ٹرمپ کا ایران معاہدہ متنازع بن گیا: ڈیموکریٹس کا اسے ’ہتھیار ڈالنے کی دستاویز‘ قرار دینے کا اعلان

ٹرمپ کا ایران معاہدہ متنازع بن گیا: ڈیموکریٹس نے اسے ’ہتھیار ڈالنے کی دستاویز‘ قرار دے دیا

رپورٹ: عظیم الشان ٹی وی

امریکی سیاسی حلقوں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور ایران کے درمیان متوقع امن معاہدے پر بحث نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ امریکی ڈیموکریٹ رہنماؤں نے اس مجوزہ معاہدے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جبکہ اپوزیشن نے اسے امریکی مفادات کے خلاف ایک کمزور دستاویز قرار دیا ہے۔

ڈیموکریٹ رہنماؤں کی کڑی تنقید اور ایڈم شف کا بیان

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ممتاز ڈیموکریٹ سینیٹر ایڈم شف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کے دعووں پر سوالات اٹھائے ہیں۔

  • ایڈم شف کا مؤقف: انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ جنگ ختم ہو چکی ہے، اور وہ خود بھی امید کرتے ہیں کہ یہ بات سچ ثابت ہو، لیکن ماضی کے ریکارڈ کو دیکھا جائے تو ایسے متعدد وعدے پہلے بھی کیے گئے جو بعد میں سراب ثابت ہوئے۔

  • اخراجات میں اضافہ: سینیٹر ایڈم شف نے مزید الزام عائد کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے نئی جنگوں کا آغاز تو کیا لیکن اس سے امریکی عوام کے لیے اخراجات میں کوئی کمی نہیں لائی جا سکی، بلکہ اس پالیسی نے براہِ راست امریکی شہریوں کے مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔

’سرنڈر ڈاکیومنٹ‘: سیٹھ مولٹن کا جارحانہ ردعمل

دوسری جانب، ڈیموکریٹ رکن کانگریس سیٹھ مولٹن نے اس مجوزہ ایران معاہدے کو اب تک کی سب سے سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’سرنڈر ڈاکیومنٹ‘ (ہتھیار ڈالنے کی دستاویز) قرار دے دیا ہے۔

ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران بات کرتے ہوئے سیٹھ مولٹن کا کہنا تھا:

“یہ ایک انتہائی خراب اور ناقص معاہدہ ہے جو دراصل ایران کی قیادت کے سامنے امریکی پسپائی اور ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے۔”

معاہدے پر اٹھائے گئے اہم سوالات:

سیٹھ مولٹن نے ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران ہونے والے نقصانات اور حاصل ہونے والے نتائج کا موازنہ کرتے ہوئے مندرجہ ذیل حقائق سامنے رکھے:

  1. اربوں ڈالر کا نقصان: ایران کے ساتھ اس پوری چپقلش اور جنگی ماحول پر امریکی ٹیکس دہندگان کے تقریباً 100 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔

  2. جانی نقصان: اس کشیدگی کے دوران 14 امریکی شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

  3. محدود نتائج: اتنے بڑے جانی و مالی نقصان کے باوجود حاصل ہونے والا نتیجہ انتہائی مایوس کن ہے۔ معاہدے کے تحت صرف آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو دوبارہ کھولنے کی بات کی جا رہی ہے، جبکہ یہ تجارتی راستہ جنگ اور کشیدگی شروع ہونے سے پہلے بھی عام جہاز رانی کے لیے کھلا ہوا تھا۔

انہوں نے مقتدر حلقوں سے سوال کیا کہ اگر اتنے نقصانات کے بعد بھی پرانی پوزیشن پر ہی واپس آنا تھا، تو پھر اس معاہدے کو ٹرمپ انتظامیہ کی “کامیابی” کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟

واشنگٹن میں سیاسی تقسیم اور مستقبل کا منظرنامہ

امریکی دارالحکومت واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں اس معاہدے کو لے کر واضح تقسیم نظر آ رہی ہے۔ ایک طرف جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے حامی اسے مشرق وسطیٰ اور عالمی امن کی جانب ایک تاریخی اور اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں، وہیں دوسری جانب اپوزیشن اور ڈیموکریٹس اسے امریکی ساکھ اور مفادات کے لیے شدید نقصان دہ قرار دے رہے ہیں۔

آنے والے دنوں میں اس معاہدے کے متن پر کانگریس کے اندر مزید ہنگامہ خیز بحث متوقع ہے، جو امریکی صدارتی اور داخلی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

Related Posts