بلاول بھٹو زرداری کا گلگت میں بڑا دعویٰ
پاکستان کی آئینی اور سیاسی تاریخ میں 18 ویں ترمیم کو صوبائی خودمختاری کے لیے ایک سنگِ میل تصور کیا جاتا ہے، لیکن اس کے ثمرات اور تقسیم پر سیاسی جماعتوں کے درمیان اب بھی شدید اختلافات موجود ہیں۔ حال ہی میں پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے شہر سکردو کے شاہی پولو گراؤنڈ میں ایک بڑے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی سیاست کے حوالے سے ایک نیا پنڈورا باکس کھول دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ “18 ویں آئینی ترمیم کا سب سے زیادہ فائدہ پنجاب نے اٹھایا ہے، لیکن اب وہ اس ترمیم کے دفاع کے لیے تیار نہیں ہیں۔”
بلاول بھٹو کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گلگت بلتستان میں انتخابی مہم اپنے عروج پر ہے اور سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے پر سخت تنقید کر رہی ہیں۔
18 ویں ترمیم اور بلاول بھٹو زرداری کے تحفظات
سکردو میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی کے چیئرمین نے پارٹی کارکردگی اور آئینی ترامیم پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ چھوٹے صوبوں اور پسماندہ خطوں کے حقوق کی جنگ لڑی ہے اور 18 ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو ان کے وسائل پر حق دلایا۔
ان کے خطاب کے اہم ترین نکات درج ذیل تھے:
-
پنجاب کو سب سے زیادہ فائدہ: انہوں نے کہا کہ میاں صاحب (نواز شریف) اور ان کی پارٹی نے اس ترمیم سے سب سے زیادہ معاشی اور سیاسی فائدہ اٹھایا، لیکن جب اس کے دفاع کی بات آتی ہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
-
گلگت بلتستان کا دفاع: بلاول بھٹو نے عزم ظاہر کیا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق اور اس خطے کا دفاع کرنے کے لیے اکیلی ہی کافی ہے، اور وہ کسی کو یہاں کے عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے نہیں دیں گے۔
-
ماضی کی کارکردگی کا موازنہ: انہوں نے حاضرین سے سوال کیا کہ “بتائیں گلگت بلتستان کے لیے کس نے کام کیا؟” انہوں نے دعویٰ کیا کہ جو بھی ترقیاتی کام یہاں ہوئے، وہ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں ہی ممکن ہو سکے۔
“پنجاب نے 18 ویں ترمیم کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا، اب وہ اس کے دفاع کو تیار نہیں۔ گلگت بلتستان کے حقوق کا دفاع اب ہم کریں گے، ہمیں کسی اور کی ضرورت نہیں ہے۔” — بلاول بھٹو زرداری
سیاسی مخالفین پر کڑی تنقید اور “شیر کا شکار”
انتخابی جلسے کے دوران بلاول بھٹو نے روایتی سیاسی حریف مسلم لیگ (ن) کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ مسلم لیگ (ن) کے انتخابی نشان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے جارحانہ انداز میں کہا کہ “ہم گلگت بلتستان کے اس خوبصورت اور شیر کے مائنس درجہ حرارت والے موسم میں شیر کا شکار کریں گے۔” ان کا اشارہ گلگت بلتستان کے انتخابات میں ن لیگ کو شکست دینے کی طرف تھا۔ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ گھر گھر جا کر پیپلز پارٹی کا منشور پہنچائیں اور آنے والے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کریں۔
18 ویں ترمیم پر بحث اور موجودہ سیاسی منظر نامہ
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، بلاول بھٹو زرداری کا یہ بیان دراصل ن لیگ کی اس مبینہ سوچ پر حملہ ہے جس کے تحت وفاق پرست جماعتیں (بالخصوص ن لیگ) 18 ویں ترمیم کے بعد مرکز کے پاس فنڈز کی کمی کا رونا روتی رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی کا موقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ صوبوں کو ملنے والے فنڈز میں کسی قسم کی کٹوتی یا ترمیم کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
بلاول کا پنجاب کو ہدف بنانا دراصل اس بیانیے کو مضبوط کرنا ہے کہ ن لیگ صرف پنجاب کی حد تک سوچتی ہے اور چھوٹے صوبوں یا گلگت بلتستان جیسے اہم خطوں کے حقوق کے تحفظ میں ناکام رہی ہے۔
نتیجہ
گلگت بلتستان کے انتخابات اب محض مقامی سیاست تک محدود نہیں رہے بلکہ یہ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے لیے ایک اہم میدانِ جنگ بن چکے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے 18 ویں ترمیم کا حوالہ دے کر پنجاب اور ن لیگ کو نشانہ بنانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پیپلز پارٹی آنے والے دنوں میں وفاق اور صوبوں کے حقوق کے بیانیے کو مزید تیز کرے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) اس بڑے سیاسی وار کا جواب کس انداز میں دیتی ہے۔
پاکستان کے موجودہ سیاسی منظر نامے، وفاقی فیصلوں اور روزانہ کی دیگر قومی اپڈیٹس کے لیے آپ ہمارا Azeemulshan TV وزٹ کر سکتے ہیں۔
-
بلاول بھٹو زرداری کے اس دھواں دھار خطاب کی تفصیلی خبر اور اخبار کے صفحہ اول کا اصل لے آؤٹ دیکھنے کے لیے Jasarat ePaper کا مطالعہ کریں۔