محکمہ موسمیات نے سندھ میں ہیٹ ویوبھر میں گرمی کی شدت میں غیر معمولی اضافے کے پیشِ نظر خبردار کیا ہے کہ صوبے کے بیشتر اضلاع آئندہ چند روز تک شدید ہیٹ ویو کی لپیٹ میں رہ سکتے ہیں، جبکہ مختلف شہروں میں درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
سمندری ہواؤں کی بحالی یا گرمی کی نئی لہر؟ محکمہ موسمیات نے جون کے پہلے ہفتے کا احوال جاری کر دیا
موسم کی خصوصی رپورٹ: عظیم الشان ٹی وی
صوبہ سندھ کے عوام پچھلے کئی روز سے جس شدید اور دم گھونٹ دینے والی گرمی کی لہر (ہیٹ ویو) کا سامنا کر رہے ہیں، اس کا کل یعنی اکتیس مئی کو آخری دن ہے۔ محکمہ موسمیات کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، مئی کے مہینے کا اختتام اس شدید ترین موسمی لہر کے خاتمے کے ساتھ ہو رہا ہے۔ اس بڑی تبدیلی کے بعد اب شہریوں کے ذہنوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا جون کا پہلا ہفتہ کراچی اور دیگر ساحلی اضلاع کے لیے کوئی راحت لے کر آئے گا یا سورج کی تپش مزید بڑھے گی؟
کیا جون کے پہلے ہفتے میں سمندری ہوائیں بحال ہوں گی؟
جناح ہسپتال کے واقعے اور شہر میں ہیٹ اسٹروک کے بڑھتے ہوئے کیسز کے بعد یہ موسمیاتی اپڈیٹ شہریوں کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ محکمہ موسمیات کے ماہرین نے اس حوالے سے ایک تفصیلی الرٹ جاری کیا ہے جس کے مطابق:
-
سمندری ہواؤں کی جزوی بحالی: جون کے پہلے ہفتے (یکم جون سے سات جون) کے دوران کراچی میں گرمی کی شدت میں معمولی کمی کا امکان ہے۔ مئی کے آخری دنوں میں بند ہونے والی سمندری ہوائیں جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہوں گی، جس سے رات کے وقت موسم قدرے بہتر محسوس ہوگا۔
-
ہوا میں نمی کا تناسب: ماہرینِ موسم کا کہنا ہے کہ سمندری ہوائیں چلنے کے باوجود ہوا میں نمی کا تناسب زیادہ رہے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ درجہ حرارت پینتالیس ڈگری سے گر کر اڑتیس یا انتالیس ڈگری سیلسیس تک آ جائے گا، لیکن حبس (گرمی کی اصل تپش) بدستور بیالیس سے چوالیس ڈگری تک محسوس کی جائے گی۔
اندرونِ سندھ کے اضلاع کا موسمیاتی احوال
کراچی کے برعکس، اندرونِ سندھ کے اضلاع جیسے لاڑکانہ، سکھر، دادو، جیکب آباد اور نوابشاہ میں ہیٹ ویو کا باقاعدہ الرٹ تو ختم ہو جائے گا، لیکن مئی کے بعد جون کا مہینہ بھی ان علاقوں میں روایتی طور پر شدید گرم رہے گا۔
ان اضلاع میں جون کے پہلے ہفتے کے دوران بھی اوسط درجہ حرارت چھیالیس سے اڑتالیس ڈگری سیلسیس کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ گرم اور خشک ہواؤں (لو) کا سلسلہ دوپہر کے وقت بدستور برقرار رہے گا، اس لیے ان علاقوں کے کسانوں اور شہریوں کو بدستور احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔
محکمہ موسمیات کی تنبیہ: مئی کی نسبت جون کے مہینے میں حبس کا عنصر زیادہ غالب رہتا ہے۔ اس لیے شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ہیٹ ویو ختم ہونے کے باوجود پانی کا استعمال کم نہ کریں اور خاص طور پر دوپہر کے وقت بلا ضرورت کھلے آسمان تلے نکلنے سے گریز کریں۔
خلاصہ
خلاصہ یہ ہے کہ اکتیس مئی کے بعد مئی کی یہ جان لیوا ہیٹ ویو تو ختم ہو جائے گی اور کراچی میں سمندری ہوائیں بھی چلنا شروع ہوں گی، لیکن جون کا پہلا ہفتہ اپنے ساتھ حبس کی تپش ضرور لائے گا۔ عظیم الشان ٹی وی اپنے تمام قارئین سے گزارش کرتا ہے کہ وہ گرمی کے اس بدلتے ہوئے موسم میں اپنی اور اپنے بچوں کی صحت کا خاص خیال رکھیں۔