پی ٹی آئی چھوڑ کر نون لیگ میں شامل ہونیوالے ایم این اے عثمان علی کے سنسنی خیز انکشافات

پی ٹی آئی قیادت کا فکسڈ میچ بے نقاب: مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے والے ایم این اے عثمان علی کے سنسنی خیز انکشافات

پاکستان کی سیاست میں وفاداریاں تبدیل کرنا اور پارٹیاں بدلنا کوئی نئی بات نہیں، لیکن بعض اوقات کسی سیاسی رہنما کا پارٹی چھوڑنا اور اس کے بعد کیے جانے والے انکشافات پورے سیاسی منظر نامے میں بھونچال لے آتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ حال ہی میں اس وقت ہوا جب پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے ٹکٹ پر الیکشن جیتنے والے اور بعد ازاں مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے والے رکنِ قومی اسمبلی عثمان علی نے پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے خلاف محاذ کھول دیا۔ انہوں نے ایک خصوصی اور تہلکہ خیز انٹرویو میں پی ٹی آئی کی لیڈرشپ پر ایسے سنگین الزامات عائد کیے ہیں جنھوں نے پارٹی کے اندرونی فیصلوں اور حکمتِ عملی پر کئی بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

فکسڈ میچ کی سیاست اور آزاد حیثیت کا معمہ

ایم این اے عثمان علی نے پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت پر سب سے بڑا اور سنگین الزام یہ لگایا ہے کہ پارٹی کی مرکزی لیڈرشپ نے اپنے ہی ارکان کو سیاسی طور پر فروخت کر دیا۔ انہوں نے کھل کر کہا کہ پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کی سیاست محض ایک فکسڈ میچ پر مبنی تھی اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کا پسِ پردہ کہیں نہ کہیں کوئی معاہدہ یا میچ فکس تھا۔ عثمان علی کے مطابق، اسی مبینہ میچ فکسنگ کے تحت ہی انہیں اور چند دیگر ارکان کو جان بوجھ کر الیکشن کمیشن کے سامنے آزاد ڈیکلیئر کرایا گیا تاکہ انہیں قانونی پیچیدگیوں میں الجھایا جا سکے۔ اس موقع پر انہوں نے پارٹی کے اندرونی فیصلوں اور مخصوص نشستوں کے معاملے پر سے پردہ اٹھاتے ہوئے اعتراف کیا کہ وہ حلف کی خلاف ورزی کرنے پر قوم اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے ہیں۔

بیرسٹر گوہر پر براہِ راست وار اور حلف نامے کا تنازع

انٹرویو کے دوران عثمان علی نے پی ٹی آئی کے موجودہ چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کو براہِ راست اپنے نشانے پر رکھا اور ان کے حوالے سے کئی چونکا دینے والے حقائق سامنے لائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ الیکشن جیتنے کے بعد تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے انہوں نے اپنا باقاعدہ حلف نامہ بیرسٹر گوہر کے پاس جمع کروایا تھا، لیکن چیئرمین نے اس حلف نامے کو الیکشن کمیشن میں جمع ہی نہیں کرایا۔ ایم این اے عثمان علی کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے بیرسٹر گوہر سے اس بات کا شکوہ کیا اور مطالبہ کیا کہ انہیں بھی دیگر ارکان کی طرح سنی اتحاد کونسل میں شامل کیا جائے، تو آگے سے انہیں انتہائی غیر سنجیدہ جواب ملا کہ “آپ آزاد ہی رہیں اور موجیں ماریں”۔

پانچ ارکانِ اسمبلی کو الگ تھلگ رکھنے کی حکمتِ عملی

مخصوص نشستوں اور پارٹی پوزیشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عثمان علی نے بتایا کہ جب تالیفِ قلب اور ارکان کی تقسیم کے عمل کے دوران اکتالیس اور انتالیس ارکان کی بات چل رہی تھی، تب بھی انہوں نے قیادت کو خبردار کیا تھا۔ انہوں نے بیرسٹر گوہر سے بارہا کہا تھا کہ انہیں آزاد حیثیت میں نہ چھوڑا جائے کیونکہ اس سے ان کا سیاسی مستقبل داؤ پر لگ سکتا ہے۔ تاہم، قیادت نے ان کی ایک نہ سنی اور ان سمیت پانچ ارکانِ قومی اسمبلی کو جان بوجھ کر آزاد رہنے دیا گیا، جبکہ باقی تمام ارکان کو منظم طریقے سے سنی اتحاد کونسل کا حصہ بنا دیا گیا۔

مسلم لیگ (ن) سے رابطوں کی اندرونی کہانی

عثمان علی نے اپنے انٹرویو کے آخر میں ایک اور سنسنی خیز دعویٰ کرتے ہوئے بتایا کہ پی ٹی آئی کے اندر ہی موجود ان کے بعض قریبی دوستوں نے انہیں مشورہ دیا تھا اور پیشکش کی تھی کہ وہ ان کا رابطہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے کروا دیتے ہیں۔ تاہم، عثمان علی کے مطابق انہوں نے اس وقت اس پیشکش کو صاف ٹھکرا دیا تھا اور پارٹی کے ساتھ وفادار رہنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن بعد میں قیادت کے معاندانہ رویے اور جان بوجھ کر الگ تھلگ کیے جانے کے بعد انہوں نے ن لیگ میں شامل ہونے کا حتمی فیصلہ کیا۔

یہ انکشافات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مخصوص نشستوں کا معاملہ ملک کی اعلیٰ عدالتوں اور الیکشن کمیشن میں زیرِ بحث رہا ہے، اور عثمان علی کے ان بیانات نے پی ٹی آئی کی اندرونی صفوں میں موجود اختلافات کو پوری قوم کے سامنے واضح کر دیا ہے۔

اگلی تحریر پڑھیں:

گلگت بلتستان انتخابات 2026: انتخابی مہم عروج پر، سیاسی سرگرمیوں میں تیزی

Related Posts