مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل: ایران پر امریکی فضائی کارروائیاں، اسرائیل اور بحرین میں سائرن اور آبنائے ہرمز کی بندش
مشرقِ وسطیٰ کا تزویراتی اور سیاسی منظرنامہ اس وقت شدید ترین جنگی رنگ اختیار کر چکا ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے ایران کے خلاف نئی فضائی کارروائیوں کی باقاعدہ تصدیق کے بعد، ایرانی دارالحکومت تہران سمیت ملک کے متعدد جنوبی اور مغربی اضلاع شدید دھماکوں سے گونج اٹھے ہیں۔ اس اچانک شروع ہونے والی فوجی مہم جوئی نے خطے میں امن و امان کی نازک صورتحال کو مزید پیچیدہ اور سیکیورٹی خدشات کو سنگین بنا دیا ہے، جس کے بعد ایران کے ممکنہ بڑے جوابی وار کے خوف نے پورے خطے کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، تازہ ترین فضائی حملوں کی آوازیں نہ صرف تہران بلکہ جنوبی ساحلی شہر بندرعباس، اور اس کے قریبی علاقوں سیریک اور میناب میں بھی واضح طور پر سنی گئی ہیں۔ ان دھماکوں کے فوراً بعد متعلقہ علاقوں میں ہنگامی حالت نافذ کر کے سیکیورٹی اقدامات کو انتہائی سخت کر دیا گیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسیوں نے تصدیق کی ہے کہ مغربی تہران کی فضائی حدود میں ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے ایران کا فضائی دفاعی نظام (Air Defense System) متحرک ہو کر جوابی کارروائی کر رہا ہے۔
اسرائیل میں ہائی الرٹ اور شہریوں کی شیلٹرز میں منتقلی
ایران کی جانب سے کسی بھی وقت ممکنہ اور ہولناک جوابی کارروائیوں کے خدشات کے بعد خطے میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی اور اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایران کے قریب ترین سرحدی اور حساس علاقوں میں اچانک فضائی حملے کے سائرن (Air Raid Sirens) بجائے گئے۔ سائرن کی آوازیں سنتے ہی شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور پینک (Panic) کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ سیکیورٹی پروٹوکول کے تحت شہریوں کی ایک بڑی تعداد کو فوری طور پر زیرِ زمین حفاظتی شیلٹرز (Underground Bunkers) میں منتقل ہونے کے احکامات جاری کیے گئے۔ اسرائیلی حکام نے ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر اپنے دفاعی نظام کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور فضائی نگرانی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
بحرین میں ہنگامی صورتحال اور منامہ میں اضطراب
دوسری جانب، خلیجی ملک بحرین میں بھی جمعرات کی صبح اچانک سائرن بجنے کے بعد دارالحکومت منامہ سمیت مختلف علاقوں میں شہریوں میں شدید اضطراب کی کیفیت دیکھی گئی۔ بحرینی وزارتِ داخلہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک ہنگامی بیان جاری کرتے ہوئے شہریوں کو پرسکون رہنے اور افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے فوری طور پر اپنے قریبی محفوظ مقامات کی طرف جانے کی ہدایت کی ہے۔ وزارت کے مطابق، ملکی سیکیورٹی ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ہنگامی خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ اسی دوران، پڑوسی ملک کویت سے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران کسی ایئر ریڈ سائرن کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
ایران کا بڑا اقدام: آبنائے ہرمز کی بندش اور بحری جہازوں پر حملے
امریکی فضائی حملوں کے جواب میں ایران نے دنیا کی سب سے اہم معاشی اور تجارتی شہ رگ آبنائے ہرمز بند کر دی ہے، جس کے بعد وہاں دو تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی ابتدائی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واشنگٹن کو کھلا پیغام دیا تھا کہ ہماری افواج کسی حملے کا جواب دیے بغیر نہیں رہیں گی۔
ایران نے تہران پر حملوں کے بعد اپنی سفارتی اور دفاعی صف بندی کو تیز کر دیا ہے اور خطے کی موجودہ نازک صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے سعودی اور ترک وزرائے خارجہ سے ہنگامی رابطے کیے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی تہران نے خلیج کے دیگر ممالک کو بھی خبردار کرتے ہوئے ایک سخت پیغام بھیجا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملے روکنا آپ کی ذمہ داری ہے، کیونکہ اگر ان ممالک کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہوئی تو اس کے نتائج سب کے لیے بھیانک ہوں گے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت بیان اور مذاکرات کی ناکامی کا انکشاف
اس فوجی آپریشن کے آغاز کے ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے حوالے سے انتہائی سخت اور جارحانہ مؤقف اختیار کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے پسِ پردہ سفارتی مذاکرات جاری تھے اور دونوں فریقین ایک “بہترین معاہدے” کے انتہائی قریب پہنچ چکے تھے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم ایک ایسے تاریخی معاہدے کے دہانے پر تھے جو ایران کو مستقبل میں کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیتا، لیکن ایرانی قیادت نے سنجیدہ پیش رفت کے بجائے مسلسل وقت گزاری اور تاخیری حربے استعمال کیے۔ صدر ٹرمپ نے واضح الفاظ میں دھمکی دیتے ہوئے کہا: “ہم نے ایران کو کل بھی نشانہ بنایا تھا اور آج بھی ان پر بھرپور اور سخت ضرب لگائیں گے، اور ہم دیکھیں گے کہ آگے کیا ہوتا ہے۔”
کشیدگی کا اصل پسِ منظر: آبنائے ہرمز کا واقعہ اور جوابی حملے
موجودہ فوجی تصادم کی فوری وجہ وہ واقعہ بنی جو چند روز قبل اسٹریٹجک اہمیت کے حامل سمندری راستے آبنائے ہرمز میں پیش آیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق، وہاں امریکی فوج کے ایک ‘اپاچی ہیلی کاپٹر’ کو نشانہ بنا کر سمندر برد کر دیا گیا تھا، جس کا براہِ راست الزام صدر ٹرمپ نے ایران پر عائد کیا۔
اس ہیلی کاپٹر کے گرائے جانے کے ردعمل میں امریکی فوج نے فوری طور پر ایران میں متعدد ٹھکانوں پر بمباری کی۔ تاہم، ایران نے بھی اس کا دندان شکن جواب دیا اور خطے میں موجود امریکی اڈوں پر میزائل حملے کیے جس کی ویڈیو بھی منظر عام پر آئی۔ اگرچہ اس جوابی کارروائی کے بعد امریکی فوج نے اعلان کیا تھا کہ ان کے حملے مکمل ہو چکے ہیں اور مبصرین یہ سمجھ رہے تھے کہ کشیدگی تھم جائے گی، لیکن صدر ٹرمپ کے تازہ ترین بیان اور اسرائیل و بحرین میں سائرن بجنے کے واقعات نے خطے کو دوبارہ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
عالمی منظرنامہ اور مسلم امہ پر اثرات
بین الاقوامی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کا یہ تزویراتی تصادم محض دو ممالک کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ یہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک بھیانک عالمی سازش کا حصہ بن سکتا ہے۔ استعماری طاقتوں اور بعض بین الاقوامی میڈیا ہاؤسز کی جانب سے اس سیاسی جنگ کو “عرب و عجم” کی فرقہ وارانہ جنگ کا رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ مسلم امہ کا اتحاد پارہ پارہ ہو جائے اور ان کی توجہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر جیسے بنیادی مسائل سے ہٹ جائے۔
مسلمان اگر آپس کے خلفشار اور بارود کے ڈھیر میں الجھ گئے، تو ان کے قیمتی معاشی وسائل تعلیم اور ترقی کے بجائے ہتھیاروں کی نذر ہو جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے جید علمائے کرام اس نازک دور میں امت کو اتحاد، صبر اور غیر معمولی تدبر کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی بیرونی جنگ کی چنگاری کو مسلم ممالک کے اندرونی امن کو تباہ کرنے کی اجازت نہ مل سکے۔
مشرقِ وسطیٰ کی جنگی صورتحال، بحری راستوں کی بندش اور تازہ ترین بین الاقوامی بریکنگ نیوز سے باخبر رہنے کے لیےAzeemulshantv کے انٹرنیشنل نیوز سیکشن کا وزٹ کریں۔