کیا موٹر سائیکل سواروں کو پیٹرول پر 2 ہزار روپے سبسڈی اب ملے گی؟

موٹر سائیکل سواروں کے لیے پیٹرول سبسڈی اسکیم کی ممکنہ بندش: وزیر پیٹرولیم کا بڑا بیان

پاکستان میں توانائی کے شعبے اور عوامی ریلیف پیکجز کے حوالے سے ایک بار پھر بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ایک حالیہ انٹرویو میں سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاید چند ہی دنوں میں ملک بھر میں موٹر سائیکل سواروں کے لیے جاری پیٹرول سبسڈی اسکیم کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔

میڈیا ذرائع (اے آر وائی نیوز) سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے واضح کیا کہ اس ریلیف اسکیم کو برقرار رکھنے یا ختم کرنے سے متعلق ابھی حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حساس معاملے پر آخری اور حتمی فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف خود کریں گے، اور وہ اس اسکیم کے مستقبل سے متعلق تمام صوبائی حکومتوں سے تفصیلی مشاورت بھی کریں گے۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا مشترکہ اقدام: معاشی بوجھ یا عوامی ریلیف؟

وزیر پیٹرولیم نے اس بات کی بھی یاددہانی کرائی کہ موٹر سائیکل سواروں کے لیے یہ ریلیف اسکیم وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر شروع کی تھی۔ اس اسکیم کا بنیادی مقصد مہنگائی سے پسے ہوئے غریب اور متوسط طبقے کو پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری پر براہِ راست مالی ریلیف فراہم کرنا تھا۔

تاہم، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ بجٹ 2026-27 کے حوالے سے جاری سخت ترین مذاکرات کے تناظر میں، حکومت پر ہر قسم کی سبسڈیز کو ختم کرنے کا شدید دباؤ ہے۔ آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ ایسی سبسڈیز سے قومی خزانے پر مالیاتی بوجھ بڑھتا ہے اور محصولات کا ہدف پورا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اب اس اسکیم کو مزید چلانے سے کتراتی نظر آ رہی ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش اور پٹرولیم مارکیٹ پر عالمی دباؤ

ملکی سطح پر سبسڈیز کے خاتمے کی بحث ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب عالمی سطح پر بھی پٹرولیم مارکیٹ شدید بحران کا شکار ہو چکی ہے۔ معاہدے کی خلاف ورزی پر ایران نے دوبارہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے اور پاسدارانِ انقلاب نے تجارتی و تیل بردار جہازوں کو اس خطے سے دور رہنے کی سخت وارننگ جاری کی ہے۔

اس عالمی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث آنے والے دنوں میں خام تیل (Crude Oil) کی بین الاقوامی قیمتوں میں شدید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر ایک طرف عالمی مارکیٹ میں پیٹرول مہنگا ہوتا ہے اور دوسری طرف وفاقی حکومت موٹر سائیکل سواروں کی سبسڈی اسکیم بھی واپس لے لیتی ہے، تو عام آدمی کے لیے آمدورفت کے اخراجات برداشت کرنا ناممکن ہو جائے گا۔

عوامی اور معاشی حلقوں میں تشویش کی لہر

موٹر سائیکل سواروں کی اکثریت غریب دیہاڑی دار طبقے، اسٹوڈنٹس اور نجی ملازمت پیشہ افراد پر مشتمل ہے، جو روزانہ کی بنیاد پر سفر کرتے ہیں۔ اس اسکیم کی بندش کی خبروں نے عوام میں شدید مایوسی اور تشویش پیدا کر دی ہے۔

حکومت کی موجودہ معاشی حکمتِ عملی پر درج ذیل سوالات اٹھ رہے ہیں:

  • عوامی ریلیف کا مستقبل: کیا حکومت آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کے لیے غریب ترین طبقے کا ریلیف مکمل ختم کر دے گی؟

  • صوبوں کا مؤقف: صوبائی حکومتیں (خاص طور پر پنجاب اور سندھ) اپنے بجٹ سیشنز کے دوران اس وفاقی فیصلے پر کیا ردِعمل دیں گی؟

  • ٹیکسز کا بوجھ: حال ہی میں اسلام آباد میں گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں بھاری اضافہ کیا گیا ہے، اور اب موٹر سائیکل سواروں سے یہ سہولت چھیننے سے مہنگائی کا نیا طوفان آ سکتا ہے۔

حاصلِ کلام (Conclusion)

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا یہ بیان اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ حکومت بجٹ 2026-27 کو آئی ایم ایف کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے سخت فیصلے کرنے پر مجبور ہے۔ اگرچہ وزیراعظم کی صوبوں سے مشاورت ابھی باقی ہے، لیکن معاشی اشاریے بتاتے ہیں کہ اس اسکیم کا برقرار رہنا اب مشکل دکھائی دیتا ہے۔ عالمی سطح پر آبنائے ہرمز کے بحران اور ملکی سطح پر سبسڈیز کے خاتمے کے بعد، آنے والے چند دن پاکستان کے توانائی کے شعبے اور عام صارفین کے لیے انتہائی اہم اور کڑے ثابت ہوں گے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، سبسڈی اسکیمز اور ملکی معیشت کی تازہ ترین صورتحال جاننے کے لیے آپ ایکسپریس اردو پر وزٹ کر کے لمحہ بہ لمحہ تازہ ترین اپڈیٹس دیکھ سکتے ہیں۔

Related Posts