وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا بیان | تنقیدی جائزہ: تنخواہ دار طبقے کا ریلیف، اپوزیشن کا کردار اور معاشی حقائق
پاکستان کے سیاسی اور معاشی منظرنامے میں وفاقی بجٹ ہمیشہ ہی بحث و تکرار کا مرکز رہتا ہے۔ مالی سال 2026-27 کے بجٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ:
“بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو خاطر خواہ ریلیف دیا گیا ہے، اس لیے اپوزیشن کو ہٹ دھرمی چھوڑ کر حکومت کے مثبت اقدامات کی تعریف کرنی چاہیے۔”
انہوں نے ماضی کی حکومت اور اپوزیشن پر ملک کو دیوالیہ (Default) کرنے کی سازش کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف (IMF) کو لکھے گئے خطوط اس بات کا تاریخی ریکارڈ ہیں۔
اس مضمون میں ہم عطا تارڑ کے اس بیان، بجٹ کے اصل اعداد و شمار، تنخواہ دار طبقے پر عائد ٹیکسز کے ڈھانچے اور ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال کا حقائق پر مبنی ایک جامع تنقیدی جائزہ (Critical Analysis) پیش کریں گے۔
1. عطا تارڑ کے دعوے اور ان کا پس منظر
وزیر اطلاعات نے اپنے خطاب میں بنیادی طور پر تین نکات پر توجہ مرکوز کی:
-
تنخواہ دار طبقے کو ریلیف: ان کا کہنا تھا کہ 50 ہزار روپے ماہانہ (6 لاکھ سالانہ) تک آمدن پر کوئی ٹیکس نہیں ہے اور 50 ہزار سے 1 لاکھ روپے تک صرف 1 فیصد ٹیکس ہے۔
-
ملک کا ڈیفالٹ سے بچنا: انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت نے سیاست کی قربانی دے کر ریاست کو بچایا، جس کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر 17.2 ارب ڈالر تک پہنچے اور مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ میں آئی۔
-
اپوزیشن پر تنقید: انہوں نے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن نے آئی ایم ایف کو خطوط لکھ کر ملکی بیل آؤٹ پیکیج کو رکوانے کی کوشش کی تاکہ ملک دیوالیہ ہو جائے۔
2. تنخواہ دار طبقے کا ٹیکس ڈھانچہ: ریلیف یا سراب؟ (حقائق کا تجزیہ)
اگرچہ حکومت کا یہ دعویٰ درست ہے کہ سالانہ 6 لاکھ روپے تک کی آمدنی پر انکم ٹیکس صفر ہے، لیکن جب ہم مڈل کلاس اور اپر مڈل کلاس تنخواہ دار طبقے کے سلیبس (Slabs) کا جائزہ لیتے ہیں تو تصویر کا دوسرا رخ سامنے آتا ہے۔
بجٹ 2026-27 کے ٹیکس سلیبس کا ایک نظر میں جائزہ:
حکومت نے ہدف حاصل کرنے کے لیے انکم ٹیکس کی حد میں جو تبدیلیاں کی ہیں، ان کے مطابق:
-
2 لاکھ 67 ہزار روپے ماہانہ آمدن: پر ٹیکس کی شرح 20 فیصد مقرر کی گئی ہے۔
-
3 لاکھ 41 ہزار روپے ماہانہ آمدن: رکھنے والے افراد 25 فیصد ٹیکس دیں گے۔
-
4 لاکھ 67 ہزار روپے ماہانہ آمدن: پر ٹیکس کی شرح 29 فیصد ہے۔
-
5 لاکھ 83 ہزار روپے ماہانہ آمدن: پر 32 فیصد ٹیکس لاگو کیا گیا ہے۔
-
5 لاکھ 83 ہزار روپے سے زائد (سالانہ 70 لاکھ سے اوپر): آمدن پر سب سے زیادہ 35 فیصد شرح برقرار رکھی گئی ہے۔
تنقیدی نکتہ:
حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے 35 فیصد ٹیکس لاگو ہونے کی سالانہ حد کو 41 لاکھ روپے سے بڑھا کر 70 لاکھ روپے کر دیا ہے، جس سے بظاہر سالانہ 2 لاکھ 57 ہزار روپے تک کا ریلیف ملتا ہے۔ لیکن ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ پچھلے سالوں میں بڑھائی گئی ٹیکس کی شرح اور ملک میں گزشتہ تین سالوں کے دوران مجموعی طور پر ہونے والی جمع شدہ مہنگائی (Cumulative Inflation) کے مقابلے میں یہ ریلیف انتہائی معمولی ہے۔ تنخواہ دار طبقہ، جو پہلے ہی دستاویزی معیشت کا حصہ ہے اور اپنی آمدن پر براہِ راست (Direct) ٹیکس کٹواتا ہے، اس پر ٹیکس کا بوجھ بدستور برقرار ہے۔
3. آئی ایم ایف (IMF) کی شرائط اور انفورسمنٹ کا دباؤ
عطا تارڑ نے اپنے بیان میں ایف بی آر (FBR) کی ریفارمز اور 800 ارب روپے کی ریکوری کا ذکر کیا۔ تاہم، اس بجٹ کی سب سے تلخ حقیقت یہ ہے کہ ایف بی آر کا 15.264 کھرب روپے کا ٹیکس ہدف آئی ایم ایف پروگرام کی باقاعدہ شرط ہے۔
-
نئے ٹیکسز کا بوجھ: بجٹ میں جہاں 360 ارب روپے کی رعایتوں کا ڈھول پیٹا جا رہا ہے، وہیں 306 ارب روپے کے نئے ٹیکس بھی عائد کیے گئے ہیں۔
-
پٹرولیم لیوی کا ہدف: حکومت نے عوام کی جیبوں سے 1.68 کھرب روپے پٹرولیم لیوی کی مد میں اکٹھے کرنے کا ہدف رکھا ہے، جو براہ راست مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔
-
غیر دستاویزی شعبوں کو چھوٹ: رئیل اسٹیٹ کو معاشی سرگرمیاں تیز کرنے کے نام پر 115 ارب روپے کا ریلیف دیا گیا ہے، جس پر خود آئی ایم ایف نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ تنقید نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت ریٹیلرز، ہول سیلرز اور رئیل اسٹیٹ جیسے بڑے غیر دستاویزی شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے بجائے بار بار تنخواہ دار طبقے اور پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کرتی ہے۔
4. میکرو اکنامک اشاریے: زرمبادلہ کے ذخائر اور شرح سود
وزیر اطلاعات کا یہ بیان معاشی طور پر درست ہے کہ پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اس وقت مستحکم پوزیشن (17.2 ارب ڈالر) پر ہیں اور شرح سود (Interest Rate) میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔
تجزیہ:
یہ استحکام پچھلے مالی سال میں کیے گئے سخت اقدامات اور دوست ممالک و آئی ایم ایف کے تعاون کا نتیجہ ہے۔ لیکن یہ استحکام ابھی تک پائیدار (Sustainable) نہیں ہے، کیونکہ ملکی برآمدات (Exports) میں وہ انقلابی اضافہ دیکھنے کو نہیں ملا جو ملکی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر سکے۔ جب تک برآمدی شعبے (جس پر ٹیکس اب 2% سے کم کر کے 1.25% کیا گیا ہے) سے خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہوتے، تب تک زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے بیرونی قرضوں پر انحصار برقرار رہے گا۔
5. سیاسی بیانیہ اور اپوزیشن کا کردار
عطا تارڑ کا اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنانا اور آئی ایم ایف کو لکھے گئے خطوط کا ذکر کرنا خالصتاً ایک سیاسی بیانیہ ہے۔ جمہوری ممالک میں اپوزیشن کا کام بجٹ کے نقائص کو اجاگر کرنا اور غریب نواز پالیسیوں کا مطالبہ کرنا ہوتا ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ توقع رکھنا کہ اپوزیشن بجٹ کی تعریف کرے، جمہوری اصولوں کے برعکس ہے۔
تاہم، یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ ماضی میں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے عالمی مالیاتی اداروں کو خطوط لکھے گئے، جس سے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ لیکن موجودہ حکومت کو بھی اب محض ماضی کا رونا رونے کے بجائے ساختیاتی اصلاحات (Structural Reforms) پر توجہ دینی ہوگی۔
حاصل کلام (Conclusion)
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا یہ دعویٰ کہ بجٹ میں ریلیف دیا گیا ہے، صرف جزوی طور پر درست مانا جا سکتا ہے۔ سالانہ 70 لاکھ روپے تک کمانے والوں کے لیے ٹیکس بریکٹ میں نرمی خوش آئند ہے، لیکن پیٹرولیم لیوی، الیکٹرک گاڑیوں پر بھاری ڈیوٹیز (30% سے 40% FED) اور بالواسطہ ٹیکسز (Indirect Taxes) کی موجودگی میں عام شہری اور تنخواہ دار طبقے کی حقیقی زندگی میں کوئی بڑا ریلیف نظر نہیں آتا۔
حکومت نے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے تحت ایک متوازن بجٹ پیش کرنے کی کوشش ضرور کی ہے، لیکن پائیدار معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکس کا بوجھ صرف دستاویزی اور تنخواہ دار طبقے پر ڈالنے کے بجائے بااثر زراعتی، رئیل اسٹیٹ اور ریٹیل سیکٹرز کو بھی مکمل طور پر ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
مزید دریافت کریں: بجٹ مسترد، جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاجی تحریک کا اعلان