پاکستان بھارت مذاکرات 2026: جنگ بندی کے بعد امن کی راہ ہموار، بھارتی حلقوں میں بات چیت کی حمایت میں اضافہ
اسلام آباد: مئی 2025 میں ہونے والی جنگ بندی کے تقریباً ایک سال بعد اب پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار ہوتی نظر آ رہی ہے۔ بھارت میں مختلف سیاسی، مذہبی اور فوجی حلقوں سے پاکستان کے ساتھ بات چیت کی حمایت میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں جسے اسلام آباد نے مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
آر ایس ایس رہنما کا اہم بیان
بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کے نظریاتی سرپرست ادارے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سیکرٹری جنرل دتاترے ہوسابالے نے 12 مئی کو ایک بھارتی میڈیا انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے ہمیشہ ایک دروازہ کھلا رہنا چاہیے۔ ان کا یہ بیان انتہائی اہم ہے کیونکہ آر ایس ایس وہی تنظیم ہے جو بی جے پی کو نظریاتی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ عالمی سیاست کے تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ بیان محض علامتی نہیں بلکہ اس کے پیچھے گہری سیاسی حکمت عملی ہے۔
مقبوضہ کشمیر کے رہنماؤں کی حمایت
مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے بھی ہوسابالے کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہیے۔ ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ بات چیت سے ہی حل ہو سکتا ہے۔ ڈان نیوز کے مطابق بھارتی حکومت نے ابھی تک ان بیانات کا باضابطہ جواب نہیں دیا لیکن سفارتی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔
پاکستان کا خیر مقدم
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ بھارت سے آنے والی مذاکرات کی آوازیں ایک مثبت پیشرفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ امن اور بات چیت کا راستہ اختیار کیا ہے اور اسلام آباد کو امید ہے کہ نئی دہلی میں جنگ کی آگ بھڑکانے کی سوچ رکھنے والوں کا اثر و رسوخ آہستہ آہستہ کم ہوگا۔ پاکستانی سیاست کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اب دونوں ممالک کے درمیان معمول کے سفارتی تعلقات بحال کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
مارکہ حق کی پہلی سالگرہ کا پس منظر
یاد رہے کہ اپریل 2025 میں مقبوضہ کشمیر کے پہلگام میں بندوق برداروں کے حملے میں 26 بھارتی سیاح ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد بھارت نے آپریشن سندور کے نام سے پاکستانی علاقوں پر حملے کیے۔ پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے مارکہ حق کا آغاز کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے 10 مئی 2025 کو جنگ بندی ہوئی۔ الجزیرہ کے تجزیہ کے مطابق اس جنگ بندی کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران اور امریکہ کے درمیان بھی ثالثی کا کردار ادا کیا جس سے پاکستان کا عالمی قد کاٹھ نمایاں طور پر بڑھا ہے۔
ڈھاکہ میں تاریخی مصافحہ
31 دسمبر 2025 کو بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کی تجہیز و تکفین کے موقع پر بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق سے مصافحہ کیا جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں نرمی کی علامت قرار دیا گیا۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ پردے کے پیچھے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
کشمیر مسئلے کا حل ضروری
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاک بھارت مذاکرات کسی بھی شکل میں ہوں، کشمیر مسئلے کو نظرانداز کرکے پائیدار امن ممکن نہیں۔ پاکستان کے موقف کے مطابق کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے اور کشمیری عوام کو حق خود ارادیت ملنا چاہیے۔ مزید تازہ ترین عالمی خبریں پڑھنے کے لیے ہمارے ساتھ جڑے رہیں۔