ایران اور روس کا 25 ارب ڈالر کا تاریخی جوہری معاہدہ
حالیہ عالمی سیاسی اور معاشی منظر نامے میں ایک ایسی بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے دنیا بھر کے دارالحکومتوں، بالخصوص واشنگٹن اور یورپی یونین کے رکن ممالک میں تشویش کی شدید لہر دوڑا دی ہے۔ تہران اور ماسکو کے درمیان طے پانے والا 25 ارب ڈالر کا جوہری اور معاشی معاہدہ خطے اور دنیا کی سیاست کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس معاہدے نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو ایک نئی بلندی پر پہنچا دیا ہے بلکہ عالمی پابندیوں کے شکار دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے مزید قریب کر دیا ہے۔
معاہدے کے بنیادی خدوخال اور اہمیت
ایران اور روس کے مابین طے پانے والے اس مفاہمت کی یادداشت (MoU) کے تحت دونوں ممالک جوہری توانائی، جدید ٹیکنالوجی، اقتصادی ترقی اور علاقائی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں اپنے تعلقات کو فروغ دیں گے۔
معاہدے کے اہم ترین نکات درج ذیل ہیں:
-
بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی: دونوں ممالک مشترکہ توانائی منصوبوں کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مستحکم کریں گے۔
-
جوہری توانائی کا فروغ: روس، ایران کے پرامن جوہری پروگرام کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کرے گا، جس میں بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کی توسیع اور مزید بلاکس کی تعمیر شامل ہے۔
-
متبادل تجارتی راستے: اس معاہدے کے تحت بحرِ ہند، بحرِ احمر، باب المندب اور بحیرہ روم تک ایسے تجارتی راستوں کو بحال اور محفوظ کیا جائے گا جو مغربی پابندیوں سے آزاد ہوں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ صرف دوطرفہ تجارتی دستاویز نہیں ہے، بلکہ یہ مغرب کے یکطرفہ معاشی دباؤ کے خلاف ایک مضبوط اسٹریٹجک بلاک کا پیش خیمہ ہے۔
عالمی طاقتوں کی تشویش اور امریکی ردعمل
اس معاہدے کی خبر منظرِ عام پر آتے ہی دنیا کے کئی ممالک کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے۔ خاص طور پر امریکہ نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکی حکام کا موقف ہے کہ ایران اور روس کے درمیان بڑھتا ہوا فوجی اور جوہری تعاون عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ امریکہ نے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاہدے کے اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید پابندیاں بھی عائد کی جا سکتی ہیں۔
دوسری طرف، ایرانی سفیر نے عالمی برادری کو یقین دہانی کرائی ہے کہ:
“اس معاہدے کا مقصد ایران کے جوہری توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا اور دیگر منصوبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ دونوں ممالک کا یہ تعاون مکمل طور پر پرامن اور علاقائی استحکام کے لیے ہے۔”
روس اور ایران پر پابندیاں اور متبادل حکمتِ عملی
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ روس اور ایران دونوں ہی طویل عرصے سے سخت مغربی اور امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ روس پر یوکرین جنگ کے باعث معاشی نیٹ ورک تنگ کیا گیا ہے، جبکہ ایران اپنے جوہری پروگرام کی وجہ سے دہائیوں سے پابندیوں کی زد میں ہے۔
ایسے میں دونوں ممالک نے اپنی بقا اور معاشی استحکام کے لیے ڈالر کے تسلط سے باہر نکل کر باہمی تجارت کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس 25 ارب ڈالر کے منصوبے کے تحت زیادہ تر لین دین مقامی کرنسیوں یا متبادل مالیاتی نظام کے ذریعے کیے جانے کی توقع ہے، جس سے امریکی پابندیوں کا اثر کافی حد تک زائل ہو جائے گا۔
علاقائی اور بین الاقوامی سیاست پر اثرات
اس اسٹریٹجک شراکت داری کے اثرات صرف ان دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے اثرات پورے مڈل ایسٹ (مشرقِ وسطیٰ) اور عالمی سیاست پر مرتب ہوں گے:
-
مشرقِ وسطیٰ میں نیا توازنِ طاقت: ایران کو روس جیسی سپر پاور کی پشت پناہی حاصل ہونے سے خطے میں اس کا پلڑا بھاری ہو سکتا ہے، جس پر اسرائیل اور خلیجی ممالک کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔
-
چین، روس اور ایران کا اتحاد: تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ معاہدہ چین، روس اور ایران کے اس غیر اعلانیہ اتحاد کو مزید مضبوط کرے گا جو عالمی سطح پر امریکی بالادستی کو چیلنج کر رہا ہے۔
-
عالمی منڈی اور توانائی کا بحران: روس اور ایران دونوں ہی تیل اور گیس کے وسیع ذخائر کے مالک ہیں۔ ان کا اتحاد عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں اور سپلائی چین پر اثر انداز ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
نتیجہ
ایران اور روس کا یہ 25 ارب ڈالر کا جوہری اور معاشی معاہدہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ عالمی سیاست اب کثیر القطبی (Multipolar) دور میں داخل ہو چکی ہے، جہاں اب کوئی ایک ملک اپنی مرضی کے فیصلے دنیا پر مسلط نہیں کر سکتا۔ اگرچہ اس معاہدے کے خلاف مغربی پروپیگنڈا اور سفارتی دباؤ برقرار رہے گا، لیکن تہران اور ماسکو کا یہ قدم آنے والے وقت میں عالمی سیاست کے نئے اصول طے کرے گا۔
گلگت بلتستان الیکشن 2026: پی ٹی آئی کی بقا اور سیاسی میدانِ جنگ کا احوال تفصیلات جاننے کے لیے آپ ہمارا Azeemulshan TV ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
اس تاریخی معاہدے کی تفصیلی اردو سرخیوں اور اخبار کا اصل لے آؤٹ دیکھنے کے لیے Daily Jasarat ePaper کے صفحہ اول پر وزٹ کریں۔