کراچی کے جناح اسپتال میں افسوسناک واقعہ: واش روم میں بچے کی پیدائش، ڈاکٹرز پر غفلت کا سنگین الزام

کراچی: جناح اسپتال کے واش روم میں بچے کی پیدائش، ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت پر اہلخانہ کا شدید احتجاج

مرکزی سرخی: ‘ڈاکٹرز کو بار بار بلایا لیکن کوئی نہ آیا’، متاثرہ خاندان کا ہسپتال انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

شہری و سماجی رپورٹ: عظیم الشان ٹی وی

کراچی کے سب سے بڑے سرکاری طبی ادارے، جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جناح ہسپتال) کے گائنی وارڈ میں ایک انتہائی افسوسناک اور چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ ہسپتال کے واش روم میں ایک خاتون کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی ہے، جس کے بعد متاثرہ خاتون کے اہلخانہ نے لیبر روم کے عملے اور آن ڈیوٹی ڈاکٹرز پر شدید غفلت اور لاپرواہی کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے ہسپتال میں احتجاج کیا ہے۔

واقعے کی تفصیلات اور اہلخانہ کا مؤقف

متاثرہ خاندان کی جانب سے میڈیا اور ہسپتال انتظامیہ کو دیے گئے بیانات کے مطابق، خاتون کو زچگی (ڈلیوری) کے شدید درد کے باعث ہسپتال لایا گیا تھا۔ گائنی وارڈ کے عملے کو مریضہ کی نازک حالت کے بارے میں بار بار آگاہ کیا گیا اور التجا کی گئی کہ انہیں فوری طور پر لیبر روم منتقل کر کے ڈلیوری کا عمل شروع کیا جائے۔

اہلخانہ کا کہنا ہے کہ:

“ہم نے وہاں موجود ڈاکٹرز اور نرسوں سے کئی بار منت سماجت کی کہ مریضہ کی حالت خراب ہو رہی ہے، لیکن عملے نے ہماری بات پر کان دھرنے کے بجائے تاخیری حربے استعمال کیے۔ اسی دوران جب خاتون واش روم گئیں، تو وہاں شدید درد کے باعث بچے کی پیدائش ہو گئی۔”

واقعے کے فوراً بعد ہسپتال کے گائنی وارڈ میں کہرام مچ گیا اور اہلخانہ نے ڈاکٹروں کے اس سرد رویے کے خلاف شدید احتجاج کیا، جس کے بعد وارڈ کا عملہ حرکت میں آیا اور زچہ و بچہ کو طبی امداد فراہم کی گئی۔

عوامی ردِعمل اور ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف

سرکاری ہسپتالوں میں اس نوعیت کے واقعات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں، لیکن جناح ہسپتال جیسے بڑے اور مرکزی طبی مرکز میں ایسا واقعہ پیش آنا انتظامی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی شہریوں کی جانب سے اس واقعے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے اور صوبائی وزیرِ صحت سے واقعے کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب، ہسپتال کے انتظامی ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کی کڑی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ آیا اس وقت عملہ ڈیوٹی پر موجود تھا یا نہیں، اور اگر کسی بھی سطح پر غفلت یا لاپرواہی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف سخت تادیبی اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ فی الحال ہسپتال حکام کا کہنا ہے کہ ماں اور بچہ دونوں کی حالت خطرے سے باہر ہے اور انہیں خصوصی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔

خلاصہ

سرکاری ہسپتالوں میں غریب مریضوں کے ساتھ ایسا سلوک انتہائی ناانصافی ہے اور اس طرح کے واقعات طبی پیشے کے تقدس کو پامال کرتے ہیں۔ حکومتِ سندھ کو چاہیے کہ وہ جناح ہسپتال کے اس واقعے کے حقائق عوام کے سامنے لائے تاکہ آئندہ کسی اور خاندان کو اس ذہنی اور جسمانی اذیت سے نہ گزرنا پڑے۔ عظیم الشان ٹی وی اس کیس کی ہر نئی اپڈیٹ اپنے قارئین تک پہنچاتا رہے گا۔

سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے قوانین اور مریضوں کے حقوق کی تفصیلات جاننے کے لیے وزٹ کریں

سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی آفیشل ویب سائٹ

Related Posts