اسلام آباد میں گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں بھاری اضافہ: قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی منظوری
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے شہریوں اور ملک بھر کی گاڑیوں کے مالکان کے لیے ایک بڑی معاشی خبر سامنے آئی ہے۔ حکومت کی جانب سے نئے مالیاتی اقدامات کے تحت اسلام آباد میں گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس اہم فیصلے کے تحت اب شہریوں کو اپنی گاڑیوں کی سالانہ رجسٹریشن اور ٹوکن کی مد میں پہلے سے کہیں زیادہ رقم ادا کرنی ہوگی۔
تفصیلات کے مطابق، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے حالیہ اہم اجلاس میں اس تجویز پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا، جس کے بعد کمیٹی نے باقاعدہ طور پر اسلام آباد میں گاڑیوں پر عائد ٹوکن ٹیکس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا سب سے بڑا اثر مڈل کلاس طبقے اور چھوٹے پیمانے پر گاڑی رکھنے والے شہریوں پر پڑے گا۔
1000 سی سی تک کی گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس اب 20 ہزار روپے ہوگا
اس نئے فیصلے کی سب سے اہم کڑی یہ ہے کہ اب 1000 سی سی تک کی گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس بڑھا کر 20 ہزار روپے کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں اس زمرے میں آنے والی گاڑیوں (جیسے سوزوکی آلٹو، ویگن آر، اور کلٹس وغیرہ) پر ٹوکن ٹیکس کی شرح کافی کم تھی، جس کے باعث یہ عام آدمی کی پہنچ میں تھا۔ تاہم، اب اس میں یکمشت بھاری اضافہ کر کے اسے بیس ہزار روپے تک پہنچا دیا گیا ہے۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) اسلام آباد نے اس اضافے کے حق میں مضبوط دلائل دیے۔ انہوں نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا:
“اسلام آباد میں سال 2019 کے بعد سے گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا تھا، جبکہ دوسری جانب تمام صوبوں نے گزشتہ چند برسوں کے دوران اپنے ٹوکن ٹیکسز میں کئی بار اضافہ کیا ہے۔ وفاق اور صوبوں کے ٹیکس ڈھانچے میں اس فرق کو ختم کرنے اور ریونیو بڑھانے کے لیے یہ اقدام ناگزیر ہو چکا تھا۔”
آٹو سیکٹر اور عوام پر نئے ٹیکسز کے اثرات
اس فیصلے نے جہاں ایک طرف حکومت کے محصولات (Revenue) میں اضافے کی راہ ہموار کی ہے، وہیں دوسری طرف آٹو انڈسٹری اور عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بجٹ 2026-27 کے تناظر میں دیکھا جائے تو حکومت آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل کرتے ہوئے مختلف شعبوں پر ٹیکس کا دائرہ کار بڑھا رہی ہے۔
اس اضافے کے ممکنہ اثرات درج ذیل ہو سکتے ہیں:
-
عام آدمی پر اضافی بوجھ: 1000 سی سی تک کی گاڑیاں عام طور پر تنخواہ دار اور متوسط طبقہ استعمال کرتا ہے۔ ٹوکن ٹیکس میں اس حد تک اضافہ ان کے ماہانہ اور سالانہ بجٹ کو بری طرح متاثر کرے گا۔
-
گاڑیوں کی خریدوفرخت میں سست روی: پہلے ہی پیٹرول کی قیمتوں اور گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مارکیٹ دباؤ کا شکار ہے۔ اب ٹیکسز بڑھنے سے ان گاڑیوں کی مانگ مزید کم ہونے کا خدشہ ہے۔
-
صوبائی رجسٹریشن کا رجحان: معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اسلام آباد میں ٹیکسز صوبوں کے مقابلے میں زیادہ یا برابر ہو گئے، تو لوگ دوبارہ دیگر صوبوں کے نمبر پلیٹس والی گاڑیوں کو ترجیح دینا شروع کر سکتے ہیں۔
متبادل ریونیو اور قائمہ کمیٹی کی دیگر منظوریاں
قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اس اجلاس میں صرف ٹوکن ٹیکس ہی نہیں بلکہ وزارتِ تجارت اور دیگر محکموں کی جانب سے کئی دیگر تجاویز بھی زیرِ بحث آئیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک میں ٹیرف نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے تاکہ ٹیکس چوری کا خاتمہ ہو سکے۔ اس کے علاوہ مقامی آٹو کمپنیوں کی جانب سے بیرون ملک سے پرانی گاڑیوں کی درآمد پر عائد پابندیوں کو برقرار رکھنے یا ان میں ریشنلائزیشن لانے پر بھی گفتگو کی گئی۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ تنخواہ دار طبقے پر براہِ راست انکم ٹیکس کا بوجھ بڑھانے کے بجائے اس طرح کے بالواسطہ (Indirect) ٹیکسز اور کنزیومر ٹیکسز کے ذریعے ریونیو ہدف پورا کرنا چاہتی ہے تاکہ معیشت کو پاؤں پر کھڑا کیا جا سکے۔
حاصلِ کلام (Conclusion)
اسلام آباد میں گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں 2019 کے بعد ہونے والا یہ پہلا بڑا اضافہ ہے، جسے صوبوں کے برابر لانے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔ اگرچہ حکومتی خزانے کے لیے یہ ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے، لیکن پہلے سے مہنگائی کے مارے شہریوں کے لیے یہ ایک اور بڑا دھچکا ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ فنانس بل 2026-27 کی حتمی منظوری کے وقت اپوزیشن اس فیصلے پر پارلیمنٹ میں کیا مؤقف اختیار کرتی ہے۔
بجٹ، ٹیکسیشن اور آٹو مارکیٹ کی تازہ ترین لائیو اپڈیٹس کے لیے آپ ایکسپریس اردو کی تفصیلی رپورٹ خزانہ کمیٹی اجلاس؛ گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس میں اضافے کی منظوری پر جا کر مزید معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔