یہ ملک تمہارے باپ دادا کی ملکیت ہے؟ مولانا فضل الرحمٰن کا گورنر راج پر حکمرانوں سے دھماکا خیز سوال
ملتان: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمٰن نے ملتان میں خطاب کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو غیر جمہوری اور جابرانہ اقدام قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ بدامنی کو بہانہ بنا کر صرف مخصوص علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ آئین میں چاروں صوبوں کی خودمختاری کی ضمانت دی گئی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان ایک فیڈریشن ہے جس میں تمام صوبے اپنے وسائل اور قانون سازی پر اختیار رکھتے ہیں، تاہم تاریخ گواہ ہے کہ صوبوں کے اختیارات پر بار بار وار کیا گیا۔
انہوں نے 1973 میں بلوچستان حکومت کی برطرفی اور گورنر راج کے نفاذ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی خود کو جمہوریت کی علم بردار کہتی ہے، مگر اسی جماعت نے 1970 کے انتخابی نتائج اور بنگال کی اکثریت کو تسلیم نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت صوبہ سرحد میں بھی راتوں رات گورنر تبدیل کیا گیا، جس پر مولانا مفتی محمود نے احتجاجاً وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں. خیبرپختونخوا: سابق مشیروں اور معاونین کے پاس 3 سے 4 سرکاری گاڑیاں، واپسی کا انتظار
مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں جب بھی گورنر راج لگا، وہ پیپلز پارٹی اور آصف زرداری کے دور میں لگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ تاریخ بیان کرنا مقصود ہے، اسے تنقید نہ سمجھا جائے۔
خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک ہی صوبے کے آدھے حصے میں گورنر راج اور آدھے میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔ انہوں نے 2017 میں فاٹا کے انضمام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نے انضمام کی مخالفت نہیں کی تھی، بلکہ مطالبہ یہ تھا کہ انضمام، مستقل صوبے یا موجودہ نظام کی برقراری میں سے کسی بھی فیصلے سے پہلے قبائلی عوام سے رائے لی جائے، جو نہیں لی گئی۔
انہوں نے کہا کہ انضمام کے بعد قبائلی علاقوں کے پہاڑوں اور معدنی ذخائر پر صوبہ خیبر پختونخوا کا حق قائم ہو گیا تھا، مگر اب ایمرجنسی لگا کر ان تمام وسائل کو وفاق کے تابع کر دیا گیا ہے۔ ان کے الفاظ میں “کل ایک ہاتھ سے دیا گیا اور آج دوسرے ہاتھ سے واپس چھین لیا گیا۔”
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر بدامنی ہی وجہ ہے تو پورے صوبے میں گورنر راج کیوں نہیں لگایا گیا اور صرف سابق فاٹا اور چار اضلاع کو کیوں چنا گیا؟ ان کے مطابق کرم اور اورکزئی جیسے علاقوں میں شدید حالات کے باوجود انہیں باہر رکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں. مولانا فضل الرحمان کا دھماکہ خیز بیان: مشرف سے آج تک ہر دور میں حالات بگڑے
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ بلوچستان کے حالات خیبر پختونخوا سے زیادہ خراب ہیں، لیکن وہاں اقدام اس لیے نہیں کیا گیا کہ وہاں کا وزیرِ اعلیٰ حکمرانوں کا حامی ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں اپوزیشن کی حکومت ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اصول کا ہے کہ جہاں اپوزیشن کی حکومت ہو وہاں اسے گرانے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔
خطاب کے اختتام پر انہوں نے حکمرانوں سے سوال کیا کہ کیا یہ ملک ان کی ذاتی ملکیت ہے اور کیا عوام ان کے ملازم ہیں؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اس غیر جمہوری اور جابرانہ اقدام کا مقابلہ کوئی ایک جماعت نہیں بلکہ پوری قوم کرے گی۔