چیئرمین نیب کا بڑا اعلان: رئیل اسٹیٹ میں فائل سسٹم ختم، فراڈیوں کی تصاویر اخبارات میں چھپیں گی

چیئرمین نیب کی رئیل اسٹیٹ مافیا کو وارننگ: فائل سسٹم کا خاتمہ اور فراڈیوں کی تصاویر اخبارات میں شائع کرنے کا فیصلہ

پاکستان میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر اور ہاؤسنگ سوسائٹیز میں معصوم شہریوں کے ساتھ ہونے والے فراڈ اور دھوکہ دہی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے قومی احتساب بیورو (نیب) نے ایک جامع اور تاریخی لائحہ عمل تیار کر لیا ہے۔ لاہور میں ایک اہم تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے واضح کیا کہ وہ محض کاغذی یا علامتی مفاہمت کی یادداشتوں (MoUs) پر نہیں بلکہ عملی اقدامات پر یقین رکھتے ہیں۔

انہوں نے رئیل اسٹیٹ مافیا کو سخت ترین انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اب عوام کی عمر بھر کی جمع پونجی لوٹنے والے فراڈیوں کی تصاویر اخبارات میں اشتہار کے ساتھ شائع کی جائیں گی تاکہ وہ معاشرے میں کہیں منہ دکھانے کے قابل نہ رہیں۔

رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں انقلابی اصلاحات اور نئے قوانین

چیئرمین نیب نے پراپرٹی سیکٹر کو مروجہ دھوکہ دہی سے پاک کرنے کے لیے چند انتہائی اہم اور بنیادی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے جو آئندہ چار سے پانچ ماہ میں نافذ العمل ہوں گی:

۱. فائل سسٹم کا خاتمہ اور بار کوڈ کا اجرا

سوسائٹیز میں بغیر زمین کے فائلیں بیچنے کے کلچر کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اب ہر پلاٹ کا ایک مخصوص بار کوڈ والا نمبر ہوگا، جس کی وجہ سے کوئی بھی ڈویلپر ایک ہی پلاٹ پر متعدد فائلیں بیچ کر شہریوں کو دھوکہ نہیں دے سکے گا۔ چند ماہ بعد مارکیٹ میں روایتی فائلوں کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی۔

۲. کیش ٹرانزیکشنز پر مکمل پابندی

پراپرٹی کی خرید و فروخت میں کالے دھن اور فراڈ کو روکنے کے لیے اب کوئی بھی ڈیل کیش (نقد رقم) پر نہیں کی جا سکے گی۔ رئیل اسٹیٹ کی تمام تر ٹرانزیکشنز بینکنگ چینل کے ذریعے صرف تین فریقین کے درمیان شفاف طریقے سے ہوں گی۔

۳. ون ونڈو آپریشن اور نیب کی نگرانی

رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں این او سی (NOC) اور تمام تر سرکاری منظوریاں اب ایک ہی چھت تلے (One Window) ملیں گی۔ اس پورے نظام کو ریگولیٹ کرنے والے بورڈ میں نیب کا ڈائریکٹر لیول کا افسر شامل ہوگا تاکہ کرپشن کا راستہ ابتدائی سطح پر ہی روکا جا سکے۔

ریکوری کے حیران کن اعداد و شمار: 3 سال میں 15 ہزار ارب روپے

اپنے خطاب میں چیئرمین نیب نے ادارے کی حالیہ کارکردگی کا موازنہ پیش کرتے ہوئے ریکوری کے حوالے سے ایک حیرت انگیز رپورٹ پیش کی:

  • ماضی کی ریکوری (1999 سے 2023): نیب نے اپنے قیام سے لے کر 2023 تک کے طویل عرصے میں مجموعی طور پر 880 ارب روپے کی ریکوری کی تھی۔

  • حالیہ 3 سال کی ریکارڈ ریکوری: نیب نے اپنی حکمتِ عملی کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے محض گزشتہ تین سالوں میں اس حجم کو 15 ہزار ارب روپے تک پہنچا دیا ہے، جو ملکی تاریخ کی سب سے بڑی ریکوری ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے پنجاب کی معیشت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اصلاحات کے نتیجے میں صرف صوبہ پنجاب میں 18 ارب ڈالر کی اکانومی جنریٹ کی جائے گی۔ گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل اور سیاسی صورتحال پر تفصیلی کوریج دیکھنے کے لیے آپ گلگت بلتستان الیکشن میں پیپلز پارٹی نے میدان مار لیا کی رپورٹ دیکھ سکتے ہیں۔

بزنس کمیونٹی کے تحفظ کے لیے اقدامات

لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے تاجر برادری اور صنعتکاروں کو یقین دلایا کہ نیب ان کے کاروبار کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ماضی میں بزنس کمیونٹی کو وہ مقام اور عزت نہیں دی گئی جو ان کا حق تھا۔

“مجھے چیمبرز اور مختلف بزنس فورمز کی جانب سے تاجروں کے 20 کیسز موصول ہوئے تھے، جن پر فوری اور شفاف کارروائی کرتے ہوئے الحمد اللہ 20 میں سے 19 کیسز کو مکمل طور پر ختم کرا دیا گیا ہے تاکہ کاروباری طبقہ بلا خوف و خطر ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکے۔”

انہوں نے لاہور رنگ روڈ کے حوالے سے ایک بڑے اسکینڈل کا پردہ چاک کرتے ہوئے بتایا کہ لاہور کی آدھی رنگ روڈ کی سرکاری زمین پہلے پرائیویٹ لوگوں کو کوڑیوں کے دام دی گئی اور بعد میں بھاری قیمتوں پر ان ہی سے دوبارہ حاصل کی گئی، جس کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

نتیجہ

چیئرمین نیب کا یہ جارحانہ اور اصلاحاتی مؤقف پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ایک مثبت موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ پلاٹوں پر بار کوڈ نمبر کا ہونا اور فائلوں کے کاروبار پر پابندی جیسے اقدامات سے جہاں عام خریدار کا اعتماد بحال ہوگا، وہاں رئیل اسٹیٹ مافیا کے گرد قانون کا گھیرا مزید تنگ ہوگا۔ اگر ان فیصلوں پر سختی سے عمل درآمد کرایا گیا تو یہ پاکستان کی معیشت اور عوامی تحفظ کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوں گے۔

Related Posts