدی القادری سٹھاری ) تحصیل جتوئی کے موضع بیٹ دریائی اعجاز آباد میں دریائے سندھ کی طغیانی سے زمینی کٹاؤ کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے، جس کے باعث مقامی آبادی شدید پریشانی میں مبتلا ہے۔ اب تک سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی دریا کی نذر ہو چکی ہے، متعدد بستیاں ویران ہو گئی ہیں اور لوگ اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف جانے پر مجبور ہیں۔
یہ بھی پڑھیں. پنجاب میں اسموگ کے خلاف بڑا اقدام، خصوصی یونٹس میدان میں آگئے
صورتحال سے آگاہ کرنے کے لیے چوہدری ثناء اللہ کی قیادت میں علاقے کا ایک وفد ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ عثمان طاہر جپہ سے ملا۔ وفد میں سراج الحق پیرزادہ، چوہدری حامد سلیم، مظہر الحق پیرزادہ اور چوہدری شہزاد انور شامل تھے۔ انہوں نے کٹاؤ کی شدت سے آگاہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ دریا کا رخ موڑنے اور آبادی کو بچانے کے لیے فوری طور پر سپر بند اور اسٹڈز تعمیر کیے جائیں۔
وفد نے خدشہ ظاہر کیا کہ کٹاؤ جاری رہا تو نہر 1AR، گورنمنٹ ہائی اسکول محمد والی، گرلز مڈل اسکول اعجاز آباد، ویٹرنری ہسپتال اعجاز آباد اور مریم نواز ہیلتھ کلینک سمیت کئی سرکاری عمارات بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔
ڈپٹی کمشنر نے وفد کو حکومتی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی اور یقین دہانی کرائی کہ مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں. مولانا فضل الرحمان کا دھماکہ خیز بیان: مشرف سے آج تک ہر دور میں حالات بگڑے
وفد نے سی او ہیلتھ اور سی او ایجوکیشن سے بھی ملاقات کر کے صورتحال بیان کی اور تحریری درخواستیں جمع کرائیں۔ اس کے بعد وفد ایکسیئن محکمہ انہار مظفرگڑھ محمد مصطفیٰ کے دفتر پہنچا، جہاں محکمانہ کارروائی پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ محکمہ انہار کی جانب سے کٹاؤ روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کی یقین دہانی کرائی گئی۔
افسران نے وفد کی درخواستوں پر فوری عمل کرنے اور انہیں اعلیٰ حکام تک پہنچانے کا وعدہ کیا، جس پر وفد نے ڈپٹی کمشنر اور ایکسیئن انہار کا شکریہ ادا کیا۔