لبنان اور اسرائیل کشیدگی | مشرقِ وسطیٰ میں امن کی نئی کوشش: امریکی وزیرِ خارجہ کی جنگ بندی تجویز
گزشتہ چند ماہ سے مشرقِ وسطیٰ کے حالات انتہائی کشیدہ ہیں، جہاں سرحد پار سے ہونے والے حملوں اور فضائی کارروائیوں نے پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ اس سنگین صورتحال کے پیشِ نظر، عالمی طاقتوں کی جانب سے سفارتی کوششوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ حالیہ پیش رفت میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے انتہائی اہم سفارتی متحرک پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران لبنانی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم سے براہِ راست رابطے کیے ہیں۔ ان رابطوں کا بنیادی مقصد خطے میں جاری خونریزی کو روکنا اور ایک پائیدار جنگ بندی کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے مطابق، وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے دونوں ممالک کے رہنماؤں کے سامنے ایک نئی سفارتی تجویز پیش کی ہے۔ اس تجویز کا مقصد مرحلہ وار طریقے سے دشمنی کا خاتمہ اور دونوں اطراف کے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اگر آپ مشرقِ وسطیٰ کی گزشتہ تاریخ اور ان تنازعات کے پسِ منظر کو سمجھنا چاہتے ہیں، تو آپ ہماری ویب سائٹ پر موجود یہ تفصیلی مضمون پڑھ سکتے ہیں: مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کی تاریخ اور عالمی سیاست]
امریکی تجویز کے بنیادی خدوخال
امریکی وزارتِ خارجہ کی جانب سے تیار کردہ اس نئے امن فارمولے میں دونوں فریقین کے لیے مخصوص شرائط وضع کی گئی ہیں۔ اس تجویز کے پہلے اور اہم ترین نکتے کے تحت، حزب اللہ کو اسرائیل پر کیے جانے والے تمام میزائل اور ڈرون حملے فوری طور پر روکنے ہوں گے۔ اس شرط کا مقصد اسرائیل کو یہ ضمانت دینا ہے کہ اس کی شمالی سرحدیں اب محفوظ ہیں۔
اس کے جواب میں، تجویز کا دوسرا حصہ اسرائیل کو پابند کرتا ہے کہ وہ لبنانی دارالحکومت بیروت اور اس کے گردونواح میں تمام قسم کی عسکری کارروائیوں اور فضائی حملوں سے مکمل گریز کرے گا۔ امریکی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ اگر دونوں فریقین ان ابتدائی شرائط پر عمل درآمد کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں، تو اس سے مستقبل میں مستقل امن معاہدے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم ہو سکے گی۔ اس سفارتی پیش رفت کی مزید عالمی تفصیلات اور عالمی ردِعمل کو جاننے کے لیے آپ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی اس رپورٹ کا معائنہ کر سکتے ہیں: خبر بی بی سی اردو
لبنانی قیادت کا ردِعمل اور تحفظات
اس امریکی سفارتی کوشش کے جواب میں لبنانی قیادت کی جانب سے ملا جلا ردِعمل سامنے آیا ہے۔ ایک طرف لبنانی صدر جوزف عون نے اس تجویز کے سیاسی اور سفارتی پہلوؤں پر غور کرنے اور مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ خطے میں جاری انسانی بحران کو ختم کرنے کے لیے کسی بھی سنجیدہ سفارتی کوشش کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے۔
تاہم، دوسری جانب لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبہی بری نے اس تجویز پر اپنے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ امریکی عسکری اور سیاسی نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی جنگ بندی کے لیے پہلی شرط یہ ہونی چاہیے کہ اسرائیل اپنے حملے بند کرے۔ لبنانی اسپیکر کا مؤقف ہے کہ اسرائیل ایک جارح ریاست کے طور پر پہلے اپنی فضائی اور زمینی کارروائیاں معطل کرے، جس کے بعد ہی حزب اللہ کی جانب سے جوابی کارروائیوں کو روکنے کا مطالبہ حقیقت پسندانہ ہو سکتا ہے۔ اس تناظر میں علاقائی صورتحال کے پل پل بدلتے رنگوں کو دیکھنے کے لیے روزنامہ جنگ کی کوریج دیکھی جا سکتی ہے:
پائیدار امن کی راہ میں حائل رکاوٹیں
ماہرینِ سیاسیات کا کہنا ہے کہ مارکو روبیو کی یہ سفارتی کوشش اگرچہ خوش آئند ہے، لیکن اس پر عمل درآمد کروانا ایک انتہائی کٹھن عمل ہے۔ ماضی میں بھی اس طرح کی کئی تجاویز سامنے آئیں لیکن فریقین کے درمیان پائے جانے والے شدید عدمِ اعتماد کی وجہ سے وہ ناکام ہو گئیں۔ اسرائیل کا یہ دیرینہ مؤقف رہا ہے کہ وہ اپنی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، جبکہ لبنان اپنے علاقے پر اسرائیلی بمباری کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔
جب تک دونوں ممالک کے بنیادی تحفظات کو دور نہیں کیا جاتا، تب تک کسی بھی عارضی معاہدے کا دیرپا ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ خطے کی موجودہ اقتصادی اور سماجی صورتحال پر ان جنگوں کے اثرات سے متعلق مزید تجزیاتی مواد کے لیے ہماری ویب سائٹ کا یہ حصہ ملاحظہ فرمائیں: جنگی اثرات اور مسلم امہ کی معیشت
مستقبل کا منظرنامہ
مشرقِ وسطیٰ اس وقت تاریخ کے ایک انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ کی حالیہ ۴۸ گھنٹوں کی دوڑ دھوپ نے یہ تو ثابت کر دیا ہے کہ عالمی برادری اس جنگ کے پھیلاؤ سے خوفزدہ ہے اور سفارتی حل چاہتی ہے۔ اب گیند اسرائیل اور لبنان کی قیادت کے کورٹ میں ہے۔ اگر دونوں ممالک لچک کا مظاہرہ کرتے ہیں، تو یہ تجویز مشرقِ وسطیٰ میں امن کی ایک نئی سحر کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، ورنہ یہ خطہ مزید تباہی کی دلدل میں دھنس جائے گا