اسکولوں میں مصنوعی ذہانت پر پابندی: ناروے کا بڑا فیصلہ
ناروے کی حکومت نے پرائمری اسکول کے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال پر تقریباً مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اسکولوں میں مصنوعی ذہانت پر پابندی کا یہ تاریخی اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں تعلیم کے شعبے میں ٹیکنالوجی کے بے جا استعمال پر بحث چھڑی ہوئی ہے۔ ناروے کے اس اہم فیصلے کا بنیادی مقصد کم عمر بچوں کی ذہنی نشوونما، بنیادی علمی مہارتوں اور سیکھنے کے قدرتی عمل کو ممکنہ منفی اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔
گوگل پر اعلیٰ رینکنگ اور صارفین کی رہنمائی کے لیے لکھے گئے اس جامع مضمون میں ہم تفصیل سے جائزہ لیں گے کہ ناروے نے یہ فیصلہ کیوں کیا اور اس کے عالمی تعلیمی نظام پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ناروے کا فیصلہ اور وزیراعظم کا اہم بیان
ناروے کے وزیراعظم جوناس گہر اسٹوئر نے ایک پریس کانفرنس کے دوران باقاعدہ طور پر اس نئی تعلیمی پالیسی کا اعلان کیا۔ انہوں نے اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا کہ کم عمر بچوں کی جانب سے جنریٹو اے آئی (Generative AI) اور چیٹ جی پی ٹی جیسے ٹولز پر حد سے زیادہ انحصار ان کے سیکھنے کے بنیادی مراحل کو شدید متاثر کر رہا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا:
“اسکولوں کی سب سے پہلی اور اہم ترین ذمہ داری بچوں کو پڑھنا، لکھنا اور ریاضی کی بنیادی مہارتیں سکھانا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کا غیر ضروری اور وقت سے پہلے استعمال بچوں کو ان بنیادی مراحل کو سیکھنے سے روکتا ہے، جو کہ ان کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ہے۔”
نئی تعلیمی پالیسی اور عمر کی حد (عمر کے لحاظ سے قوانین)
ناروے کی حکومت کی جانب سے جاری کردہ نئے ضوابط کے تحت اسکولوں میں اے آئی ٹیکنالوجی کے استعمال کو عمر کے مختلف حصوں کے مطابق تقسیم کیا گیا ہے:
نئے قواعد و ضوابط آئندہ تعلیمی سال کے آغاز (اگست کے آخری ہفتے) سے نافذ العمل ہوں گے۔
اسکولوں میں مصنوعی ذہانت پر پابندی کیوں ضروری ہے؟
حالیہ برسوں میں ناروے سمیت کئی ممالک میں بچوں کے امتحانی نتائج اور تعلیمی کارکردگی میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔ تعلیمی ماہرین اور سائنسدانوں کے مطابق اس تنزلی کی بڑی وجوہات درج ذیل ہیں:
1. بنیادی مہارتوں کا خاتمہ
جب بچے اپنے ہوم ورک، مضامین اور ریاضی کے سوالات کے حل کے لیے اے آئی ٹولز کا سہارا لیتے ہیں، تو ان کے اندر خود سوچنے اور تخلیق کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ وہ ہاتھ سے لکھنے اور کتابیں پڑھنے کے بجائے اسکرین پر انحصار کرنے لگتے ہیں۔
2. تنقیدی سوچ (Critical Thinking) کی کمی
پرائمری اسکول کے بچوں میں اتنی ذہنی پختگی نہیں ہوتی کہ وہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کی تصدیق کر سکیں۔ وہ بنا سوچے سمجھے ہر جواب کو درست مان لیتے ہیں، جس سے ان کی تنقیدی سوچ کی صلاحیت مفلوج ہو جاتی ہے۔
3. اسکرین ٹائم میں بے پناہ اضافہ
پہلے ہی بچے اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ اسکولوں میں بھی ٹیبلٹس اور کمپیوٹرز کا حد سے زیادہ استعمال ان کی بینائی اور دماغی صحت کو متاثر کر رہا تھا۔
ڈیجیٹل دور سے روایتی کتب کی طرف واپسی
دلچسپ بات یہ ہے کہ ناروے نے 1990 کی دہائی میں اسکولوں میں کمپیوٹر متعارف کرانے اور بعد میں آئی پیڈز (iPads) کے استعمال میں پہل کی تھی۔ لیکن اب حکومت اپنے اس ڈیجیٹل رجحان کو تبدیل کر رہی ہے۔ اسکولوں میں مصنوعی ذہانت پر پابندی کے ساتھ ساتھ حکومت نے اسکولوں میں دوبارہ سے کاغذی کتابوں (Physical Books) کو لانے کے لیے خصوصی فنڈز بھی جاری کیے ہیں تاکہ طلبہ کی اسکرینوں پر انحصار کم کیا جا سکے۔
اس سے قبل، ناروے اسکولوں میں اسمارٹ فونز پر بھی مکمل پابندی عائد کر چکا ہے اور اب اگلا قدم سوشل میڈیا کے استعمال کی عمر کو 16 سال تک محدود کرنا ہے۔
عالمی سطح پر اس فیصلے کے اثرات
ناروے کا یہ اقدام دنیا بھر میں ڈیجیٹل لرننگ (Digital Learning) اور سمارٹ کلاس رومز کے تصور پر ایک نئی بحث کا آغاز ہے۔ آسٹریلیا اور کئی یورپی ممالک پہلے ہی بچوں کے لیے سوشل میڈیا اور اسمارٹ فونز کے قوانین سخت کر رہے ہیں۔ تعلیمی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ناروے کی یہ حکمت عملی کامیاب رہتی ہے، تو دیگر ترقی یافتہ ممالک بھی اپنے پرائمری اسکولوں میں اے آئی کے استعمال پر پابندیاں عائد کر سکتے ہیں۔
امریکی تعلیمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق، جن اسکولوں میں روایتی طریقوں یعنی کتابوں اور تحریر پر توجہ دی گئی، وہاں بچوں کے سیکھنے کی رفتار ٹیکنالوجی پر منحصر اسکولوں سے کہیں بہتر رہی۔ اس حوالے سے مزید بین الاقوامی رپورٹس اور تعلیمی نظام میں تبدیلیوں کی تفصیلات آپ Azeemulshan TV اور تعلیمی تجزیوں کے لیے PCMag پر دیکھ سکتے ہیں۔
خلاصہ اور مستقبل کی حکمتِ عملی
خلاصہ یہ ہے کہ ناروے کا اسکولوں میں مصنوعی ذہانت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ جدید دور میں ایک جرات مندانہ اور ضروری قدم ہے۔ ٹیکنالوجی جہاں انسانوں کی مدد کے لیے بنائی گئی ہے، وہیں بچوں کے ابتدائی تعلیمی سالوں میں اس کا آزادانہ استعمال فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن رہا تھا۔
مستقبل میں تعلیمی اداروں کو یہ توازن پیدا کرنا ہوگا کہ ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر مسترد کرنے کے بجائے اسے صرف اس وقت سکھایا جائے جب بچہ ذہنی طور پر پختہ ہو چکا ہو۔ پرائمری اسکول کے سطح پر بچوں کو کتابوں، قلم اور انسانی تعامل (Human Interaction) کے ذریعے ہی بنیادی تعلیم فراہم کی جانی چاہیے تاکہ آنے والی نسلیں ذہنی طور پر مفلوج ہونے کے بجائے خود مختار بن سکیں۔