چادر و چار دیواری کی پامالی! ملتان میں پولیس اہلکاروں پر خواتین اور نوجوان پر تشدد کا الزام
ملتان ( یاسر بھٹی) قادر پور راں کے علاقہ چوک جندرا کی رہائشی لیڈی ہیلتھ ورکر بہنوں خالدہ پروین، عطیہ بی بی اور زبیر نے اہلِ خانہ کے ہمراہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پولیس پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بجلی چوری کے مقدمہ میں عدالت کے حکم پر جرمانہ ادا کیا جا چکا ہے اور ضمانت بھی ہو چکی ہے۔ ضمانت کے عدالتی کاغذات اے ایس آئی عزیز کو دینے کے باوجود ان کے بھائی خالد حسن کو اشتہاری قرار دے دیا گیا۔
متاثرہ بہنوں کے مطابق گزشتہ شب خالد حسن اپنے پالتو کتے کے ساتھ گھر کے باہر چہل قدمی کے لیے نکلا تو سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک اہلکار اور وردی میں ملبوس دو پولیس اہلکاروں نے مہران گاڑی میں آ کر اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور مکمل طور پر برہنہ کر دیا۔
انہوں نے بتایا کہ اطلاع ملنے پر وہ بھائی کو بچانے کے لیے باہر نکلیں تو انہیں اور ان کی دیگر بہنوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کا الزام ہے کہ چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا اور انہیں جان سے مارنے اور سنگین مقدمات میں پھنسانے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں ملتان میں شوہر اور بچوں کے سامنے خاتون سے زیادتی کا الزام، تین نامعلوم مسلح ملزمان کے خلاف مقدمہ درج
متاثرہ خواتین کے مطابق جب انہوں نے احتجاج کرنے کا ارادہ کیا تو ایس ایچ او قادر پور راں نے انصاف کی یقین دہانی کرائی اور احتجاج نہ کرنے کا کہا، جس پر وہ گھر واپس آ گئیں۔ تاہم بعد میں ایس ایچ او نے ان سمیت 11 مردوں، پانچ سے زائد خواتین اور دیگر افراد کے خلاف پولیس کے ساتھ مزاحمت کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اب بھی انہیں جان سے مارنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
پریس کانفرنس میں انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب، ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب، آر پی او ملتان اور سی پی او ملتان سے مطالبہ کیا کہ ان کے خلاف درج جھوٹا مقدمہ خارج کیا جائے اور انصاف فراہم کیا جائے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اگر انہیں انصاف نہ ملا تو وہ وزیراعلیٰ پنجاب سیکرٹریٹ، آئی جی پنجاب ہیڈ آفس، آر پی او ملتان اور سی پی او ملتان کے دفاتر کے سامنے بھوک ہڑتالی کیمپ لگانے پر مجبور ہوں گی۔