تحصیل جتوئی میں سفاکیت: قاری کا طالب علم پر تشدد، بچہ اٹھنے بیٹھنے سے قاصر
مظفر گڑھ، جتوئی: پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ کی تحصیل جتوئی سے ایک انتہائی افسوسناک اور انسانیت سوز واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک مقامی دینی درسگاہ کے قاری نے اپنے ہی معصوم طالب علم پر وحشیانہ تشدد کر کے ظلم اور سفاکیت کی تمام حدیں پار کر دیں۔ تشدد کا شکار ہونے والا بچہ اس وقت شدید جسمانی اور ذہنی صدمے سے دوچار ہے اور درد کی شدت کے باعث حرکت کرنے سے بھی قاصر ہے۔
واقعے کی لرزہ خیز تفصیلات
رپورٹ کے مطابق، یہ واقعہ تحصیل جتوئی کے نواحی علاقے رامپور اول میں واقع جامع مسجد مٹھا سائیں (نزد برائٹ فیوچر اسکول) میں پیش آیا۔ جہاں قاری عبدالخالق نامی استاد نے اپنے طالب علم محمد فرقان ساجد پر بے پناہ اور بے دردی سے ڈنڈوں کی برسات کر دی۔
مقامی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق، قاری عبدالخالق نے مبینہ طور پر درسگاہ کے دیگر چار طالب علموں کو زبردستی مجبور کیا کہ وہ محمد فرقان ساجد کو پکڑیں۔ بچوں کے جکڑنے کے بعد، قاری نے معصوم طالب علم پر لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے وحشیانہ وار کیے۔ صرف یہی نہیں، بلکہ بدترین مارپیٹ کے بعد معصوم بچے کو کئی گھنٹوں تک ایک اندھیرے کمرے میں بند رکھا گیا، جس کی وجہ سے بچے کی ذہنی اور جسمانی حالت مزید بگڑ گئی۔
متاثرہ بچے کی حالت اور خاندانی ذرائع کا مؤقف
تشدد کا شکار ہونے والا بچہ، محمد فرقان ساجد، علاقے کی معروف شخصیت محمد اعظم نمڑڈی کا بھتیجا ہے۔ خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ تشدد اس قدر شدید اور بے رحمی سے کیا گیا ہے کہ معصوم بچہ گہرے زخموں اور شدید درد کی وجہ سے اب اٹھنے بیٹھنے سے بھی بالکل قاصر ہو چکا ہے۔
بچے کے والدین اور لواحقین شدید صدمے کی حالت میں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ تعلیم اور دین کی تدریس کے نام پر معصوم بچوں کو اس طرح وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانا کسی بھی طور پر قابلِ قبول نہیں ہے۔
معاشرتی ردِعمل اور عوامی غم و غصہ
اس اندوہناک واقعے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی، جس کے بعد جتوئی اور گردونواح کے علاقوں میں شدید تشویش اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مقامی شہریوں، سول سوسائٹی کے ارکان اور انسانی حقوق کے کارکنا نے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائی جا رہی ہے اور ملزم قاری کی فوری گرفتاری کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کی اپیل
متاثرہ خاندان اور علاقے کے معززین نے وزیر اعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب اور ڈی پی او مظفر گڑھ سے پرزور التماس کی ہے کہ اس سنگین واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ:
-
ظالم قاری عبدالخالق کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر (FIR) درج کی جائے۔
-
ملزم کو گرفتار کر کے عبرت ناک قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
-
معصوم محمد فرقان ساجد کو فوری طور پر طبی و نفسیاتی امداد فراہم کی جائے اور اسے انصاف دلایا جائے۔
اسکولوں اور مدارس میں کارپورل پنشمنٹ (جسمانی سزا) کا قانون
پاکستان میں بچوں پر تشدد اور جسمانی سزا (Corporal Punishment) کے خلاف سخت قوانین موجود ہیں۔ پنجاب چائلڈ پروٹیکشن بیورو اور حکومتِ پنجاب کی جانب سے تعلیمی اداروں اور مدارس میں بچوں کو مار پیٹ کا نشانہ بنانے پر مکمل پابندی عائد ہے۔ اس کے باوجود، جتوئی جیسے دیہی علاقوں میں اس طرح کے واقعات کا رونما ہونا انتظامیہ کی کارکردگی اور قوانین پر عملدرآمد کے حوالے سے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
مقامی دانشوروں کا کہنا ہے کہ جب تک ایسے سفاک عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر عبرت کا نشان نہیں بنایا جائے گا، تب تک معصوم بچوں کا مستقبل اور ان کی جانیں غیر محفوظ رہیں گی۔
اس سے قبل بھی مظفر گڑھ اور گردونواح میں بچوں سے زیادتی اور تشدد کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں، جن کی تفصیلات آپ ہماری تفصیلی رپورٹ مظفر گڑھ کرائم ڈائری میں پڑھ سکتے ہیں۔
تعلیمی اداروں میں جسمانی سزا (Corporal Punishment) کا قانون
پاکستان میں بچوں پر تشدد کو روکنے کے لیے سخت قوانین نافذ ہیں۔ حکومتِ پنجاب کی جانب سے “مار نہیں پیار” کی مہم کے تحت اسکولوں اور مدارس میں بچوں کو مار پیٹ کا نشانہ بنانے پر مکمل پابندی عائد ہے۔ اس قانون کی مکمل تفصیلات اور سزاؤں کے بارے میں جاننے کے لیے آپ پنجاب چائلڈ پروٹیکشن بیورو آفیشل پورٹل پر جا کر اس ایکٹ کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔