ہوم سیریز میں سب اپنی پچز بناتے ہیں، ہم نے بھی سیریز جیتنی تھی: شاہین آفریدی

ہم نے بھی سیریز جیتنی تھی: شاہین آفریدی

پاکستان کرکٹ ٹیم نے ہوم گراؤنڈ پر ایک بار پھر اپنی بالادستی ثابت کرتے ہوئے آسٹریلیا کو ون ڈے سیریز میں شکست دے کر تاریخی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ سیریز کے فیصلہ کن اور تیسرے میچ میں شاندار فتح کے بعد قومی ون ڈے ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے میچ، پچز کی صورتحال اور مستقبل کے پلانز کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔ کپتان کا کہنا ہے کہ ہوم ایڈوانٹیج ہر ملک حاصل کرتا ہے اور ہمارا مقصد بھی صرف اور صرف سیریز میں فتح حاصل کرنا تھا۔

آسٹریلیا کے خلاف تیسرے ون ڈے میں فتح اور سیریز کا احوال

جمعرات کے روز لاہور میں کھیلے گئے سیریز کے تیسرے اور آخری ون ڈے میچ میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 4 وکٹوں سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز 1-2 سے اپنے نام کی۔ اس میچ میں پاکستانی بالرز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کینگروز کو محض 157 رنز پر ڈھیر کر دیا۔ 158 رنز کا آسان ہدف گرین شرٹس نے اڑتالیسویں اوور کے بجائے 42 ویں اوور میں 6 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔

اس فتح کے ساتھ ہی پاکستان نے ہوم گراؤنڈ پر آسٹریلیا کے خلاف ایک اور یادگار سیریز اپنے نام کی، جس پر ملک بھر کے کرکٹ شائقین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

پچز کی صورتحال اور ہوم ایڈوانٹیج پر کپتان کا موقف

میچ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کپتان شاہین آفریدی نے پچز کے حوالے سے ہونے والی تنقید کا جواب دیا۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا:

“دنیا بھر میں جب بھی کوئی ٹیم اپنی ہوم سیریز کھیلتی ہے، تو وہ اپنی کنڈیشنز اور پچز کا فائدہ اٹھاتی ہے۔ ہم نے بھی سیریز جیتنی تھی، اس لیے پچز اسی حساب سے تیار کی گئیں۔”

شاہین آفریدی نے تسلیم کیا کہ سیریز کے دوران پچز کافی مشکل تھیں اور ان پر رنز بنانا آسان کام نہیں تھا، لیکن ہمارے بلے بازوں اور بالرز نے صورتحال کے مطابق بہترین کھیل پیش کیا اور فتح کو ممکن بنایا۔

ٹیم کمبینیشن اور کھلاڑیوں کی حمایتhome series

شاہین آفریدی نے ٹیم میں تسلسل برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں کو مسلسل موقع دینے کے لیے انہوں نے وننگ کمبینیشن میں زیادہ تبدیلیاں نہیں کیں۔ انہوں نے اسکواڈ کے سینیئر کھلاڑیوں بالخصوص شاداب خان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ شاداب پر ماضی میں کافی سوالات اٹھائے گئے، لیکن اس اہم میچ میں انہوں نے نپی تلی بالنگ کی، لائن اور لینتھ پر کنٹرول دکھایا اور ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔

فاسٹ بالنگ کے انتخاب پر بات کرتے ہوئے کپتان نے واضح کیا کہ کنڈیشنز کو مدنظر رکھتے ہوئے دو باقاعدہ فاسٹ بالرز کھلانے کا فیصلہ کیا گیا تھا، جس میں حارث رؤف سب سے بہترین چوائس ثابت ہوئے۔ انہوں نے میڈیا اور شائقین سے اپیل کی کہ وہ سینیئر کھلاڑیوں پر تنقید کے بجائے انہیں تھوڑا وقت اور موقع دیں، کیونکہ تمام سینیئرز فارم میں واپس آنے اور اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔

مستقبل کی حکمتِ عملی اور ورلڈ کپ 2027 کا پلان

جب کپتان سے آنے والے آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ کے بارے میں سوال کیا گیا، تو شاہین آفریدی نے دھیمے لہجے میں جواب دیا کہ ورلڈ کپ کے انعقاد میں ابھی تقریباً 14 سے 15 ماہ کا وقت باقی ہے۔ اتنے طویل وقت سے پہلے کسی بھی قسم کی حتمی حکمتِ عملی یا ٹیم کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ فی الحال ٹیم کی توجہ موجودہ سیریز جیتنے اور نوجوان کھلاڑیوں کو تیار کرنے پر مرکوز ہے۔

Related Posts