مشرقِ وسطیٰ میں بڑی پیش رفت: ڈونلڈ ٹرمپ کا اسرائیل اورحزب اللہ کے ساتھ معاہدے میں حملے روکنے کے اتفاق کا دعویٰ
تحریر: ادارتی صفحہ بروز: جون 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے حوالے سے چند انتہائی اہم اور حیران کن دعوے کیے ہیں، جس سے خطے میں جاری جنگ کے خاتمے اور امن کی نئی امیدیں پیدا ہو گئی ہیں۔ امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ایک طویل اور تفصیلی ٹیلیفونک رابطے کے بعد باقاعدہ بیان جاری کیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ ان کی گفتگو انتہائی حوصلہ افزا رہی ہے، جس کے بعد اب کوئی بھی اسرائیلی فوجی لبنان کے دارالحکومت بیروت نہیں جائے گا، بلکہ جو اسرائیلی فوجی بیروت کی طرف پیش قدمی کے راستے میں تھے، انہیں بھی فوری طور پر واپس بلا لیا گیا ہے۔
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے حوالے سے بھی بڑی پیش رفت کا انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اہم سفارتی نمائندوں کے ذریعے حزب اللہ کی قیادت سے بھی پسِ پردہ گفتگو ہوئی ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے مطابق، حزب اللہ نے اسرائیل پر اپنے تمام حملے روکنے پر مکمل اتفاق کر لیا ہے۔ معاہدے کے تحت اب اسرائیل ان پر حملہ نہیں کرے گا اور حزب اللہ کی طرف سے بھی اسرائیل پر کوئی حملہ نہیں کیا جائے گا، جس سے سرحدی علاقوں میں طویل عرصے بعد سکون کی لہر دوڑنے کا امکان ہے۔
ایران کے ساتھ تیز رفتار مذاکرات اور آبنائے ہرمز کا بحران
مشرقِ وسطیٰ کے سب سے بڑے کھلاڑی ایران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے واضح کیا کہ تہران کے ساتھ بھی اعلیٰ سطح پر بات چیت انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ جاری ہے۔ ایک بین الاقوامی اقتصادی ٹیلی ویژن چینل کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تعلقات اور عالمی معیشت پر اس کے اثرات پر کھل کر بات کی۔
امریکی صدر کا کہنا تھا:
-
مذاکرات کی حیثیت: ہم اس وقت ایران کے ساتھ بہت زیادہ اور مسلسل بات چیت کر رہے ہیں، اور ایران کی طرف سے ہمیں ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ وہ ان مذاکرات کو معطل یا ختم کرنا چاہتے ہیں۔
-
تیل کی قیمتیں اور آبنائے ہرمز: اگر ایران کے ساتھ مذاکرات خدانخواستہ ختم بھی ہو جائیں تو مجھے ذاتی طور پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اگر عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کی اہم شاہراہ یعنی آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ بھی گئیں، تو ہمیں اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔
-
ایرانی سفارت کاری کی تعریف: ایرانی اچھے جنگجو نہیں ہیں لیکن وہ دنیا کے بہترین اور منجھے ہوئے مذاکرات کار ہیں، اس لیے اس نازک موقع پر زیادہ بیانات دینے کے بجائے خاموش رہنا زیادہ بہتر حکمتِ عملی ہے۔
امریکی حکمتِ عملی: بمباری کے بجائے اقتصادی ناکہ بندی
امریکی صدر نے مستقبل کے لائحہ عمل کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ سخت لہجے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ امریکہ وہاں جا کر بم گرانا شروع کر دے گا یا کوئی نئی جنگ چھیڑے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کسی فوجی جارحیت کے بجائے پرامن اور خاموش طریقے سے ایران پر اپنی سخت اقتصادی اور تجارتی ناکہ بندی جاری رکھے گا، تاکہ اسے بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں لایا جا سکے۔ عالمی معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ کا یہ دعویٰ سچ ثابت ہوتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور عالمی معیشت کے لیے ایک تاریخی ٹرننگ پوائنٹ ہوگا۔
بین الاقوامی اقتصادی ٹیلی ویژن چینل کو دیے گئے خصوصی انٹرویو