مومنہ اقبال کے منگیتر حمزہ حبیب کے تہلکہ خیز انکشافات، ہراسانی تنازع مزید شدت اختیار کر گیا
پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ مومنہ اقبال ان دنوں ایک سنگین تنازع کے باعث خبروں کی زینت بنی ہوئی ہیں،
تاہم اس معاملے نے اس وقت نیا رخ اختیار کر لیا جب ان کے منگیتر حمزہ حبیب پہلی بار کھل کر سامنے آئے اور کئی چونکا دینے والے انکشافات کیے۔ یہ معاملہ صرف ایک ذاتی تنازع نہیں رہا بلکہ اس میں قانونی، سیاسی اور سماجی پہلو بھی شامل ہو چکے ہیں، جس نے اسے ایک ہائی پروفائل کیس بنا دیا ہے۔
حمزہ حبیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ مومنہ اقبال کے خلاف ہونے والی مبینہ کردار کشی اور دباؤ کے خلاف خاموش نہیں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مومنہ اقبال ان کی “ریڈ لائن” ہیں اور وہ کسی بھی صورت ان کے خلاف جھوٹے الزامات یا پروپیگنڈے کو برداشت نہیں کریں گے۔
حمزہ حبیب کے مطابق انہیں اور مومنہ اقبال کو مسلسل دھمکیوں کا سامنا رہا، خاص طور پر ان کے نکاح سے قبل حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے۔ ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں براہ راست دھمکیاں دی گئیں تاکہ وہ اس معاملے سے پیچھے ہٹ جائیں۔
سب سے سنسنی خیز دعویٰ یہ سامنے آیا کہ حمزہ حبیب کو کروڑوں روپے کی پیشکش کی گئی تاکہ وہ خاموشی اختیار کریں اور اس تنازع کو آگے نہ بڑھائیں۔ تاہم انہوں نے اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ انصاف کے لیے آخری حد تک جائیں گے۔
یہ تنازع دراصل اس وقت شروع ہوا جب مومنہ اقبال نے ایک صوبائی اسمبلی کے رکن پر ہراسانی، بلیک میلنگ اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے۔ انہوں نے پولیس میں درخواست بھی دائر کی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ انہیں اور ان کے منگیتر کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔
مومنہ اقبال کے مطابق یہ مسئلہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب انہوں نے ایک مبینہ شادی کی پیشکش کو مسترد کیا، جس کے بعد صورتحال بگڑتی چلی گئی۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ان کے خلاف جعلی مواد اور نجی ویڈیوز کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی تاکہ ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
دوسری جانب متعلقہ سیاسی شخصیت نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنا مؤقف پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ یہ معاملہ ایک پرانے ذاتی تعلق کا نتیجہ ہے۔ ان کے وکیل کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ دونوں کے درمیان کئی سال تک قریبی تعلق رہا اور معاملہ محض ہراسانی کا نہیں بلکہ پیچیدہ ذاتی تنازع ہے۔
اس کیس میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (NCCIA) بھی متحرک ہو چکی ہے، جہاں مومنہ اقبال نے مبینہ دھمکی آمیز پیغامات اور دیگر شواہد جمع کروائے ہیں۔
سیاسی سطح پر بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی ہے، اور حکومتی شخصیات نے واضح کیا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔
حمزہ حبیب کے بیانات کے بعد یہ کیس مزید حساس ہو گیا ہے کیونکہ اب یہ صرف مومنہ اقبال کا مؤقف نہیں بلکہ ان کے قریبی خاندان اور منگیتر بھی کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ صرف ذاتی نوعیت کا نہیں بلکہ اس میں دباؤ، طاقت اور اثر و رسوخ کے استعمال کے الزامات بھی شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایسے کیسز میں سچ تک پہنچنا ایک پیچیدہ عمل ہوتا ہے کیونکہ دونوں جانب سے سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ اس کیس نے پاکستان میں ہراسانی، خواتین کے حقوق اور طاقت کے غلط استعمال جیسے اہم موضوعات کو دوبارہ بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔
اگر اس معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف طریقے سے حل نکالا جاتا ہے تو یہ مستقبل میں ایسے کیسز کے لیے ایک مثال قائم کر سکتا ہے۔ دوسری صورت میں یہ تنازع مزید طول پکڑ سکتا ہے اور قانونی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں تمام نظریں تحقیقاتی اداروں اور عدالتوں پر مرکوز ہیں، جہاں سے آنے والے فیصلے نہ صرف اس کیس بلکہ مجموعی طور پر معاشرتی انصاف کے نظام پر بھی اثر انداز ہوں گے۔