موسم کی سنگین صورتحال: پنجاب میں آندھی اور موسلا دھار بارش کی پیشگوئی، خیبر پختونخوا میں سیلاب کا خدشہ
تحریر: ادارتی صفحہ بروز: 2 جون 2026
ملک میں شدید گرمی کی لہر کے بعد موسم میں ایک بڑی تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آج سے مغربی ہواؤں کا ایک نیا اور طاقتور سلسلہ پاکستان کے بالائی علاقوں میں داخل ہو رہا ہے۔ اس نئے موسمیاتی نظام کے زیرِ اثر آج سے لے کر پانچ جون کے دوران صوبہ پنجاب کے بیشتر اضلاع میں تیز آندھی، گرج چمک اور شدید بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ موسم کی اس اچانک تبدیلی سے جہاں ایک طرف گرمی کا زور ٹوٹنے کی امید ہے، وہیں دوسری طرف بعض علاقوں میں شدید نقصانات کا خطرہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔
پنجاب میں موسلا دھار بارش اور ژالہ باری کا الرٹ
محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ کے مطابق، مغربی ہواؤں کے اس سلسلے کی وجہ سے پنجاب کے مختلف شہروں میں موسم شدید رخ اختیار کر سکتا ہے۔ صوبے کے کئی مقامات پر نہ صرف موسلا دھار بارش بلکہ تیز آندھی کے ساتھ ژالہ باری (اولے پڑنے) کی بھی پیشگوئی کی گئی ہے۔ ماہرین نے کسانوں اور شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ تیز آندھی اور ژالہ باری سے کھڑی فصلوں، کچے مکانات اور بجلی کے نظام کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
خیبر پختونخوا میں شدید گرمی اور گلیشیائی جھیلیں پھٹنے کا خطرہ
ایک طرف جہاں پنجاب میں بارشوں کا الرٹ ہے، وہیں دوسری طرف صوبہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، خیبر پختونخوا کے بالائی اضلاع میں غیر معمولی اور شدید گرمی کی وجہ سے پہاڑوں پر موجود برف تیزی سے پگھل رہی ہے۔ اس تیز پگھلاؤ کے نتیجے میں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے اور پہاڑی ندی نالوں میں اچانک شدید سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا شدید خطرہ ہے۔
انتظامیہ متحرک: پی ڈی ایم اے کا ہنگامی الرٹ جاری
موسم کی اس سنگین صورتحال اور سیلاب کے خطرے کے پیشِ نظر، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ہنگامی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے بالخصوص مندرجہ ذیل اضلاع کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے:
-
چترال
-
دیر
-
سوات
-
کوہستان
-
مانسہرہ
پی ڈی ایم اے نے ان تمام اضلاع کی مقامی انتظامیہ اور امدادی اداروں کو چوبیس گھنٹے متحرک رہنے کا حکم دیا ہے۔ مقامی آبادی اور سیاحوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دریاؤں اور برساتی نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔