عمران خان پمز اسپتال منتقل، طبی معائنے کے بعد دوبارہ اڈیالہ جیل روانہ: بیرسٹر گوہر

عمران خان کی پمز اسپتال منتقلی اور دوبارہ اڈیالہ جیل واپسی: بیرسٹر گوہر کا بڑا بیان

راولپنڈی/اسلام آباد، 15 جون 2026: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت اور جیل میں ان کی سکیورٹی کے حوالے سے ایک بار پھر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے سوشل میڈیا پر دنیا کو آگاہ کیا ہے کہ گزشتہ شب عمران خان کو اچانک طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ضروری چیک اپ کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا ہے۔

اس خبر کے سامنے آتے ہی پی ٹی آئی کے کارکنان اور حامیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، اور پارٹی قیادت نے حکومت سے عمران خان کی صحت کے حوالے سے فوری اور ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

بیرسٹر گوہر علی خان کا ‘ایکس’ پر اہم بیان

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے آفیشل ہینڈل سے ٹوئٹ کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی۔ انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا:

“مجھے ابھی اطلاع ملی ہے کہ خان صاحب کو گزشتہ شب دوبارہ انجیکشن لگانے کے لیے پمز (PIMS) اسپتال اسلام آباد منتقل کیا گیا تھا، جہاں طبی معائنے کے بعد انہیں واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی قیادت اور ڈاکٹرز عمران خان کی صحت کے حوالے سے شدید فکر مند ہیں، اور وہ حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کو مستقل بنیادوں پر علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ان کا مکمل اور تفصیلی طبی معائنہ ہو سکے۔

پی ٹی آئی کے بنیادی مطالبات: فوری علاج اور فیملی سے ملاقات

اس اچانک منتقلی کے بعد پی ٹی آئی کی سینئر قیادت نے ایک ہنگامی موقف اپناتے ہوئے حکومت اور جیل انتظامیہ کے سامنے دو اہم ترین مطالبات رکھے ہیں:

نمبر شمار پارٹی کا مطالبہ اہمیت اور وجہ
1 مستقل اسپتال منتقلی خان صاحب کو صرف انجیکشن لگا کر واپس بھیجنے کے بجائے مکمل علاج کی سہولت دی جائے۔
2 اہلِ خانہ سے فوری ملاقات عمران خان کے اہل خانہ اور بچوں کو ان سے فوری ملنے کی اجازت دی جائے تاکہ صحت کی اصل صورتحال واضح ہو سکے۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ عمران خان ملک کے مقبول ترین رہنما ہیں اور ان کی صحت پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہیں جیل مینوئل کے مطابق تمام تر طبی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔

عمران خان کی طبی منتقلی کے مراحل:
اڈیالہ جیل (گزشتہ شب) ──> پمز اسپتال (طبی معائنہ/انجیکشن) ──> دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل

پمز اسپتال کے ذرائع اور سکیورٹی کے سخت انتظامات

ذرائع کے مطابق گزشتہ شب جب عمران خان کو پمز اسپتال لایا گیا تو سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ اسپتال کے اطراف پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری تعینات تھی اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ڈاکٹروں کی ایک خصوصی ٹیم نے بانی پی ٹی آئی کا معائنہ کیا، جس کے بعد انہیں فول پروف سکیورٹی میں واپس راولپنڈی کی اڈیالہ جیل پہنچا دیا گیا۔

پاکستان کی سیاسی صورتحال، تحریک انصاف کی سرگرمیوں اور دیگر اہم ترین قومی بریکنگ نیوز کی تفصیلات کے لیے آپ ایکسپریس اردو کے پورٹل پر جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کھیل کی دنیا کی تازہ ترین خبروں کے لیےAzeemul Shan TV کا صفحہ بھی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

حاصلِ کلام

عمران خان کی صحت کا معاملہ اس وقت ملکی سیاست کا ایک انتہائی حساس موضوع بن چکا ہے۔ بیرسٹر گوہر علی خان کے اس بیان کے بعد پی ٹی آئی کارکنان سوشل میڈیا پر ان کی صحت یابی اور رہائی کے لیے مہم چلا رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جیل انتظامیہ اور حکومتِ وقت پی ٹی آئی کے ان مطالبات پر کیا ردِعمل ظاہر کرتی ہے اور کیا خان صاحب کو تفصیلی معائنے کے لیے دوبارہ اسپتال منتقل کیا جائے گا یا نہیں۔

Related Posts

جتوئی کے صحافتی حلقوں کے لیے اہم خبر! نادر عباس مستوی نے روزنامہ عظیم الشان کا اتھارٹی لیٹر وصول کر لیا اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
  • June 17, 2026

Continue reading