روسی خفیہ ایجنسی کی ہولناک رپورٹ: کیا افغانستان ایک بار پھر عالمی دہشت گردی کا گڑھ بن چکا ہے؟
مرکزی سرخی: وسطی ایشیا سے لے کر پاکستان تک، خطے کے امن کو شدید خطرات کا سامنا
خصوصی رپورٹ: عظیم الشان ٹی وی
خطۂ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا اس وقت ایک انتہائی نازک سیکیورٹی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ عالمی طاقتوں اور علاقائی ممالک کی جانب سے مسلسل ایسی رپورٹس سامنے آ رہی ہیں جو افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی بڑھتی ہوئی طاقت اور ان کے نیٹ ورکس کی موجودگی کی تصدیق کرتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں روسی خفیہ ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ ایک مفصل رپورٹ نے عالمی برادری، بالخصوص ہمسایہ ممالک کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق، افغانستان ایک بار پھر عالمی دہشت گردوں کی بھرتی، تربیت اور شدت پسندی پھیلانے کا سب سے بڑا مرکز بن کر ابھرا ہے۔
داعش خراسان (ISKP) کا بڑھتا ہوا نیٹ ورک اور وسطی ایشیائی ممالک
روسی جریدے میں شائع ہونے والی انٹیلیجنس رپورٹ کے مطابق، عالمی دہشت گرد تنظیم داعش کا مقامی دھڑا، جسے ‘ولایت خراسان’ یا ‘داعش خراسان’ کہا جاتا ہے، افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے اپنے نیٹ ورک کو تیزی سے پھیلا رہا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ گروپ اب صرف افغانستان تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے وسطی ایشیائی ممالک کے شہریوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
داعش خراسان نے وسطی ایشیا کے مختلف ممالک سے معصوم اور نظریاتی طور پر کمزور افراد کو ورغلانے اور انہیں اپنے دہشت گرد نیٹ ورکس میں شامل کرنے کے لیے ایک منظم مہم شروع کر رکھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جن ممالک کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا جا رہا ہے ان میں درج ذیل شامل ہیں:
-
تاجکستان
-
ازبکستان
-
کرغزستان
-
قازقستان
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، ان ممالک کے علاوہ روسی سرحدوں کے اندر کام کرنے والے مختلف مزدوروں اور تارکینِ وطن کو بھی مالی اور نظریاتی لالچ دے کر اپنے ساتھ ملانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ یہ نیٹ ورکس نہ صرف سرحد پار بھرتیاں کر رہے ہیں بلکہ ان وسطی ایشیائی ممالک کے اندر خفیہ سیلز (Sleeper Cells) قائم کر کے بڑے پیمانے پر دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی بھی کر رہے ہیں۔
مبینہ گرفتاریاں: روسی انٹیلیجنس رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ تاجکستان اور ازبکستان میں حالیہ دنوں میں داعش کے کئی خطرناک کارندوں کو گرفتار کیا گیا ہے، جو افغانستان میں بیٹھے اپنے آقاؤں کے اشارے پر ان ممالک میں تخریب کاری کا ارادہ رکھتے تھے۔
افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد گروہ سرگرم: روسی سلامتی کونسل
دہشت گردی کے اس پھیلاؤ پر روس کی اعلیٰ قیادت نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ روسی سلامتی کونسل کے سیکرٹری کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ افغانستان اس وقت محض کسی ایک گروپ کی پناہ گاہ نہیں ہے، بلکہ وہاں 20 سے زائد چھوٹے اور بڑے جنگجو گروہ مکمل آزادی کے ساتھ آپریٹ کر رہے ہیں۔
یہ گروہ نہ صرف افغانستان کے اندرونی استحکام کو نقصان پہنچا رہے ہیں، بلکہ سیکیورٹی کونسل کے مطابق، یہ پورے خطے بشمول روس اور چین کے سیکیورٹی مفادات کے لیے ایک براہِ راست اور مستقل خطرہ بن چکے ہیں۔ سرحدوں پر نگرانی بڑھانے اور انٹیلیجنس شیئرنگ کے باوجود، افغانستان کی موجودہ انتظامیہ ان گروہوں پر قابو پانے میں ناکام نظر آتی ہے۔
پاکستان کا اصولی مؤقف اور ڈی جی آئی ایس پی آر کا اہم بیان
جہاں روسی رپورٹ نے وسطی ایشیا کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجائی ہے، وہی پاکستان طویل عرصے سے عالمی برادری کو اس صورتحال سے آگاہ کرتا آ رہا ہے۔ پاکستان نے متعدد بار بین الاقوامی فورمز پر یہ مؤقف اپنایا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے اٹھنے والی دہشت گردی کی لہر سب سے زیادہ پاکستان کو متاثر کر رہی ہے۔
حال ہی میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کنے پریس کانفرنس کے دوران اس اہم مسئلے پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق:
“علاقاتی اور عالمی سطح کے متعدد دہشت گرد گروہ اس وقت افغانستان کی سر زمین سے براہِ راست آپریٹ کر رہے ہیں۔ افغانستان ان دہشت گردوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ اور سٹریٹجک مرکز بن چکا ہے، جہاں سے وہ پاکستان سمیت دیگر ممالک کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔”
پاکستان کا اصرار ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور دیگر شدت پسند تنظیمیں افغان سر زمین پر موجود محفوظ ٹھکانوں اور جدید ترین اسلحے کی بدولت پاکستان میں معصوم شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا رہی ہیں۔