مولانا فضل الرحمان کا دھماکہ خیز بیان: مشرف سے آج تک ہر دور میں حالات بگڑے

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پرویز مشرف سے لے کر موجودہ آرمی چیف تک ہر دور میں حالات خراب ہوئے اور دہشتگردی میں اضافہ ہوا۔ ان کے مطابق 2010 سے بار بار آپریشنز کے باوجود کوئی نتیجہ نہیں نکلا، جو حکمت عملی، سوچ اور فلسفے کی ناکامی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے اپنے ایکس (ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا کہ آج ان سے آپریشنز کی حمایت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، حالانکہ برسوں کے آپریشنز کے باوجود حالات بہتر نہیں ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ جب جے یو آئی (ف) آزادی مارچ کر رہی تھی تو ملک کے ہر کونے سے قافلے آ رہے تھے

 لیکن اس وقت دہشتگردی کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ ان کے بقول بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور کچے کے ڈاکوؤں کا مسئلہ بھی موجود نہیں تھا اور حالات معمول پر تھے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج صورتحال یہ ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی گھوم پھر نہیں سکتے اور رات کو تھانے پولیس سے خالی ہو جاتے ہیں۔

یہ پڑھیں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے بعد بڑا فیصلہ، 12 اکتوبر کو اسکول، کالجز اور یونیورسٹیاں بند

انہوں نے کہا کہ اس پوری صورتحال میں جہاں دہشتگردی اور دہشتگردوں کو زیر بحث لایا جائے گا، وہیں ذمہ داران کی ناکامیوں کا ذکر بھی ہو گا۔ مولانا فضل الرحمان نے سوال اٹھایا کہ کیا ملک کے لیے صرف ادارے جنگ لڑ رہے ہیں؟ کیا وہ ملک اور آئین کے لیے قربانیاں نہیں دے رہے؟

ان کے مطابق پچھلے برسوں میں 250 سے زائد علماء اور کارکنان دہشتگردوں کے ہاتھوں شہید ہوئے، جبکہ ایک ہی جلسے میں 90 سے زائد شہداء کی لاشیں اٹھائی گئیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اتنی قربانیوں کے باوجود ان کی جماعت اسلحہ نہیں اٹھا رہی بلکہ دلیل کے ساتھ سلیقے سے اپنے سیاسی کردار کی بات کرتی ہے

اور اس پر بھی انہیں سزا دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام قربانیاں صرف اختلاف رائے کے نتیجے میں دی گئی ہیں۔

Related Posts

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے بعد بڑا فیصلہ، 12 اکتوبر کو اسکول، کالجز اور یونیورسٹیاں بند
  • October 12, 2026

…

Continue reading