پاکستان کا معاشی بحران 2026: ڈسکوز کی نجکاری اور سرکاری اداروں کے خسارے کی کہانی

پاکستان کا معاشی بحران 2026: ڈسکوز کی نجکاری اور سرکاری اداروں کے کھربوں کے خسارے کا سچ

تحریر: ادارتی صفحہ بروز: جون 2026

پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے نازک ترین معاشی موڑ پر کھڑا ہے۔ ملکی معیشت کے لیے اب صرف ترقی کا حصول ہی کافی نہیں رہا، بلکہ یہ ریاستی نظام کی بقا اور مالیاتی استحکام کا مسئلہ بن چکا ہے۔ ایک طرف حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے سخت اہداف کو پورا کرنے، ٹیکس نیٹ بڑھانے اور مالیاتی نظم و ضبط قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، تو دوسری طرف توانائی کے شعبے کا بڑھتا ہوا گردشی قرضہ اور سرکاری ملکیتی اداروں کے بے قابو خسارے ملکی خزانے کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومتِ پاکستان نے ایک بڑا اور جرات مندانہ قدم اٹھاتے ہوئے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

بجلی کمپنیوں کی نجکاری: حکومت کا نیا ماڈل اور ٹائم لائن

وزارتِ نجکاری کے حالیہ اعلانات کے مطابق، حکومت گزشتہ چھ ماہ سے ان بجلی کمپنیوں کی مالی تنظیمِ نو پر کام کر رہی تھی تاکہ غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاروں کو ایک صاف اور واضح حساباتی ریکارڈ فراہم کیا جا سکے۔ ماضی میں ڈسکوز کی نجکاری کے عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کمپنیوں کے اربوں روپے کے پرانے قرضے، پنشن کے واجبات اور اراضی کے تنازعات رہے ہیں۔

اس بار حکومت نے ایک منفرد حکمتِ عملی اپنائی ہے:

  • اراضی کا لیز ماڈل: کمپنیوں کی قیمتی زمینیں ڈسکوز کی نجکاری کے عمل کا حصہ نہیں ہوں گی، بلکہ وہ ایک علیحدہ سرکاری ادارے کے پاس رہیں گی اور خریدار کو کرایے پر دی جائیں گی۔ اس کا مقصد صارفین پر اضافی ٹیرف کے بوجھ کو روکنا ہے۔

  • اجارہ داری کا خاتمہ: مارکیٹ میں منڈی کی اجارہ داری کو روکنے کے لیے شرط رکھی گئی ہے کہ کوئی بھی سرمایہ کار تین سے زیادہ کمپنیوں کی بولی نہیں دے سکے گا۔

  • ٹائم لائن: سرمایہ کاروں کو اظہارِ دلچسپی کے لیے پینتالیس دن کا وقت دیا گیا ہے، جبکہ سال دو ہزار چھبیس کی آخری سہ ماہی تک تین بڑی بجلی کمپنیوں کی بولی کا عمل مکمل کرنے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔

بجلی چوری، لائن لاسز اور گردشی قرضے کا گٹھ جوڑ

پاکستان میں توانائی کے بحران کی اصل وجہ صرف بجلی پیدا نہ ہونا نہیں، بلکہ پیدا کی گئی بجلی کا درست نظام کے تحت صارفین تک نہ پہنچنا اور اس کی قیمت وصول نہ ہونا ہے۔ اِس بحران کے تین بڑے ستون ہیں:

  • تکنیکی نقصانات (لائن لاسز): ہمارا ترسیل اور تقسیم کا نظام اتنا پرانا اور فرسودہ ہو چکا ہے کہ گرڈ اسٹیشن سے نکلنے والی بجلی کا ایک بڑا حصہ تاروں کی خرابی اور تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے۔

  • بجلی چوری: ملک کے کئی علاقوں میں کنڈی کلچر اور میٹرز میں ہیر پھیر کے ذریعے کھلے عام بجلی چوری کی جاتی ہے، جس کا بوجھ ایماندار صارفین کو بھاری بلوں کی صورت میں اٹھانا پڑتا ہے۔

  • وصولی کی کمی: سرکاری محکموں اور بعض علاقوں سے بجلی کے بلوں کی وصولی سو فیصد نہیں ہوتی۔

جب بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیاں بجلی خریدتی ہیں لیکن تکنیکی نقصانات اور چوری کی وجہ سے اس کی پوری قیمت وصول نہیں کر پاتیں، تو وہ مرکزی پاور پرچیزنگ ایجنسی کو ادائیگی نہیں کر پاتیں۔ یہ نہ ادا کی گئی رقم “گردشی قرضہ” بن جاتی ہے، جو گھوم پھر کر دوبارہ حکومت کے گلے پڑتی ہے۔ نجی شعبے کی آمد سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ اسمارٹ میٹرز اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے چوری اور لائن لاسز پر قابو پایا جا سکے گا۔

سرکاری اداروں کے نقصانات: قومی خزانے میں گہرا سوراخ

تازہ ترین معاشی اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال دو ہزار پچیس میں سرکاری ملکیتی اداروں (جیسے پی آئی اے، اسٹیل ملز اور بجلی کمپنیوں) کے نقصانات آٹھ سو بتیس ارب روپے سے تجاوز کر گئے ہیں۔ اگر ان کے مجموعی خسارے پر نظر ڈالی جائے تو یہ ہولناک رقم تقریباً ساڑھے چھ کھرب روپے تک جا پہنچی ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خسارے دراصل پاکستان کے غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی پر بوجھ ہیں۔ جب کوئی ادارہ سالانہ اربوں روپے کا نقصان کرتا ہے، تو حکومت اسے بند کرنے یا اس کی اصلاح کرنے کے بجائے قومی خزانے سے مالی امدادی پیکیج یا گرانٹس دے کر زندہ رکھتی ہے۔ یہ وہی پیسہ ہے جو ملک کے ہسپتالوں، اسکولوں، سڑکوں اور پبلک ٹرانسپورٹ پر خرچ ہونا چاہیے تھا۔

چیلنجز اور آگے کا راستہ

اگرچہ بجلی کمپنیوں کی نجکاری معیشت کو بچانے کے لیے ناگزیر دکھائی دیتی ہے، لیکن یہ عمل چیلنجز سے خالی نہیں ہے۔ ملازمین کے روزگار کا تحفظ، سیاسی مخالفت اور نجکاری کے عمل میں شفافیت برقرار رکھنا حکومت کے لیے بڑے امتحانات ہیں۔ وزیرِ مملکت برائے نجکاری کے مطابق، ملازمین کو فوری طور پر فارغ نہیں کیا جائے گا بلکہ ایک مخصوص مدت تک ان کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

اگر حکومت دو ہزار چھبیس کے مقررہ ہدف کے مطابق شفاف طریقے سے یہ نجکاری مکمل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو یہ نہ صرف بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ ہمارے معاہدوں کو تقویت دے گی، بلکہ ملکی تاریخ کا ایک ایسا معاشی ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوگی جو پاکستان کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔

اگر حکومت دو ہزار چھبیس کے مقررہ ہدف کے مطابق شفاف طریقے سے یہ نجکاری مکمل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو یہ نہ صرف بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ ہمارے معاہدوں کو تقویت دے گی، بلکہ ملکی تاریخ کا ایک ایسا معاشی ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوگی جو پاکستان کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔

Related Posts