پاکستان تحریک انصاف کا گلگت بلتستان انتخابات مسترد کرنے کا اعلان:یومِ سیاہ کا فیصلہ: دھاندلی کے الزامات اور احتجاجی لائحہ عمل
پاکستان کے سیاسی میدان میں ایک نیا پینڈورا باکس کھل گیا ہے۔ گلگت بلتستان الیکشن کے حالیہ نتائج، جن میں پیپلز پارٹی نے 9 نشستیں حاصل کر کے میدان مار لیا ہے، کو پاکستان تحریک انصاف (PTI) نے قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے ان انتخابات کو “جعلی اور دھاندلی زدہ” قرار دیتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
پی ٹی آئی قیادت کا مؤقف ہے کہ عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارا گیا ہے اور وہ اس کے خلاف ہر قانونی اور جمہوری فورم پر آواز اٹھائیں گے۔
بیرسٹر گوہر کی پریس کانفرنس کے اہم نکات اور ثبوتوں کے دعوے
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے میڈیا کے سامنے چند ایسے ٹھوس نکات اور دعوے رکھے جنہیں وہ اپنی جیت اور انتخابی انجینئرنگ کا ثبوت مانتے ہیں:
۱. فارم 45 اور فارم 47 کا تنازع
بیرسٹر گوہر نے انکشاف کیا کہ پولنگ اسٹیشنز کے نتائج (فارم 45) کے مطابق پی ٹی آئی کئی حلقوں میں واضح برتری حاصل کر چکی تھی، لیکن جب آر او آفس سے حتمی نتیجہ (فارم 47) جاری کیا گیا تو نتائج کو مبینہ طور پر تبدیل کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا:
“اس وقت تک ہمارے پاس صرف 3 حلقوں کے فارم 47 فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ ہم 8 نشستوں پر 100 فیصد واضح اکثریت سے جیت رہے تھے۔ قانونی طور پر ان حلقوں کا فارم 47 فوری طور پر ہمیں ملنا چاہیے تھا لیکن اسے دانستہ طور پر روکا گیا۔”
۲. یومِ سیاہ اور ملک گیر احتجاج کا اعلان
تحریک انصاف نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس مبینہ انتخابی چوری کو خاموشی سے تسلیم نہیں کرے گی۔ جس دن گلگت بلتستان اسمبلی کے نومنتخب ارکان حلف اٹھائیں گے، اس دن پی ٹی آئی پورے خطے اور ملک بھر میں “یومِ سیاہ” منائے گی اور بھرپور احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔
۳. وائٹ پیپر کا اجرا
پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کی جانبداری اور مبینہ دھاندلی کے طریقوں کو بے نقاب کرنے کے لیے ایک تفصیلی ‘وائٹ پیپر’ مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس دستاویز میں تمام حلقوں کے فارم 45 اور فارم 47 کے تضاد کو دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ عوام اور عالمی میڈیا کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
انتخابی نتائج کا تقابلی جائزہ (پی پی پی بمقابلہ پی ٹی آئی الزامات)
الیکشن کمیشن کے جاری کردہ سرکاری و غیر سرکاری نتائج کے مطابق صورتحال کچھ یوں ہے:
سرکاری نتائج کے مطابق پی ٹی آئی اب تک براہِ راست کوئی بھی نشست جیتنے میں ناکام رہی ہے، تاہم پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ یہ صفر نشستیں دراصل دھاندلی کا نتیجہ ہیں کیونکہ ان کے امیدواروں بشمول غذر اور گلگت کے حلقوں میں ہزاروں ووٹ غائب کیے گئے۔ مثال کے طور پر جی بی 2 (گلگت 2) میں ن لیگ کے حافظ حفیظ الرحمن کی کامیابی پر بھی اپوزیشن کے بعض حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کی رائے اور مستقبل کا منظرنامہ
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ان نتائج کو مسترد کیے جانے کے بعد گلگت بلتستان میں بننے والی نئی حکومت کو شدید سیاسی عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر پی ٹی آئی اپنے فارم 45 کے ثبوت عدالتوں یا الیکشن ٹریبونلز میں ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو کئی حلقوں کے نتائج تبدیل یا کالعدم ہو سکتے ہیں۔
ملک میں جاری دیگر اہم سرکاری اسکیموں اور معاشی فیصلوں، جیسے کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے محدود ریلیف پیکیج کی تیاری، کے بارے میں جاننے کے لیے آپ ہماری تفصیلی معاشی رپورٹ بھی دیکھ سکتے ہیں۔
نتیجہ
گلگت بلتستان کے انتخابات نے خطے میں ایک نئی سیاسی جنگ چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف پیپلز پارٹی آزاد امیدواروں کو ساتھ ملا کر حکومت سازی کی تیاری کر رہی ہے، تو دوسری طرف پی ٹی آئی وائٹ پیپر اور احتجاج کے ذریعے اس پورے عمل کی قانونی حیثیت پر سوالیہ نشان لگا رہی ہے۔ آنے والے دن گلگت بلتستان کی سیاست کے لیے انتہائی اہم ہوں گے، جہاں یہ فیصلہ ہوگا کہ بیرسٹر گوہر کے پیش کردہ ثبوت عدالتوں میں برقرار رہ پاتے ہیں یا نہیں۔