اسلام آباد (نمائندہ خصوصی): کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے سیکٹر I-15 میں تقریباً دو دہائیوں سے قائم تجاوزات کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے 36.5 ایکڑ زمین خالی کروا لی ہے۔ اس کامیاب آپریشن کے بعد تقریباً 500 پلاٹس پر ترقیاتی کام کا راستہ کھل گیا ہے۔
سی ڈی اے کے مطابق سب سیکٹر I-15/1 میں شیخ پور گاؤں کی حدود میں 300 سے زائد مکانات، مویشیوں کے باڑے اور حویلیاں موجود تھیں، جو منظور شدہ نقشے کے مطابق سیکٹر کی ڈویلپمنٹ میں رکاوٹ بنی ہوئی تھیں۔ یہ سب ہٹا دیے گئے ہیں۔ خالی کرائی گئی زمین پورے سیکٹر کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہے، جس میں رہائشی اور کمرشل دونوں طرح کے پلاٹس شامل ہیں۔
آپریشن کی نگرانی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل انفورسمنٹ ڈاکٹر انعم فاطمہ نے کی۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی تقریباً دو ماہ کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں ایک ماہ سے مقدمہ درج نہ ہو سکا، چوکی انچارج پر ملزمان کو تحفظ دینے کا الزام
بتایا گیا ہے کہ سیکٹر I-15 کا اعلان 2005 میں ہوا تھا، مگر قبضوں کی وجہ سے الاٹیز برسوں سے اپنے پلاٹس کے منتظر تھے۔ متاثرہ الاٹیز میں بڑی تعداد ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی ہے، جن کی عمر بھر کی جمع پونجی اس منصوبے میں پھنسی ہوئی تھی۔
یہ معاملہ چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کے علم میں اوپن فورم کے دوران آیا۔ انہوں نے فوری طور پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو زمین واگزار کرانے کا حکم دیا۔ اس کے ساتھ پلاننگ ونگ کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ خالی کرائی گئی زمین پر منصوبہ بندی اور ترقیاتی کام ہنگامی بنیادوں پر شروع کیا جائے تاکہ الاٹیز کو جلد قبضہ مل سکے۔
تاہم سی ڈی اے نے واضح کیا ہے کہ زمین کی واگزاری صرف پہلا مرحلہ ہے۔ الاٹیز کو باقاعدہ قبضہ منصوبہ بندی، ڈویلپمنٹ اور قانونی و انتظامی تقاضے پورے ہونے کے بعد ہی دیا جائے گا۔
اتھارٹی نے عزم دہرایا ہے کہ جائز الاٹیز کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا، سرکاری زمین قبضہ گروپوں سے واپس لی جائے گی اور منظور شدہ منصوبوں کے مطابق رہائشی ترقی کو تیز کیا جائے گا۔