پی ٹی آئی کا لانگ مارچ ملتوی ہونے پر وفاقی وزراء کے بیانات احمقانہ ہیں، مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے: ڈاکٹر روبینہ اختر
ملتان:(عقیل چوہدری) پاکستان تحریک انصاف کی رہنما اور این اے 148 سے امیدوار ڈاکٹر روبینہ اختر نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کا لانگ مارچ ملتوی ہونے کے بعد وفاقی وزراء کی پریس کانفرنسیں اور بیانات احمقانہ نوعیت کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت طنز و تشنیع کا نہیں بلکہ سنجیدگی کا ہے، اور ایسے بیانات اشتعال کو ہوا دے سکتے ہیں جو ملک اور قوم دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر روبینہ اختر نے کہا کہ حکومت تحریک انصاف کو دہشت گرد جماعت ثابت کرکے خود کو ملک کا ٹھیکیدار ثابت کرنے کی بجائے صرف اس سوال کا جواب دے کہ آج ملک کہاں کھڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی عروج پر ہے، تعلیم کا شعبہ تباہ ہو چکا ہے، صحت کی سہولتوں کا شدید فقدان ہے جبکہ مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران خطے میں جنگ کا نعرہ لگا کر اپنی مراعات میں اضافہ کرتے وقت جنگ کے اثرات کو فراموش کر دیتے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ بلیو پاسپورٹ کی منظوری ہو یا تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ، سیاستدان ہوں یا بیوروکریٹس، سب ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں، جبکہ دوسری جانب غریب عوام مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہیں۔
یہ پڑھیں شرپسند بی وائی سی کا مسنگ پرسنز بیانیہ بے نقاب، لاپتا شخص فتنۃ الہندوستان کا دہشت گرد نکلا
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران پاکستان نے 276 ارب روپے کا قرض لیا ہے، مگر یہ رقم کہاں خرچ ہوئی اور مستقبل میں اس کا کیا بنے گا، اس بارے میں عوام کو کچھ معلوم نہیں۔ ڈاکٹر روبینہ اختر کے مطابق ماضی کی طرح اس قرض کا بوجھ بھی بالآخر عوام ہی کو اٹھانا پڑے گا اور غریب عوام غربت کی لکیر سے مزید نیچے چلے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت واقعی ملک میں امن، استحکام اور خوشحالی چاہتی ہے تو اسے فوری طور پر تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے اور تمام سیاسی قوتوں کی مشاورت سے ایک جامع لائحہ عمل طے کرنا چاہیے، تاکہ ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کا خاتمہ ہو سکے۔
یہ پڑھیں پی ٹی آئی کا بڑا یوٹرن؟ بیرسٹر گوہر کی اراکین کو وفاقی بجٹ کی حمایت کی ہدایت
ڈاکٹر روبینہ اختر ان خیالات کا اظہار این اے 148 میں خواتین کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کر رہی تھیں۔ اس موقع پر انہوں نے خواتین کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی اہمیت سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے والدین اور معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔