پاکستان کی ایران سے متعلق انٹیلیجنس معلومات امریکا کو دینے کی تردید: حقائق کیا ہیں؟

پاکستان نے ایران سے متعلق انٹیلیجنس معلومات امریکا کو دینے کی سختی سے تردید

پاکستان کی خارجہ پالیسی اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے حالیہ دنوں میں میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے ان تمام خبروں اور دعووں کو یکسر اور دو ٹوک انداز میں مسترد کر دیا ہے جن میں یہ کہا جا رہا تھا کہ پاکستان نے ایران کے حوالے سے حساس انٹیلیجنس معلومات ریاستہائے متحدہ امریکہ (امریکا) کے ساتھ شیئر کی ہیں۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ یہ حالیہ بیان خطے کی موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ اور دو ٹوک موقف

اسلام آباد میں منعقدہ ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے میڈیا رپورٹس میں کیے جانے والے دعووں کو بے بنیاد، قیاس آرائیوں پر مبنی اور غیر مبہم انداز میں مسترد کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور وہ اپنے پڑوسی ممالک بالخصوص ایران کے ساتھ برادرانہ اور سفارتی تعلقات کو برقرار رکھنے کا پختہ عزم رکھتا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی جھوٹی اور غیر مصدقہ خبریں دانستہ طور پر پھیلائی جا رہی ہیں تاکہ پاکستان اور اس کے پڑوسی ممالک کے درمیان جاری سفارتی کوششوں اور مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ پاکستان کی جانب سے اس موقف کا اعادہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پہلے ہی کافی کشیدہ ہے۔

پاک-امریکہ وزرائے خارجہ ملاقات کا اصل ایجنڈا

افواہوں کا آغاز گزشتہ دنوں پاکستانی اور امریکی حکام کے درمیان ہونے والے ایک اعلیٰ سطح کے رابطے کے بعد ہوا۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے اس ملاقات کی تفصیلات پبلک کرتے ہوئے بتایا کہ 29 مئی 2026 کو پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ان کے امریکی ہم منصب مارکو روبیو کے درمیان ایک تفصیلی ٹیلیفونک گفتگو اور رابطہ ہوا تھا۔

اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ گفتگو کا بنیادی محور علاقائی امن، استحکام اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی حل تلاش کرنا تھا۔ طاہر اندرابی نے سختی سے اس بات کی تردید کی کہ اس گفتگو کے دوران کسی بھی سطح پر ایران یا کسی دوسرے ملک سے متعلق انٹیلیجنس معلومات کا تبادلہ ہوا ہو۔ پاکستان کا موقف واضح ہے کہ سفارت کاری کا مقصد امن کا قیام ہے، نہ کہ کسی دوسرے ملک کے خلاف جاسوسی یا معلومات کی فراہمی۔

مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے امریکی کوششوں کا خیر مقدم

پاکستانی دفتر خارجہ نے خطے میں جاری دیگر تنازعات کا ذکر کرتے ہوئے لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے قیام کے لیے امریکی سفارتی کوششوں کو سراہا ہے۔ پاکستان کا ماننا ہے کہ طاقت کا استعمال مسائل کا حل نہیں ہے، بلکہ پائیدار امن صرف اور صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ یہ موقف اپنایا ہے کہ خطے کے پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو پُرامن رابطوں کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ پاکستان خطے میں کسی بھی ایسی کوشش کا حصہ بننے سے گریز کرتا ہے جو مسلم امہ کے اتحاد یا علاقائی خود مختاری کے اصولوں کے منافی ہو۔

میڈیا کے لیے اہم ہدایات اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی اپیل

حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا اور بعض دیگر ابلاغی ذرائع پر سنسنی خیز خبروں کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ دفتر خارجہ نے میڈیا ہاؤسز اور صحافتی برادری سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ قومی سلامتی اور خارجہ امور جیسے حساس موضوعات پر رپورٹنگ کرتے وقت انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ غیر مصدقہ ذرائع اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں کی اشاعت سے نہ صرف ملک کا بین الاقوامی تشخص متاثر ہوتا ہے بلکہ برادر ممالک کے ساتھ سالہا سال پر محیط دیرینہ تعلقات پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

سفارتی محاذ پر پاکستان کا عزم پختہ ہے کہ وہ خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا اور کسی بھی پروپیگنڈے کو اپنی خارجہ پالیسی کے اصولوں پر اثر انداز ہونے نہیں دے گا۔

Related Posts