ایرانی اثاثے ابوظبی سے تہران منتقلی کا دعویٰ اور حقیقت | سٹریٹجک تجزیہ

3 ارب ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے ابوظبی سے تہران منتقل؟ اسرائیلی میڈیا کا سنسنی خیز دعویٰ اور ایران کی تردید

 خلیج فارس میں سفارتی ہلچل اور نیا تنازع

مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید ترین کشیدگی اور سٹریٹجک تبدیلیوں کے درمیان بین الاقوامی میڈیا پر ایک سنسنی خیز دعویٰ سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات (UAE) کے دارالحکومت ابوظبی سے تہران جانے والی ایک خصوصی پرواز کے ذریعے ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 3 ارب امریکی ڈالر مالیت کے اثاثے منتقل کیے گئے ہیں۔

اس منتقلی کو خطے میں جاری فوجی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک بڑی سفارتی کوشش کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، جہاں کچھ مغربی اور اسرائیلی ذرائع اس خبر کو بریکنگ نیوز کے طور پر چلا رہے ہیں، वहीं ایرانی حکام نے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ایک منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ قرار دیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا ‘کان نیوز’ کا دعویٰ اور پسِ پردہ محرکات

اسرائیلی نشریاتی ادارے Kan (کان نیوز) کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، اثاثوں کی یہ خطیر رقم ایک ایسے وقت میں منتقل کی گئی ہے جب خطہ بڑے پیمانے پر جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس منتقلی کے پیچھے گہری سفارتی شرائط اور سودے بازی چھپی ہوئی تھی:

  • اسرائیل پر حملے روکنے کی شرط: رپورٹ کے مطابق، تہران کو یہ رقم منتقل کرنے کے بدلے یہ شرط رکھی گئی ہے کہ ایران اسرائیل کے خلاف اپنی براہِ راست فوجی کارروائیوں اور حملوں کو روک دے۔

  • امریکی یقین دہانی اور پیغام رسانی: ‘کان نیوز’ کا مزید کہنا ہے کہ اس منتقلی کے ساتھ ایران کو ایک اہم ترین پیغام بھی پہنچایا گیا، جو مبینہ طور پر امریکہ کی جانب سے تھا۔ اس پیغام میں ایران کو یقین دہانی کرائی گئی کہ اسرائیل لبنان میں جاری اپنی فوجی کارروائیاں معطل کر دے گا۔

ایرانی وانا (WANA) نیوز ایجنسی کے مطابق، دیگر کئی غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ اقدام خطے میں جنگ کے بادلوں کو چھانٹنے اور ایک عارضی جنگ بندی یا سیز فائر کا ماحول پیدا کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

قطر کی ثالثی اور طیارے کی تہران آمد

ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ، ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان پیغامات اور شرائط کے اس خفیہ اور پیچیدہ تبادلے میں قطری وفد نے ایک بار پھر کلیدی ثالث (Mediator) کا کردار ادا کیا ہے۔ قطر طویل عرصے سے امریکہ اور ایران کے درمیان قیدیوں کے تبادلے اور مالیاتی معاملات میں پل کا کردار ادا کرتا آیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق:

  1. قطری وفد کی کامیاب سفارت کاری کے بعد اثاثے لے جانے والا طیارہ ابوظبی سے روانہ ہوا۔

  2. یہ طیارہ تمام سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد کامیابی سے تہران کے ہوائی اڈے پر لینڈ کر گیا۔

مغربی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ خلیج فارس کے کئی ممالک، بشمول متحدہ عرب امارات، تہران کے ساتھ اپنے طویل مدتی تعلقات کو بہتر بنانے اور باہمی اعتماد کو بحال کرنے کے خواش مند ہیں، اور یہ رعایتیں اسی سلسلے کی ایک کڑی ہو سکتی ہیں۔

ایران کا باقاعدہ ردِعمل: “بے بنیاد پروپیگنڈا مہم”

اسرائیلی اور بین الاقوامی میڈیا پر ان دعوؤں کے سامنے آنے کے فوراً بعد ایرانی حکومت کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے ایک باقابطہ بیان میں ان تمام رپورٹس کو یکسر مسترد کر دیا۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا:

“منجمد اثاثوں کو خطے کے دیگر ممالک میں منتقل کرنے یا کسی بھی قسم کی خفیہ ڈیل کے دعوے سراسر بے بنیاد ہیں۔ ایسی من گھڑت رپورٹس دراصل اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جاری مخالفانہ پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں جس کا مقصد عوامی ذہنوں کو گمراہ کرنا ہے۔”

اب تک کی صورتحال کے مطابق ایران، متحدہ عرب امارات، امریکہ یا قطر کی کسی بھی سرکاری اتھارٹی نے آفیشل سطح پر اس 3 ارب ڈالر کی منتقلی یا کسی سیز فائر معاہدے کی تصدیق نہیں کی ہے، جس کی وجہ سے یہ خبریں فی الحال غیر مصدقہ میڈیا دعوؤں تک ہی محدود ہیں۔

سٹریٹجک اثرات: کیا مشرقِ وسطیٰ میں امن ممکن ہے؟

اگر اسرائیلی میڈیا کے ان دعوؤں میں تھوڑی بھی سچائی موجود ہے، تو یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ بند کمروں میں ہونے والی ڈپلومیسی اب بھی فعال ہے۔ معاشی پابندیوں کا شکار ایران ہمیشہ سے اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی کا خواہاں رہا ہے، اور خلیجی ممالک اسرائیل اور ایران کی جنگ میں اپنی سرزمین کو کسی بھی تنازع کے لیے استعمال ہونے سے بچانا چاہتے ہیں۔ تاہم، جب تک اس معاملے پر کوئی باقاعدہ مشترکہ اعلامیہ سامنے نہیں آتا، خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال بدستور غیر یقینی رہے گی۔

Related Posts