امریکا کا ایران کے لیے خطرناک پلان: 8500 کلو بارود والا “مدر آف آل بمبز” آپشن میں شامل

ایران کی جوابی دھمکی: ڈیٹا سینٹرز اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر نشانے پر

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی حکام نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے جو منصوبے تیار کیے ہیں، ان میں دنیا کے سب سے طاقتور غیر ایٹمی بموں میں سے ایک، “مدر آف آل بمبز” کا استعمال بھی شامل ہے۔

رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ لڑائی کے نئے مرحلے کی منظوری دیتے ہیں تو ایران کی توانائی کی تنصیبات اور جوہری مراکز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق یہ صرف ہنگامی منصوبہ بندی ہے، کسی حملے کی منظوری نہیں دی گئی۔

اس بم کا سرکاری نام GBU-43/B ہے۔ اس میں تقریباً 8 ہزار 500 کلوگرام بارود بھرا جاتا ہے۔ یہ زمین سے ٹکرانے سے پہلے فضا میں پھٹتا ہے اور اپنے اردگرد کے وسیع علاقے میں شدید دھماکے کی لہر پھیلا دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں صدر ٹرمپ کا شہباز شریف کے بیان کی تائید، بھارت کو تنقید کا نشانہ

ماہرین کے مطابق اتنی تباہ کن طاقت کے باوجود یہ بم ایران کی گہرائی میں بنی محفوظ جوہری تنصیبات کے لیے موزوں نہیں سمجھا جاتا۔ وجہ یہ ہے کہ یہ بنکر شکن بموں کی طرح چٹانوں یا مضبوط کنکریٹ کو چیر کر اندر جا کر نہیں پھٹتا۔

رپورٹ کے مطابق خود امریکی حکام میں بھی یہ سوال زیر بحث ہے کہ کیا یہ بم پہاڑ کے نیچے بنی تنصیبات تک پہنچ سکے گا، اور کیا اس سے وہ نتائج مل سکیں گے جو صدر ٹرمپ چاہتے ہیں۔ آبادی کے قریب استعمال کی صورت میں عام شہریوں کو شدید خطرات لاحق ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

فوجی تجزیہ کار الیاس مغنیہ کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار کھلے علاقے میں موجود اہداف کو تو تباہ کر سکتا ہے، لیکن زمین کے نیچے چھپی تنصیبات کو ختم کرنے یا تہران کو جھکانے کے لیے کافی نہیں ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں. عوام کے لیے بڑی خبر، 23 ستمبر کو عام تعطیل

واضح رہے کہ امریکا نے یہ بم 2017 میں افغانستان میں داعش کے سرنگوں کے نیٹ ورک پر استعمال کیا تھا، جو اس کا واحد رپورٹ شدہ جنگی استعمال ہے۔

دوسری جانب ایرانی حکام خبردار کر چکے ہیں کہ اگر امریکی حملے دوبارہ شروع ہوئے تو خطے میں مواصلاتی نیٹ ورکس، ڈیٹا سینٹرز اور دیگر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو جوابی کارروائی کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

Related Posts