کینگروز کیخلاف فتح : تیسرے ون ڈے میں شاندار فتح، پاکستان نے سیریز 1-2 سے اپنے نام کرلی

پاکستان کرکٹ ٹیم نے آسٹریلیا کے خلاف کھیلے گئے تیسرے اور آخری ون ڈے میچ میں شاندار کارکردگی: کینگروز کیخلاف فتح

 کینگروز کو 4 وکٹوں سے دھول چٹا دی ہے۔ اس فتح کے ساتھ ہی گرین شرٹس نے تین میچوں کی یہ اہم ترین ون ڈے سیریز 1-2 سے اپنے نام کر کے ہوم گراؤنڈ پر اپنی بالادستی ثابت کر دی ہے۔ میچ میں پاکستانی بالرز کی نپی تلی بالنگ اور بلے بازوں کی آخری لمحات میں ذمہ دارانہ بیٹنگ نے ٹیم کو فتح کی دہلیز تک پہنچایا۔

آسٹریلوی بیٹنگ لائن ریت کی دیوار ثابت: محض 157 رنز پر ڈھیر

میچ کے آغاز میں آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، تاہم پاکستانی بالرز کے سامنے ان کی ایک نہ چلی۔ آسٹریلوی ٹیم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے محض 157 رنز پر ڈھیر ہو گئی اور پاکستان کو جیت کے لیے 158 رنز کا آسان دکھائی دینے والا ہدف ملا۔

آسٹریلیا کی جانب سے صرف ان کے کپتان جوش انگلس ہی پاکستانی بالنگ لائن کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکے، انہوں نے 65 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی۔ ان کے علاوہ مارنس لبوشین اور ایلکس کیری 19، 19 رنز بنا سکے جبکہ اسپنر ایڈم زمپا نے 10 رنز اسکور کیے۔ ان چار کھلاڑیوں کے علاوہ کوئی بھی آسٹریلوی بلے باز ڈبل فگر میں بھی داخل نہ ہو سکا۔

پاکستانی بالرز کی شاندار کارکردگی

پاکستان کی فتح میں بالرز نے کلیدی کردار ادا کیا۔ اسٹار فاسٹ بالر شاہین شاہ آفریدی نے بہترین لائن اور لینتھ کے ساتھ بالنگ کرتے ہوئے 3 کینگرو بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ اسپن ڈیپارٹمنٹ میں ابرار احمد اور شاداب خان نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔ تیز گیند باز حارث رؤف نے بھی ایک کھلاڑی کو آؤٹ کر کے آسٹریلیا کو بڑے اسکور تک پہنچنے سے روکنے میں اپنا حصہ ڈالا۔

ہدف کا تعاقب اور پاکستانی مڈل آرڈر کی مشکلات

158 رنز کے بظاہر آسان ہدف کے تعاقب میں پاکستانی بیٹنگ لائن بھی مشکلات کا شکار دکھائی دی۔ وقفے وقفے سے وکٹیں گرنے کے باعث میچ ایک وقت میں سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہو گیا تھا۔ سابق کپتان بابر اعظم نے کریز پر جم کر 40 رنز کی انتہائی محتاط اننگز کھیلی جس نے ٹیم کو سنبھالا دیا۔ ان کے ساتھ نوجوان بلے باز معاذ صداقت نے 27 رنز بنا کر ان کا اچھا ساتھ دیا۔

عبدالصمد اور شاداب خان کی میچ وننگ پارٹنرشپ

ایک وقت پر 6 وکٹیں جلد گر جانے کے بعد پاکستان پر دباؤ بڑھ چکا تھا، لیکن ساتویں وکٹ پر نوجوان عبدالصمد اور سینیئر آل راؤنڈر شاداب خان نے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ دونوں کھلاڑیوں نے کریز پر نظریں جمائیں اور ساتویں وکٹ کے لیے 49 رنز کی ناقابلِ شکست شراکت داری قائم کر کے میچ کا پاسہ پلٹ دیا۔ پاکستان نے یہ ہدف 42 ویں اوور میں 6 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر کے میچ اور سیریز دونوں اپنے نام کر لیے۔

سیریز کا پس منظر

واضح رہے کہ اس تین میچوں کی سیریز کا پہلا میچ انتہائی سنسنی خیز رہا تھا جس میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 5 وکٹوں سے شکست دی تھی۔ تاہم، آسٹریلیا نے دوسرے میچ میں شاندار کم بیک کیا اور پاکستان کو 42 رنز سے ہرا کر سیریز 1-1 سے برابر کر دی تھی۔ لاہور میں کھیلا گیا یہ تیسرا میچ فائنل کی حیثیت اختیار کر گیا تھا، جہاں پاکستان نے اپنی بہترین حکمتِ عملی کی بدولت ٹرافی اپنے نام کی۔

Related Posts