پی ٹی آئی کو بڑا جھٹکا 2026: سپریم جوڈیشل کونسل نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف شکایت خارج کر دی

سپریم جوڈیشل کونسل کا بڑا فیصلہ: پی ٹی آئی کو بڑا جھٹکا | چیف الیکشن کمشنر کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست مسترد

تحریر: ادارتی صفحہ بروز: 2 جون 2026

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کو قانونی محاذ پر ایک اور بڑے دھچکے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدالتی باڈی، سپریم جوڈیشل کونسل نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کے خلاف دائر کی گئی پی ٹی آئی کی شکایت کو باقاعدہ طور پر خارج کر دیا ہے۔ کونسل کی جانب سے اس اہم فیصلے کے حوالے سے تحریکِ انصاف کے سینیئر رہنما عمر ایوب خان کو بھی تحریری طور پر مطلع کر دیا گیا ہے، جنہوں نے یہ درخواست دائر کی تھی۔

عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات اور پی ٹی آئی کا موقف

یہ قانونی چارہ جوئی عمر ایوب خان نے بطور سیکریٹری جنرل پاکستان تحریکِ انصاف دائر کی تھی۔ اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ سال دو ہزار چوبیس میں منعقد ہونے والے عام انتخابات میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں اور دھاندلی کی گئی، جس کی ذمہ داری الیکشن کمشنر پر عائد ہوتی ہے۔ پی ٹی آئی نے اپنی شکایت میں مطالبہ کیا تھا کہ انتخابی عمل کو شفاف بنانے میں ناکامی پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کے ضابطہ اخلاق کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور انہیں عہدے سے ہٹایا جائے۔

کونسل کا اجلاس اور درخواست مسترد ہونے کی وجوہات

ذرائع کے مطابق، سپریم جوڈیشل کونسل نے رواں سال گیارہ فروری کو ہونے والے اپنے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں اس حساس شکایت کا تفصیلی جائزہ لیا تھا۔ کونسل نے درخواست میں اٹھائے گئے تمام نکات، الیکشن ایکٹ کے قوانین اور آئینی دائرہ اختیار کے تمام پہلوؤں کا گہرائی سے معائنہ کیا۔

تمام قانونی پہلوؤں پر غور و خوض کرنے کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل نے متفقہ طور پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی یہ شکایت کونسل کے دائرہ اختیار اور مقررہ قانونی معیار پر پورا نہیں اترتی۔ کونسل نے اس درخواست کو “ناقابلِ سماعت” قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے، جس کے بعد اب چیف الیکشن کمشنر کے خلاف اس فورم پر قانونی کارروائی کا باب بند ہو گیا ہے۔

سیاسی منظر نامے پر فیصلے کے اثرات

سیاسی اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے اس فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان کی پوزیشن مزید مستحکم ہو گئی ہے۔ تحریکِ انصاف طویل عرصے سے انتخابی نتائج پر سوالات اٹھاتی آئی ہے اور یہ درخواست ان کی قانونی جدوجہد کا ایک بڑا حصہ تھی۔ اس فیصلے کے بعد اب پی ٹی آئی کو انتخابی عذر داریوں کے لیے دیگر قانونی راستوں یا انتخابی ٹربیونلز پر ہی انحصار کرنا ہوگا۔

Related Posts

Cashew Nuts Online: A Complete Guide to Buying Quality Cashews
  • October 13, 2025

Continue reading