امریکہ کا ایران کے خلاف بڑا معاشی ایکشن: ایک ارب ڈالر کے کرپٹو اثاثے ضبط کرنے کا اعلان

اشنگٹن سے بڑی خبر: امریکہ کا ایران کے خلاف سخت ترین ایکشن، ایک ارب ڈالر کے کرپٹو اثاثے ضبط کرنے کا اعلان

پابندیاں مرحلہ وار ختم ہوں گی’، امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا ایران کی پہلی بار جوہری مذاکرات پر آمادگی کا دعویٰ

عالمی و معاشی رپورٹ: عظیم الشان ٹی وی 

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تزویراتی  اور معاشی جنگ میں ایک نیا اور انتہائی اہم موڑ سامنے آیا ہے۔ واشنگٹن سے موصول ہونے والی تازہ ترین بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق، ریاستہائے متحدہ امریکہ نے ایران کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی ڈیجیٹل کارروائی کرتے ہوئے اس کے لگ بھگ ایک ارب ڈالر مالیت کے کرپٹو کرنسی اثاثے منجمد اور ضبط کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام کو عالمی مالیاتی نظام اور کرپٹو مارکیٹ میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی معاشی مہم کا تسلسل

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے واشنگٹن میں منعقدہ ‘ریگن نیشنل اکنامک فورم’ سے خطاب کرتے ہوئے اس اہم معاشی کارروائی کی تصدیق کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ ایران کے خلاف یہ حالیہ سخت ترین اقدام کوئی وقتی فیصلہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس وسیع تر معاشی اور سفارتی مہم کا تسلسل ہے جس کا آغاز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں کیا گیا تھا۔

امریکی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ایران پر زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ ڈالنے کی پالیسی کا مقصد تہران کو ایسے اقدامات سے روکنا ہے جو خطے اور دنیا کے امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرپٹو اثاثوں کی ضبطگی سے ایران کے مالیاتی نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچے گا جو وہ بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور عمان کا کردار

فورم کے دوران جب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم ترین بحری راستے ‘آبنائے ہرمز’  کی ناکہ بندی کے خاتمے اور اس سے متعلق امریکی حکمتِ عملی کے بارے میں سوال پوچھا گیا، تو انہوں نے واضح سفارتی مؤقف اپنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ایران پر سے جو بھی پابندیاں یا سخت اقدامات ہٹائے جائیں گے، وہ یکمشت نہیں بلکہ انتہائی سخت شرائط کے ساتھ مرحلہ وار  ختم کیے جائیں گے۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے خطے کے اہم ملک عمان کے حوالے سے بھی اسٹریٹجک تفصیلات شیئر کیں۔ اسکاٹ بیسنٹ نے انکشاف کیا کہ عمان کی حکومت نے امریکہ کو باقاعدہ طور پر یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں پر کوئی اضافی ٹیکس یا لیوی عائد نہیں کرے گا۔ تاہم، امریکی وزیر خزانہ نے ایک سخت وارننگ بھی دی کہ اگر عمان نے کسی بھی سطح پر ایران کی اقتصادی یا سفارتی معاونت کرنے کی کوشش کی، تو امریکہ عمان کے خلاف بھی سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے پر سنجیدگی سے غور کر سکتا ہے۔

جوہری معاملے پر ایران کی پہلی بار آمادگی: ایک بریک تھرو؟

اس پوری پریس کانفرنس اور خطاب کا سب سے سنسنی خیز پہلو ایران کا جوہری مذاکرات کے لیے لچک دکھانا تھا۔ امریکی وزیر خزانہ نے عالمی میڈیا کے سامنے یہ بڑا دعویٰ کیا کہ امریکہ کے مسلسل معاشی دباؤ اور سخت پابندیوں کے نتیجے میں پہلی بار ایران نے جوہری معاملے  پر دوبارہ سے میز پر بیٹھنے اور باقاعدہ بات چیت کرنے کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے حال ہی میں واشنگٹن میں جو انکشاف کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان نے پسِ پردہ کردار ادا کیا ہے، امریکی وزیر خزانہ کا یہ تازہ بیان اسی سلسلے کی ایک کڑی نظر آتا ہے۔ اگر ایران واقعی جوہری معاملے پر مذاکرات کے لیے تیار ہو جاتا ہے، تو یہ مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست کے لیے سال دو ہزار چھبیس کا سب سے بڑا بریک تھرو ثابت ہو سکتا ہے۔

امریکہ ایران کشیدگی اور عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات کی لائیو کوریج کے لیے وزٹ کریں

Related Posts