گلگت بلتستان کے انتخابات میں دہرا معیار: کلین سویپ یا دھاندلی کا خوف؟
گلگت بلتستان کا خطہ جہاں اپنے سحر انگیز پہاڑوں، خوبصورت وادیوں اور سٹریٹجک اہمیت کی وجہ سے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے، وہاں پاکستان کی سیاست اور انتخابی عمل میں بھی اسے ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ لیکن بدقسمتی سے، جب بھی یہاں انتخابات کا وقت قریب آتا ہے، تو شفافیت پر سوالیہ نشانات اور “دہرے معیار” کی بحث شدت اختیار کر جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایک بار پھر یہ سوال زبان زدِ عام ہے کہ کیا آنے والے انتخابات میں کسی خاص جماعت کا ‘کلین سویپ’ عوامی مینڈیٹ کا آئینہ دار ہوگا یا پھر یہ پسِ پردہ کی جانے والی مبینہ دھاندلی اور انجینئرنگ کا نتیجہ ہوگا؟
اس اہم اور حساس موضوع پر گہرائی سے روشنی ڈالنے کے لیے آپ یوٹیوب پر موجود یہ تفصیلی تجزیاتی ویڈیو Gilgit Baltistan Mai Clean Sweep Ya Dhandli Ka Khauf? بھی دیکھ سکتے ہیں، جس میں مقامی صورتحال اور عوامی خدشات کا احاطہ کیا گیا ہے۔
تاریخی پس منظر اور اسلام آباد کا اثر و رسوخ
گلگت بلتستان کی انتخابی تاریخ کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو ایک واضح رجحان نظر آتا ہے: “جس کی حکومت اسلام آباد میں، اسی کی حکومت گلگت میں۔” ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی (PPP)، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف (PTI) سبھی کے دور میں یہی روایت دیکھنے کو ملی۔
جب مرکز میں بیٹھی حکومت ہی ہمیشہ یہاں کامیابی حاصل کرتی ہے، تو یہیں سے “دہرے معیار” کی بحث جنم لیتی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور مقامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومتیں اپنے اثر و رسوخ، سرکاری وسائل اور ترقیاتی پیکجز کا بے دریغ استعمال کر کے انتخابی نتائج کو اپنے حق میں موڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اسے مقامی سطح پر جمہوریت کا گلا گھونٹنے اور وفاق کی مرضی مسلط کرنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔
اگر آپ پاکستان کی مجموعی سیاسی صورتحال اور وفاق کے صوبوں پر اثرات کے بارے میں مزید پڑھنا چاہتے ہیں، تو ہماری ویب سائٹ کے اس مخصوص سیکشن پاکستان پر جا کر تازہ ترین تجزیے پڑھ سکتے ہیں۔
انتخابی مہم میں ‘دہرا معیار’ اور غیر مساوی مواقع
کسی بھی جمہوری معاشرے میں شفاف انتخابات کی پہلی شرط تمام سیاسی پارٹیوں کو ‘لیول پلینگ فیلڈ’ یعنی یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔ تاہم، گلگت بلتستان کے معاملے میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ حکومتِ وقت کے وزراء اور سرکاری مشینری انتخابی مہم کا حصہ بن جاتے ہیں۔
۱. سرکاری وسائل کا استعمال
انتخابات کے اعلان کے بعد ترقیاتی کاموں کے فنڈز جاری کرنا، نئی ملازمتوں کے وعدے کرنا اور سرکاری گاڑیوں و پروٹوکول کا استعمال انتخابی ضابطہ اخلاق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ لیکن ان قوانین کا اطلاق صرف اپوزیشن جماعتوں پر ہوتا دکھائی دیتا ہے، جبکہ حکومتی امیدواروں کو کھلی چھوٹ حاصل ہوتی ہے۔
۲. میڈیا کوریج اور بیانیے کی جنگ
ریاستی اور قومی میڈیا پر حکومتی جماعت کے بیانیے کو جس طرح بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، اس کے برعکس مقامی قیادت اور قوم پرست جماعتوں کی آواز کو دبا دیا جاتا ہے۔ یہ میڈیا سنسرشپ اور یکطرفہ پروپیگنڈا بھی دہرے معیار کی ایک بڑی مثال ہے۔ دنیا بھر میں میڈیا کے کردار اور بین الاقوامی اثرات کو سمجھنے کے لیے آپ ہمارا پیج بین الاقوامی دیکھ سکتے ہیں۔
کلین سویپ کی حقیقت یا سیاسی انجینئرنگ؟
جب بھی کوئی سیاسی جماعت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ گلگت بلتستان میں ‘کلین سویپ’ کرے گی، تو عوام کے ذہنوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگتی ہیں۔ گلگت بلتستان کا سیاسی منظرنامہ ہمیشہ سے منقسم رہا ہے جہاں مختلف اضلاع میں مختلف برادریوں، مذہبی رجحانات اور مقامی مسائل کی بنیاد پر ووٹ دیا جاتا ہے۔ ایسے متنوع ماحول میں کسی ایک جماعت کا جادوئی طور پر کلین سویپ کر جانا بغیر کسی “غیر مرئی قوت” کی مدد کے ناممکن نظر آتا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ‘کلین سویپ’ کا بیانیہ دراصل دھاندلی کو چھپانے اور نتائج کو پہلے سے قبول کروانے کے لیے ایک نفسیاتی حربے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر قبل از وقت ہی یہ تاثر قائم کر دیا جائے کہ فلاں جماعت ہی جیتے گی، تو بعد میں ہونے والی دھاندلی پر عوامی ردعمل کو کمزور کیا جا سکتا ہے۔
عوامی خدشات اور دھاندلی کا خوف
گلگت بلتستان کے غیور اور باشعور عوام اب اپنے حقوق کے بارے میں پہلے سے کہیں زیادہ بیدار ہو چکے ہیں۔ گندم کی سبسڈی کا مسئلہ ہو، ٹیکسوں کا نفاذ ہو یا آئینی حقوق کی تحریک، یہاں کے عوام نے ہمیشہ اپنے حقوق کے لیے پرامن جدوجہد کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب انتخابی عمل میں کسی بھی قسم کی مداخلت پر عوام خاموش رہنے کو تیار نہیں ہیں۔
عوام میں پائے جانے والے چند بڑے خدشات درج ذیل ہیں:
-
پوسٹل بیلٹ کا غلط استعمال: سرکاری ملازمین کے ووٹوں (پوسٹل بیلٹس) میں ہیر پھیر کے خدشات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔
-
پولنگ اسٹیشنز پر اثر انداز ہونا: دور دراز اور برفانی علاقوں میں موجود پولنگ اسٹیشنز پر اپوزیشن کے پولنگ ایجنٹس کو ہراساں کرنا یا انہیں گنتی کے عمل سے باہر رکھنا۔
-
نتائج میں تاخیر: پولنگ ختم ہونے کے بعد گھنٹوں تک نتائج کا اعلان نہ کرنا شک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔
دہرے معیار کا خاتمہ اور آگے کا راستہ
اگر پاکستان کو گلگت بلتستان میں استحکام اور عوام کا اعتماد جیتنا ہے، تو انتخابی عمل سے دہرے معیار کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ اس کے لیے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:
-
بااختیار اور آزاد الیکشن کمیشن: گلگت بلتستان کے الیکشن کمیشن کو مالی اور انتظامی طور پر مکمل آزاد ہونا چاہیے تاکہ وہ وفاق یا مقامی حکومت کے دباؤ میں آئے بغیر کام کر سکے۔
-
سول سوسائٹی اور مبصرین کا کردار: مقامی اور بین الاقوامی انتخابی مبصرین کو تمام پولنگ اسٹیشنز تک بلا روک ٹوک رسائی دی جائے۔
-
آئینی حیثیت کا تعین: جب تک گلگت بلتستان کو پاکستان کے آئین میں مستقل اور واضح حصہ نہیں دیا جاتا، تب تک وہاں کے سیاسی نظام میں یہ ابہام اور دہرے معیار کی پالیسی چلتی رہے گی۔
نتیجہ
گلگت بلتستان کے انتخابات محض چند نشستوں پر ہار جیت کا نام نہیں ہیں، بلکہ یہ اس سترہ لاکھ سے زائد آبادی کے مستقبل اور پاکستان کے ساتھ ان کے رشتے کی مضبوطی کا سوال ہے۔ اگر انتخابات شفاف نہ ہوئے اور عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارا گیا، تو اس سے نہ صرف مقامی سطح پر مایوسی پھیلے گی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کو موقع ملے گا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ “دہرے معیار” کی سیاست کو دفن کر کے گلگت بلتستان کے عوام کو اپنی قیادت خود منتخب کرنے کا حقیقی حق دیا جائے، کیونکہ جمہوریت کی خوبصورتی ہار جیت میں نہیں بلکہ شفافیت اور عوامی اعتماد میں ہے۔