لاہور میں موسلادھار بارش اور ژالہ باری سے موسم خوشگوار، لیسکو کے 100 سے زائد فیڈرز ٹرپ، دادو اور جیکب آباد میں درجہ حرارت 51 ڈگری

لاہور میں موسلادھار بارش اور ژالہ باری سے موسم بدل گیا، تیز ہواؤں کے باعث لیسکو کے سو سے زائد فیڈرز ٹرپ، بجلی معطل

مرکزی سرخی: پنجاب اور سندھ کے دیگر اضلاع میں سورج آگ برسا رہا ہے، دادو اور جیکب آباد میں پارہ اکاون ڈگری تک پہنچ گیا، شہری بلک اٹھے

موسم اور عوامی رپورٹ: عظیم الشان ٹی وی

پاکستان بھر میں جاری شدید معاشی اور ماحولیاتی لہر کے درمیان صوبائی دارالحکومت لاہور کے شہریوں کے لیے قدرت کا ایک بڑا اور خوبصورت تحفہ سامنے آیا ہے۔ لاہور اور اس کے مضافاتی علاقوں میں اچانک آسمان پر گہرے بادل چھانے کے بعد موسلادھار بارش اور بڑے پیمانے پر ژالہ باری (اولے پڑنے) کا سلسلہ شروع ہو گیا، جس سے پچھلے کئی روز سے جاری دم گھونٹ دینے والی گرمی کا زور ٹوٹ گیا ہے اور موسم انتہائی خوشگوار ہو گیا ہے۔ تاہم، اس ناگہانی بارش نے جہاں ایک طرف گرمی سے ستائے شہریوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دی ہے، وہیں دوسری طرف شہر کا بنیادی ڈھانچہ، بالخصوص بجلی کی فراہمی کا نظام بری طرح مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔

لاہور کے متاثرہ اور سیراب ہونے والے علاقے

عظیم الشان ٹی وی کے نمائندوں کے مطابق، یہ تیز رفتار بارش اور ٹھنڈی ہواؤں کا سلسلہ لاہور کے کسی ایک حصے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ شہر کے مقتدر اور گنجان آباد علاقوں جن میں گلبرگ، گڑھی شاہو، ایبٹ روڈ، ریگل چوک، لکشمی چوک، مسلم ٹاؤن، ماڈل ٹاؤن، مال روڈ، دھرم پورہ، صحافی کالونی، جیل روڈ، کلمہ چوک، مانگ چونگی اور فیروز پور روڈ شامل ہیں، وہاں بادل کھل کر برسے۔ کئی مقامات پر سڑکوں پر پانی جمع ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، جس سے ٹریفک کی روانی عارضی طور پر سست پڑ گئی ہے۔

بجلی کا بحران: لیسکو کے 100 سے زائد فیڈرز ٹرپ

بارش جہاں رحمت بن کر آئی، وہیں لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے کمزور نظام کے لیے ایک بار پھر زحمت ثابت ہوئی۔ لیسکو کے اندرونی ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق، موسلادھار بارش شروع ہوتے ہی اور تیز ہواؤں کے جھکڑ چلنے کے باعث شہر کے مختلف گرڈ اسٹیشنز سے منسلک ایک سو سے زائد بجلی کے فیڈرز یکدم ٹرپ کر گئے۔ فیڈرز ٹرپ ہونے کی وجہ سے لاہور کے آدھے سے زیادہ حصے میں اندھیرا چھا گیا اور بجلی کی فراہمی مکمل طور پر معطل ہو گئی۔

اس حوالے سے لیسکو حکام کا آفیشل مؤقف بھی سامنے آیا ہے۔ لیسکو انتظامیہ کا کہنا ہے کہ:

“بارش اور تیز ہوا کے دوران شارٹ سرکٹ اور کسی بھی بڑے حادثے سے بچنے کے لیے حفاظتی وجوہات کی بنا پر نظام کو عارضی طور پر خود بند (شٹ ڈاؤن) کیا گیا ہے۔ لیسکو کی ہنگامی ٹیمیں الرٹ ہیں، جیسے ہی بارش کا سلسلہ رکے گا، بجلی کی بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر شروع کر دیا جائے گا اور مرحلہ وار تمام علاقوں کو بجلی لوٹا دی جائے گی۔”

دوسری جانب ہولناک ہیٹ ویو: دادو اور جیکب آباد میں 51 ڈگری کا قہر

لاہور کی اس خوشگوار تبدیلی کے برعکس، ملک کے دیگر حصوں بالخصوص سندھ اور جنوبی پنجاب کے میدانی اضلاع اس وقت بدترین اور جان لیوا ہیٹ ویو (گرمی کی لہر) کی زد میں ہیں۔ محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق، سندھ کے اضلاع دادو اور جیکب آباد میں سورج نے قہر برسا دیا ہے، جہاں درجہ حرارت ریکارڈ اکاون (51) ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے۔

اتنے مہیب درجہ حرارت کی وجہ سے ان شہروں میں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ تپتی ہوئی سڑکیں دوپہر کے وقت بالکل سنسان ہو جاتی ہیں اور کاروباری مراکز بند رہنے پر مجبور ہیں۔ شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے، جبکہ بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ نے ان علاقوں کے باسیوں کی زندگی کو مزید اجیرن بنا دیا ہے۔ ماہرینِ صحت نے ان اضلاع کے شہریوں کو ہیٹ اسٹروک سے بچنے کے لیے شدید ترین احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ملک بھر میں گرمی کی شدت اور درجہ حرارت کے نئے ریکارڈز جاننے کے لیے ایکسپریس نیوز وزٹ کریں

Related Posts