بجٹ مسترد: جماعت اسلامی کا وفاقی بجٹ 2026-27 کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک کا اعلان

بجٹ مسترد: جماعت اسلامی کا وفاقی بجٹ 2026-27 کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک اور دھرنوں کا اعلان

وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2026-27 کے لیے پیش کیے گئے تقریباً 17 کھرب روپے کے محصولات کے ہدف اور نئے ٹیکسوں کے خلاف سیاسی و عوامی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ اس سلسلے میں مذہبی و سیاسی جماعت جماعت اسلامی پاکستان نے وفاقی بجٹ کو مکمل طور پر “عوام دشمن اور آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن” قرار دے کر مسترد کرتے ہوئے ملک گیر احتجاجی تحریک کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پریس کانفرنس اور عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ بجٹ نے تنخواہ دار طبقے، تاجروں اور عام عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، جس کے خلاف اب خاموش بیٹھنا ممکن نہیں رہا۔

جماعت اسلامی کے تحفظات: بجٹ مسترد کرنے کی بنیادی وجوہات

جماعت اسلامی نے حکومت کے اس دعوے کو یکسر مسترد کیا ہے کہ بجٹ میں عوام یا تنخواہ دار طبقے کو کوئی حقیقی ریلیف دیا گیا ہے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی رہنماؤں کے مطابق اس بجٹ میں چند بڑے نقائص درج ذیل ہیں:

1. تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا بھاری بوجھ

اگرچہ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس نے انکم ٹیکس سلیب میں تبدیلیاں کر کے ریلیف دیا ہے، لیکن جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ پٹرولیم لیوی اور بالواسطہ ٹیکسوں (Indirect Taxes) کی موجودگی میں یہ ریلیف ایک سراب ہے۔ حکومت نے پٹرولیم لیوی کا ہدف 1.68 کھرب روپے مقرر کیا ہے، جو براہ راست ہر غریب اور متوسط خاندان پر اثر انداز ہوگا۔

2. آئی ایم ایف (IMF) کی غلامی کا بجٹ

حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کا 15.264 کھرب روپے کا ٹیکس ہدف ملکی مفاد میں نہیں بلکہ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کو پورا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے رئیل اسٹیٹ اور بااثر طبقے کو اربوں روپے کی چھوٹ دی، جبکہ الیکٹرک گاڑیوں پر 30 سے 40 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) لگا کر ماحول دوست ٹیکنالوجی کا گلا گھونٹ دیا۔

3. تاجر برادری پر اضافی ٹیکسز

بجٹ میں تاجروں اور ریٹیلرز پر عائد کیے گئے نئے ٹیکس اقدامات کے خلاف تاجر برادری میں پہلے ہی تشویش پائی جاتی ہے۔ جماعت اسلامی نے تاجروں کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاشی استحصال کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔

ملک گیر احتجاجی تحریک کا شیڈول اور لائحہ عمل

جماعت اسلامی نے وفاقی بجٹ 2026-27 کے خلاف اپنے احتجاجی عمل کو منظم انداز میں آگے بڑھانے کے لیے ایک جامع پلان تیار کیا ہے:

  • ابتدائی احتجاجی مظاہرے: ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں، بشمول کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ میں نمازِ جمعہ کے بعد پرامن احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی۔

  • شہروں میں دھرنے: وفاق اور صوبائی دارالحکومتوں کی اہم شاہراہوں پر علامتی دھرنے دیے جائیں گے تاکہ حکومت پر بجٹ واپس لینے یا اس میں ترامیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔

  • اسلام آباد مارچ کی دھمکی: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے پیٹرولیم لیوی میں اضافہ واپس نہ لیا اور تنخواہ دار طبقے پر عائد ظالمانہ ٹیکس ختم نہ کیے تو جماعت اسلامی لاکھوں عوام کے ہمراہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی طرف مارچ اور وہاں تاریخی دھرنا دینے سے بھی گریز نہیں کرے گی۔

سیاسی منظرنامہ اور اپوزیشن کا ملا جلا ردعمل

حکومتی نمائندوں، خصوصاً وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ بجٹ میں ریلیف دیا گیا ہے اور اپوزیشن کو ہٹ دھرمی چھوڑ کر اس کی تعریف کرنی چاہیے۔ تاہم، جماعت اسلامی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کا ماننا ہے کہ حکومت کی معاشی پالیسیاں ملک کو مزید قرضوں کی دلدل میں دھکیل رہی ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، جماعت اسلامی کی جانب سے اس احتجاجی تحریک کا آغاز ملک میں ایک نئے سیاسی بحران کو جنم دے سکتا ہے، کیونکہ عوام پہلے ہی مہنگائی اور بجلی و گیس کے بھاری بلوں کی وجہ سے شدید اضطراب کا شکار ہیں۔ ایسے میں جماعت اسلامی کا اس عوامی غصے کو سڑکوں پر لانا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔

حاصل کلام (Conclusion)

جماعت اسلامی کی جانب سے بجٹ 2026-27 کو مسترد کرنا اور ملک گیر احتجاج کا اعلان اس بات کی علامت ہے کہ آنے والے دن حکومت کے لیے آسان نہیں ہوں گے۔ ایک طرف آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے تحت ٹیکس اہداف کو پورا کرنے کی مجبوری ہے، اور دوسری طرف عوام اور اپوزیشن جماعتوں کا سڑکوں پر آنے کا دباؤ۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا حکومت جماعت اسلامی کے مطالبات کے سامنے جھکتے ہوئے بجٹ میں کوئی بڑی تبدیلی کرتی ہے، یا پھر ملک ایک بار پھر شدید دھرنوں اور سیاسی احتجاج کی لپیٹ میں آ جائے گا۔

مزید دریافت کریں:

ٹرمپ کا ایران معاہدہ متنازع بن گیا

Related Posts