ایک عہد کا خاتمہ
زندگی میں کچھ خبریں ایسی آتی ہیں جو صرف کسی ایک شخص کی وفات کی خبر نہیں ہوتیں بلکہ ایک پوری تہذیب، ایک پورے دور اور ایک سوچ کے خاتمے کا اعلان ہوتی ہیں۔ الطاف حسن قریشی انتقال اردو ڈائجسٹ 2026 کی خبر بھی ایسی ہی ہے۔ 16 مئی 2026 کو جب یہ اطلاع پھیلی کہ اردو ڈائجسٹ کے بانی اور پاکستانی صحافت کے ایک عظیم ستون الطاف حسن قریشی اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں تو ملک بھر میں ادیبوں، صحافیوں اور لاکھوں قارئین کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
الطاف حسن قریشی انتقال اردو ڈائجسٹ 2026 کی یہ خبر محض ایک انسان کی وفات نہیں — یہ اردو صحافت کے ایک درخشاں باب کا اختتام ہے۔
اردو ڈائجسٹ — ایک ادارے کی تاریخ
الطاف حسن قریشی انتقال اردو ڈائجسٹ 2026 کو سمجھنے کے لیے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اردو ڈائجسٹ نے پاکستانی معاشرے میں کیا کردار ادا کیا۔ جب پاکستان نیا نیا بنا تھا اور اردو ادب اپنے قدم جما رہا تھا تو الطاف حسن قریشی نے اردو ڈائجسٹ کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر متعارف کرایا جو ہر گھر میں پہنچا اور ہر عمر کے پڑھنے والوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔
یہ رسالہ صرف خبروں کا مجموعہ نہیں تھا بلکہ اس میں ادب، شاعری، سیاست، سماجی مسائل، دینی موضوعات اور سائنس — ہر موضوع پر بہترین قلمکاروں کی تحریریں شامل ہوتی تھیں۔ پاکستان ہیرالڈ کے مطابق اردو ڈائجسٹ نے اپنے عروج کے زمانے میں لاکھوں کی تعداد میں پڑھے جانے کا ریکارڈ قائم کیا۔
الطاف حسن قریشی | ایک مکمل انسان
الطاف حسن قریشی انتقال اردو ڈائجسٹ 2026 کے موقع پر ان کی شخصیت کو یاد کرنا ضروری ہے۔ قریشی صاحب محض ایک ایڈیٹر یا پبلشر نہیں تھے — وہ ایک مکمل انسان تھے جنہوں نے ادب، صحافت اور سماجی سوچ کے میدان میں ناقابل فراموش نقوش چھوڑے۔
انہوں نے صحافت کو ہمیشہ ایک مقدس امانت سمجھا۔ جھوٹ، سنسنی خیزی اور بے بنیاد خبروں سے انہوں نے ہمیشہ گریز کیا اور اپنے قارئین کے ساتھ سچائی اور دیانتداری کا رشتہ برقرار رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ اردو ڈائجسٹ دہائیوں تک قارئین کا اعتماد جیتتا رہا۔
نئی نسل کے قلمکاروں کے استاد
الطاف حسن قریشی انتقال اردو ڈائجسٹ 2026 کی سب سے بڑی خسارت یہ ہے کہ انہوں نے جو قلمکاری کی تربیت گاہ قائم کی تھی وہ اب یتیم ہو گئی۔ ہزاروں نوجوان لکھاریوں نے قریشی صاحب کی رہنمائی میں اپنا قلم سنوارا۔ انہوں نے نئے لکھنے والوں کو نہ صرف جگہ دی بلکہ ان کی تحریروں کو بہتر بنانے کے لیے وقت اور محنت بھی لگائی۔
Express Tribune کے مطابق پاکستانی ادب میں آج جو بڑے نام ہیں ان میں سے بہت سے وہ ہیں جنہوں نے اردو ڈائجسٹ سے اپنے سفر کا آغاز کیا۔
اردو زبان کے محافظ
الطاف حسن قریشی انتقال اردو ڈائجسٹ 2026 پر غور کریں تو ایک اور اہم پہلو سامنے آتا ہے انہوں نے اردو زبان کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ اسے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ بھی کیا۔ ایسے وقت میں جب انگریزی کا بول بالا تھا اور اردو کو پرانے وقتوں کی زبان سمجھا جا رہا تھا قریشی صاحب نے ثابت کیا کہ اردو میں سائنس، ٹیکنالوجی، سیاست اور فلسفے پر بھی اتنی خوبصورتی سے لکھا جا سکتا ہے جتنا کسی بھی زبان میں۔
مقتدرہ قومی زبان کے ماہرین کے مطابق الطاف حسن قریشی جیسے صحافیوں کی کوششوں کی وجہ سے اردو آج بھی پاکستان کی سب سے زیادہ پڑھی اور سمجھی جانے والی زبان ہے۔
صدر، وزیراعظم کا اظہار تعزیت
الطاف حسن قریشی انتقال اردو ڈائجسٹ 2026 کی خبر پر ملک کی اعلی قیادت نے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ صدر مملکت نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ قریشی صاحب کی رحلت سے پاکستانی صحافت ایک ناقابل تلافی خسارے سے دوچار ہوئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ قریشی صاحب نے اردو صحافت کو جو مقام دلایا وہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
صحافتی تنظیموں، ادبی حلقوں اور اردو ڈائجسٹ کے لاکھوں قارئین نے سوشل میڈیا پر انہیں گرمجوشی سے خراج عقیدت پیش کیا۔ #AltafHasanQureshi اور #UrduDigest ٹرینڈ کرنے لگے اور ہر طرف سے انا للہ و انا الیہ راجعون کی آوازیں آتی رہیں۔
قریشی صاحب کی یادیں | قارئین کی باتیں
الطاف حسن قریشی انتقال اردو ڈائجسٹ 2026 کی خبر پر کئی قارئین نے اپنی یادیں شیئر کیں۔ ایک بزرگ قاری نے لکھا: “جب میں کالج میں تھا تو اردو ڈائجسٹ میرا بہترین دوست تھا قریشی صاحب نے مجھے پڑھنا سکھایا۔” ایک خاتون لکھاری نے کہا: “قریشی صاحب نے میری پہلی تحریر شائع کی اور مجھے یقین دلایا کہ میں لکھ سکتی ہوں — آج میں جو بھی ہوں ان کی وجہ سے ہوں۔”
الوداع قریشی صاحب | آپ کا کام زندہ رہے گا
الطاف حسن قریشی انتقال اردو ڈائجسٹ 2026 کی یہ خبر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ عظیم لوگ کبھی نہیں مرتے وہ اپنے کاموں میں زندہ رہتے ہیں۔ قریشی صاحب نے جو اردو ڈائجسٹ بنایا، جو لاکھوں ذہنوں کو روشن کیا، جو قلمکاروں کی نسلیں تیار کیں یہ سب ان کی زندہ میراث ہے۔
اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل نصیب فرمائے۔ آمین۔
پاکستانی ادب، صحافت اور قومی شخصیات کی تازہ ترین خبروں کے لیے Azeem ul Shan TV کے ساتھ جڑے رہیں۔







