پی آئی اے نے فضائی میزبانوں کے لیے بڑی پابندی عائد کر دی، نیا حکم نامہ جاری

پی آئی اے نے فضائی میزبانوں پر سگریٹ اور تمباکو لانے پر بڑی پابندی عائد کر دی

پاکستان کی قومی ایئرلائن، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) نے اپنے فضائی میزبانوں (ایئر ہوسٹسز اور کیبن کریو) کے لیے ایک انتہائی اہم اور سخت ترین حکم نامہ جاری کیا ہے۔ پی آئی اے انتظامیہ کی جانب سے فضائی میزبانوں کے ذاتی سامان (پرسنل لگیج) میں سگریٹ، سگار اور کسی بھی قسم کا تمباکو لے جانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

یہ فیصلہ ایئرلائن کے تشخص کو بہتر بنانے، بین الاقوامی ہوا بازی کے اصولوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے اور دورانِ ڈیوٹی ڈسپلن قائم رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔ اس نئے قانون کے لاگو ہونے سے ایئرلائن انڈسٹری اور خصوصاً عادی سگریٹ نوش عملے کے حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

نئے حکم نامے کے اہم نکات اور سخت شرائط

پی آئی اے کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں صرف سامان کی چیکنگ تک ہی پابندی محدود نہیں رکھی گئی، بلکہ عملے کی نجی اور پیشہ ورانہ زندگی کے حوالے سے بھی چند سخت فیصلے کیے گئے ہیں۔ اس حکم نامے کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

  • ذاتی سامان کی تلاشی: اب کوئی بھی فضائی میزبان اپنے پرسنل لگیج یا ہینڈ کیری بیگ میں سگریٹ کے پیکٹ، سگار یا تمباکو کی دیگر مصنوعات نہیں رکھ سکے گا۔

  • دورانِ پرواز سگریٹ نوشی پر پابندی: پرواز کے دوران کیبن کریو کے سگریٹ نوشی کرنے پر پہلے ہی پابندی تھی، تاہم اب اس پر عملدرآمد کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

  • ہوٹل قیام کے دوران پابندی: جب عملہ کسی دوسرے شہر یا ملک میں پرواز کے بعد ہوٹل میں قیام کرے گا، تو وہاں بھی سگریٹ نوشی کی اجازت نہیں ہوگی۔

  • پبلک مقامات پر ممانعت: پی آئی اے کا عملہ یونیفارم میں یا ڈیوٹی کے دوران کسی بھی عوامی جگہ (پبلک پلیس) پر سگریٹ نوشی نہیں کر سکے گا۔

خلاف ورزی پر فوری معطلی اور سخت انکوائری کا انتباہ

پی آئی اے انتظامیہ نے واضح الفاظ میں تمام کیبن کریو اور متعلقہ عملے کو تنبیہ کی ہے کہ اس نئی پالیسی پر زیرو ٹالرنس (Zero Tolerance) یعنی کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ایئرلائن کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ:

“اگر کوئی بھی فضائی میزبان اس نئے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پکڑا گیا، یا اس کے سامان سے ممنوعہ اشیاء برآمد ہوئیں، تو اسے فوری طور پر ملازمت سے معطل کر دیا جائے گا اور اس کے خلاف سخت محکمانہ انکوائری کا آغاز کیا جائے گا۔”

اس سخت ترین فیصلے کا مقصد ایئرلائن کے بین الاقوامی امیج کو بہتر بنانا ہے، کیونکہ فضائی میزبان کسی بھی ملک اور ایئرلائن کا چہرہ ہوتے ہیں۔

عادی سگریٹ نوش کریو کے لیے مشکلات کا آغاز

طویل پروازوں (Long-haul flights) اور ذہنی دباؤ والے کام کے باعث بہت سے فضائی میزبان سگریٹ نوشی کے عادی ہوتے ہیں۔ اس اچانک اور سخت فیصلے کے بعد عادی سگریٹ نوش کریو کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انٹرنیشنل روٹس جیسے کہ یورپ، کینیڈا، یا خلیجی ممالک کی پروازوں کے دوران جہاں عملے کو کئی گھنٹے فضا میں گزارنے پڑتے ہیں اور بعد ازاں ہوٹلوں میں قیام کرنا ہوتا ہے، وہاں اب تمباکو نوشی پر مکمل پابندی کے باعث عملے کے لیے ڈیوٹی کے اوقات گزارنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

کسٹمز قوانین اور پی آئی اے کی نئی پالیسی میں تضاد؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان اور دنیا بھر کے کسٹمز قوانین (Customs Laws) کے مطابق مسافروں اور ایئر لائن کے عملے کو ایک مخصوص اور قانونی حد کے اندر سگریٹ یا تمباکو اپنے ساتھ رکھنے کی اجازت ہوتی ہے۔ تاہم، پی آئی اے انتظامیہ نے اپنے داخلی نظم و ضبط اور ڈسپلن کو برقرار رکھنے کے لیے کسٹمز کے عمومی قوانین سے ہٹ کر یہ سخت ترین اندرونی پالیسی وضع کی ہے۔

ایوی ایشن ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ بین الاقوامی قوانین کے تحت یہ عملہ کا ذاتی حق ہو سکتا ہے، لیکن ایئرلائن انتظامیہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے برانڈ امیج اور پروازوں کی حفاظت کے لیے ایسے قوانین نافذ کر سکے۔

ایوی ایشن انڈسٹری پر اس فیصلے کے اثرات

طیاروں کے اندر سگریٹ نوشی ہمیشہ سے ایک حساس معاملہ رہا ہے کیونکہ یہ نہ صرف مسافروں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ اس سے طیارے کے اندر آگ لگنے کے حادثات کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ پی آئی اے کے اس اقدام کو بین الاقوامی ہوا بازی کی تنظیموں (جیسے IATA) کے حفاظتی معیارات کے قریب تر لانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کیا پی آئی اے کا عملہ اس پالیسی کو مکمل طور پر اپناتا ہے یا اس کے خلاف کیبن کریو ایسوسی ایشنز کی جانب سے کوئی احتجاج یا تحفظات سامنے آتے ہیں۔

 خبروں کے بارے میں جاننے کے لیے ہماری تفصیلی رپورٹ دیکھیں Azeemulshan TV۔

 پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے دیگر ہوائی قوانین اور سیفٹی گائیڈ لائنز پڑھنے کے لیے سی اے اے پاکستان کی آفیشل ویب سائٹ پر جائیں۔

Related Posts