راولاکوٹ کا المیہ: جب وادیِ پونچھ سسکیوں اور گولیوں کی تھرتھراہٹ سے گونج اٹھی
آزاد کشمیر کا خوبصورت اور پُرجمال شہر راولاکوٹ (ضلع پونچھ)، جو اپنی پرامن فضاؤں اور غیور عوام کی وجہ سے جانا جاتا ہے، اس وقت گہرے صدمے، خوف اور ماتم کی لپیٹ میں ہے۔ حقوق کی پرامن جدوجہد اور حکومتی رٹ کے درمیان کھنچی ہوئی لکیر نے ایک ایسا خونی رخ اختیار کر لیا ہے جس نے پوری وادی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حکومت اور کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے درمیان ہونے والے حالیہ پرتشدد تصادم میں اب تک سرکاری طور پر 11 معصوم جانوں کی ہلاکت اور 73 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی ہلاکت خیز تصدیق ہو چکی ہے۔
اس خونی تصادم نے جہاں کئی ماؤں کی گودیں اجاڑ دیں، وہیں زخمیوں میں 23 سیکیورٹی اہلکار اور 50 مظاہرین شامل ہیں جو زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ دوسری جانب، مقامی ہسپتالوں کے باہر موجود چشم دید گواہان اور احتجاجی رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے، جو کہ چھپائی جا رہی ہے۔ مزید معلومات اور وادی کی تاریخی صورتحال جاننے کے لیے آپ مظفر آباد اور پونچھ کی تفصیلی تاریخ دیکھ سکتے ہیں۔
جانی نقصان کی ہولناک اور سرکاری تفصیلات
اتوار اور پیر کا دن راولاکوٹ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ثابت ہوا۔ پونچھ سیکٹر کے کمشنر سردار وحید خان اور اعلیٰ پولیس حکام کے مطابق، دونوں اطراف سے ہونے والی شدید فائرنگ اور شیلنگ کے نتیجے میں 4 پولیس اہلکار (بشمول ایک فرض شناس سب انسپکٹر) اور 7 نہتے شہری و مظاہرین جاں بحق ہو چکے ہیں۔
اس وقت کم از کم 73 شدید زخمی افراد کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (CMH) راولاکوٹ میں زیر علاج ہیں، جہاں ایمرجنسی نافذ ہے اور ہر طرف سسکیاں اور آہیں گونج رہی ہیں۔ شہر میں کریک ڈاؤن کے دوران پولیس نے اب تک 30 سے زائد سرگرم کارکنان کو گرفتار بھی کیا ہے، جس سے مقامی آبادی میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
تنازع کا ہولناک آغاز: ایک چنگاری جس نے آگ لگا دی
یہ خونی تصادم اس وقت ایک ناگزیر المیے میں تبدیل ہوا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ایک انتہائی سرگرم اور نوجوان کارکن، شاہ زیب حبیب، پولیس کی مبینہ فائرنگ کا نشانہ بن کر جان کی بازی ہار گئے۔
جیسے ہی ان کی میت پوسٹ مارٹم کے لیے راولاکوٹ سی ایم ایچ لائی گئی، تو غم و غصے سے بپھرے سینکڑوں مظاہرین ہسپتال کے باہر جمع ہو گئے۔ جذبات پر قابو نہ رہا، اور پولیس کی بھاری نفری اور مظاہرین کے درمیان تلخ کلامی دیکھتے ہی دیکھتے فائرنگ، پتھراؤ اور آنسو گیس کے شدید تبادلے میں بدل گئی۔ ہسپتال کا صحن، جو شفا کی جگہ تھا، گولیوں کی تھرتھراہٹ اور بارود کے دھوئیں سے بھر گیا۔
کشیدگی کی اصل وجوہات: حقوق کی جنگ یا آئینی تنازع؟
یہ حالیہ احتجاج کوئی اچانک اٹھنے والا طوفان نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے دو انتہائی گہرے اور بنیادی عوامل کارفرما ہیں:
1۔ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) پر پابندی اور دہشت گردی کے دفعات
آزاد کشمیر حکومت نے گزشتہ دنوں ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے مظاہروں کو منظم کرنے والی عوامی نمائندہ تنظیم ‘جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی’ کو اینٹی ٹیررازم ایکٹ (دہشت گردی کے قوانین) کے تحت کالعدم (باند) قرار دے دیا۔ اس فیصلے نے جلتی پر تیل کا کام کیا، کیونکہ مقامی عوام اس تنظیم کو اپنے معاشی حقوق، سستی بجلی اور آٹے کے مطالبات کی آواز سمجھتے تھے۔ عوام کا ماننا ہے کہ حقوق مانگنے والوں پر دہشت گردی کا لیبل لگانا سراسر ناانصافی ہے۔
2۔ ریاستی قانون سازی اور 12 مہاجرین کی نشستوں کا تنازع
تنازع کی دوسری اور سب سے اہم سیاسی وجہ سپریم کورٹ کا وہ فیصلہ ہے جس کے تحت پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص 12 قانون ساز نشستوں کو آئینی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ ایکشن کمیٹی کا موقف ہے کہ ان نشستوں کا استعمال اکثر سیاسی جوڑ توڑ اور کشمیر کے مقامی مینڈیٹ کو چرانے کے لیے کیا جاتا ہے، جس کے خلاف انہوں نے ایک بڑے لانگ مارچ اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کر رکھا تھا۔ اس حوالے سے بین الاقوامی برادری کے ردعمل کی تفصیلات Amnesty International کی آفیشل ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہیں۔
آج کی تازہ ترین صورتحال اور حکومتی اقدامات
-
فورسز کی بھاری تعیناتی: راولاکوٹ، مظفر آباد اور دیگر حساس علاقوں کو چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ وفاقی پیرا ملٹری فورسز (رینجرز) اور پولیس کی بھاری نفری سڑکوں پر گشت کر رہی ہے۔
-
انٹرنیٹ کی معطلی: کسی بھی بڑی ریلی، معلومات کے پھیلاؤ یا افواہوں کو روکنے کے لیے پونچھ ڈویژن کے متعدد اضلاع میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کو عارضی طور پر مکمل بند کر دیا گیا ہے۔
-
انسانی حقوق کی تنظیموں کی تشویش: ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت دنیا بھر کے انسانی حقوق کے اداروں نے پرامن احتجاج پر دہشت گردی کی دفعات لگانے کو ایک “خطرناک اور غیر جمہوری اقدام” قرار دیا ہے اور حکومت سے فوری مذاکرات کی اپیل کی ہے۔
خلاصہ کلام: حکومت کا موقف ہے کہ چند شرپسند عناصر نے دانستہ طور پر ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ کیا۔ جبکہ مقامی قیادت کا رونا ہے کہ مہنگائی، بجلی کی قیمتوں اور اپنے بنیادی آئینی و معاشی حقوق مانگنے کے پاداش میں ان پر طاقت کا بے جا اور وحشیانہ استعمال کیا گیا۔ راولاکوٹ کی سڑکوں پر پھیلا ہوا لہو آج پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ مسائل گولیوں سے نہیں بلکہ فہم و فراست اور مذاکرات سے حل ہوتے ہیں۔