کراچی سمیت ملک بھر میں بجلی مہنگی: عوام پر اربوں روپے کا نیا بوجھ ڈال دیا گیا

ملک بھر میں بجلی مہنگی

پاکستان کے عوام جو پہلے ہی کمر توڑ مہنگائی اور بھاری ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، ان کے لیے حکومت اور نیپرا کی جانب سے ایک اور بری خبر سامنے آئی ہے۔ کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا گیا ہے، جس سے آنے والے مہینوں میں بلوں کی ادائیگی شہریوں کے لیے مزید ڈراؤنا خواب بن جائے گی۔ نیپرا کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد اس فیصلے پر فوری عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔

قیمتوں میں اضافے کی تفصیلات اور نوٹیفکیشن

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے جاری کردہ حالیہ نوٹیفکیشن کے مطابق، ملک بھر کے لیے بجلی کی قیمت میں 1 روپے 19 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (ایف پی اے) کی مد میں کیا گیا ہے۔ عام طور پر فیول ایڈجسٹمنٹ کی قیمتیں بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل اور گیس کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کی بنیاد پر طے کی جاتی ہیں، اور اس بار اس کا خسارہ عوام کی جیبوں سے پورا کیا جا رہا ہے۔

اس نوٹیفکیشن کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس بار کراچی کے عوام کو بھی کوئی رعایت نہیں دی گئی۔ ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کا یہ اطلاق کے الیکٹرک (کے ای) کے صارفین پر بھی یکساں طور پر ہوگا۔ بجلی کی قیمتوں میں اس اضافے کا اطلاق رواں ماہ جون 2026 کے بلوں میں کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ تپتی گرمی میں جب بجلی کا استعمال سب سے زیادہ ہوتا ہے، عوام کو بھاری بھرکم بلوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

واضح رہے کہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے نیپرا سے اپریل کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1 روپے 73 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی تھی، تاہم نیپرا نے سماعت کے بعد 1 روپے 19 پیسے اضافے کی منظوری دی۔ اگرچہ یہ منظوری مانگی گئی رقم سے کم ہے، لیکن پہلے سے پریشان حال عوام کے لیے یہ بھی ایک بڑا جھٹکا ہے۔

بجلی کے بلوں میں فکسڈ چارجز دگنے ہونے کا اعتراف

بجلی کے بنیادی نرخوں اور فیول ایڈجسٹمنٹ میں اضافے کے ساتھ ساتھ صارفین پر ایک اور بڑا بوجھ “فکسڈ چارجز” کی صورت میں ڈالا گیا ہے۔ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں اینکر محمد مالک کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے یہ سنسنی خیز اعتراف کیا کہ یہ سچ ہے کہ بجلی کے بلوں میں فکسڈ چارجز ڈبل ہو گئے ہیں۔

وزیر توانائی نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے یہ منطق پیش کی کہ ہمارے بجلی کے نظام کی فکس کاسٹ پورے سال میں ایک ہی رہتی ہے۔ جن مہینوں (جیسے گرمیوں) میں صارف زیادہ یونٹ استعمال کرتا ہے، وہاں فکس کاسٹ کا تناسب کم محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں حکومت بل کی کل رقم کا محض 3 سے 4 فیصد فکسڈ کاسٹ کی مد میں وصول کرتی تھی، لیکن اب اس شرح کو بڑھا کر 10 فیصد فکسڈ کاسٹ کر دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب صارفین جتنی بھی بجلی بچا لیں، ان کو بل کا ایک بڑا حصہ صرف فکسڈ چارجز کی مد میں لازمی ادا کرنا ہوگا۔

اگرچہ وزیر توانائی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ گھریلو صارفین کے لیے بجلی کے بنیادی نرخوں میں کچھ کمی آئی ہے اور اگر حکومت کی طرف سے سبسڈیز کا سلسلہ یونہی جاری رہا تو مستقبل میں بجلی 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک سستی ہو سکتی ہے، لیکن عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ فکسڈ چارجز میں دگنا اضافہ اور مسلسل فیول ایڈجسٹمنٹ ان دعووں کی نفی کرتے ہیں۔

عوامی ردعمل اور معاشی اثرات

بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر عوامی اور کاروباری حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ بجلی مہنگی ہونے سے صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں مقامی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں مسابقت کی دوڑ سے باہر ہو رہی ہیں۔ دوسری طرف، غریب اور متوسط طبقے کے لیے تنخواہوں کا ایک بڑا حصہ صرف بجلی کے بلوں کی نذر ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کے لیے راشن اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔

  • پاکستان میں توانائی کے بحران، نیپرا کے دیگر فیصلوں اور کے الیکٹرک کے نرخوں کی تفصیلی تاریخ جاننے کے لیے آپ ہمارے پورٹل بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن پر جا کر پرانی رپورٹس کا جائزہ لے سکتے ہیں۔

  • وفاقی وزارتِ توانائی کے دیگر اقدامات، سبسڈیز کی تفصیلات اور فکسڈ چارجز کے ڈھانچے کو سمجھنے کے لیے Ministry of Energy (Power Division) Pakistan کے آفیشل سوشل میڈیا پیج کا وزٹ کریں۔

Related Posts