گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات 2026: انتخابی مہم عروج پر، سیاسی درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ
گلگت بلتستان میں سیاسی گہما گہمی اور انتخابی گونج اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے، جہاں سنہ دو ہزار چھبیس کے اسمبلی انتخابات کے لیے تمام سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں نے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے۔ دیامر کے بلند و بالا پہاڑوں سے لے کر گلگت کی وادیوں اور غذر کے خوبصورت میدانوں تک، ہر طرف سیاسی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس وقت پورے خطے میں بڑے بڑے جلسے، کارنر میٹنگز، عوامی ریلیاں اور روایتی ثقافتی سرگرمیاں نہ صرف انتخابی ماحول کو گرما رہی ہیں بلکہ ووٹرز کی توجہ حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ بھی بن چکی ہیں۔ جہاں ایک طرف سیاسی رہنما اپنے منشور کے ساتھ عوام کی عدالت میں موجود ہیں، وہاں دوسری طرف کارکنان کا جوش و خروش بھی دیدنی ہے۔
دیامر اور گلگت میں سیاسی قافلے اور انتخابی دفاتر متحرک
انتخابی مہم کے دوران دیامر کی تمام چھوٹی بڑی شاہراہوں پر سیاسی قافلوں کی آمد و رفت کا سلسلہ دن رات جاری ہے، جس نے پورے ضلع کو ایک سیاسی میدان میں تبدیل کر دیا ہے۔ دوسری جانب، مرکزی شہر گلگت میں صورتحال بالکل مختلف ہے جہاں مختلف سیاسی جماعتوں کے انتخابی دفاتر پارٹی ترانوں اور نعروں سے گونج رہے ہیں۔ انہی سیاسی سرگرمیوں کے مرکز میں استحکامِ پاکستان پارٹی کا انتخابی دفتر بھی شامل ہے، جہاں گزشتہ روز جشن کا سماں دیکھنے میں آیا اور کارکنوں نے اپنی قیادت کی آمد پر بھرپور جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔ اس حلقے (جی بی اے ٹو) سے استحکامِ پاکستان پارٹی کے امیدوار فتح اللہ خان نے میڈیا اور کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی کامیابی کے لیے گہری امید کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حلقے کے عوام کی بھرپور حمایت اور محبت ان کا سب سے بڑا اثاثہ ہے اور وہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہو کر عوام کی محرومیوں کا ازالہ کریں گے۔
مرکزی قیادت کی آمد اور انتخابی مہم میں تیزی
اس انتخابی مہم کو مزید جلا بخشنے کے لیے پاکستان کے دیگر حصوں سے بھی مرکزی سیاسی قیادت گلگت بلتستان کا رخ کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں استحکامِ پاکستان پارٹی پنجاب کے صدر رانا نذیر احمد خان نے گلگت کا دورہ کیا اور مرکزی انتخابی دفتر میں کارکنوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے پارٹی کارکنوں کے جذبے کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی جماعت گلگت بلتستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ایک واضح ایجنڈا رکھتی ہے۔ انہوں نے تمام حلقوں میں پارٹی امیدواروں کی پوزیشن کو مستحکم قرار دیتے ہوئے کامیابی کے لیے مکمل امید کا اظہار کیا۔ دوسری طرف، جی بی اے سولہ دیامر ٹو میں بھی سیاسی سرگرمیاں انتہائی تیز ہو چکی ہیں، جہاں استحکامِ پاکستان پارٹی کے امیدوار عتیق اللہ ایڈووکیٹ کی انتخابی مہم پورے زور و شور سے جاری ہے۔ عتیق اللہ ایڈووکیٹ کی جانب سے مختلف علاقوں میں عوامی رابطہ مہموں اور بڑے اجتماعات کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس میں مقامی عمائدین کی بڑی تعداد شرکت کر رہی ہے۔
ضلع غذر میں کانٹے دار مقابلے کی توقع اور اصل چیلنج
صرف گلگت اور دیامر ہی نہیں، بلکہ ضلع غذر میں بھی سیاسی درجہ حرارت مسلسل بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ غذر کے تینوں انتخابی حلقوں میں اس مرتبہ انتہائی مضبوط امیدوار آمنے سامنے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی تجزیہ کار یہاں کانٹے دار مقابلے کی توقع کر رہے ہیں۔ غذر سے استحکامِ پاکستان پارٹی کے امیدوار خان اکبر خان نے حلقے کی سیاسی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک اہم بیان جاری کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ میدانِ جنگ میں ان کا اصل اور بڑا مقابلہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار سے ہے۔ خان اکبر خان نے عزم ظاہر کیا کہ وہ نہ صرف الیکشن کا بھرپور مقابلہ کریں گے، بلکہ اس مرتبہ عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے آخری حد تک جائیں گے اور کسی کو بھی عوامی رائے پر ڈاکا ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ گلگت بلتستان کا یہ انتخابی دنگل آنے والے دنوں میں کیا رخ اختیار کرتا ہے، اس پر پورے ملک کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔