بیٹی کو پڑھا لکھا کر کسی جاہل کے ساتھ بیاہ دینا

تعلیم و کردار .. یا .. ذات پات؟

کیا یہ عجیب تضاد نہیں کہ ہم بیٹی کو 20 – 25 سال تعلیم، تربیت، محبت اور تحفظ دے کر ایک باصلاحیت اِنسان بناتے ہیں، مگر اُس کی شادی کے وقت سب سے اہم معیار صرف یہ رہ جاتا ہے کہ لڑکا اپنی برادری کا ہے یا نہیں؟

ہمارے معاشرے میں بہت سے والدین بیٹیوں کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں، اُنہیں اچھے اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں پڑھاتے ہیں، اُن کیلئے بہتر مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اُن کی بیٹی بااِعتماد ہو، سمجھدار ہو، اپنے فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو، عزت کے ساتھ زندگی گزارے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرے۔ یہ سب بہت اچھی باتیں ہیں۔ مگر جب زندگی کے سب سے بڑے فیصلے، یعنی شادی، کا وقت آتا ہے تو اکثر یہی سوچ پیچھے رہ جاتی ہے۔

پھر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ لڑکا اَخلاقی طور پر کیسا ہے، ذمہ داری اُٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں، غصے پر قابو پاتا ہے یا نہیں، عورت کی عزت کرتا ہے یا نہیں، اُس کا مزاج، کردار، تعلیم، روزگار اور خاندانی رویہ کیسا ہے۔ اُس کے برعکس پہلا سوال یہ ہوتا ہے: ’’ذات کیا ہے؟ برادری کون سی ہے؟ ہمارے خاندان میں پہلے ایسی شادی ہوئی بھی ہے یا نہیں؟

یہ سوالات اُس وقت مزید تکلیف دہ ہو جاتے ہیں جب ایک قابل، باوقار اور ذہین لڑکی کو صرف برادری کی شرط پوری کرنے کیلئے کسی ایسے لڑکے کے ساتھ بیاہ دیا جائے جو فکری، اَخلاقی یا عملی طور پر اُس کے برابر ہی نہ ہو۔ صرف ایک ہی ذات سے تعلق رکھنے والا ہونا کسی شخص کو اچھا شوہر، ذمہ دار باپ یا باکردار اِنسان نہیں بنا دیتا۔ اِسی طرح کسی دوسری ذات یا برادری سے ہونا کسی شخص کے کردار کو کمتر نہیں کر دیتا۔

یہ پڑھیں  150 سال پرانے سنیما کی زمین کا تنازع، اینٹی کرپشن کا بڑا کریک ڈاؤن   

شادی دو خاندانوں کے ناموں کا نہیں، بلکہ دو اِنسانوں کی زندگی کا معاملہ ہوتا ہے۔ اِس میں سب سے اہم چیز باہمی اِحترام، مزاج کی مناسبت، دیانتداری، ذمہ داری، دینی و اَخلاقی کردار اور ایک دوسرے کو آگے بڑھانے کی صلاحیت ہونی چاہئے۔ ذات پات کو فیصلہ کن معیار بنانے سے نہ صرف بیٹیوں کے حقِ انتخاب پر اثر پڑتا ہے بلکہ کئی گھروں میں عمر بھر کی بےسکونی، ذہنی دباؤ اور پچھتاوے جنم لیتے ہیں۔

یہ بھی سچ ہے کہ والدین کو اِحتیاط کرنی چاہئے، خاندان اور پس منظر ضرور دیکھنا چاہئے، لیکن اِحتیاط اور تعصب میں فرق رکھنا چاہئے۔ مناسب تحقیق ضروری ہے، مگر برادری کو واحد معیار بنا دینا دانشمندی نہیں۔ بیٹی کو اعلیٰ تعلیم دینے کا مقصد صرف ڈگری دلوانا نہیں بلکہ اُسے بہتر، محفوظ اور باوقار زندگی دینا بھی ہے۔

خدارا، اپنی بیٹی کو ہیرا بنانے کے بعد محض ذات کے نام پر کسی نااہل شخص کے حوالے نہ کریں۔ رشتہ نام سے نہیں، اِنسان کے کردار سے مضبوط ہوتا ہے۔ سوچ بدلے گی تو گھر بدلیں گے، اور گھر بدلیں گے تو معاشرہ بھی بدل جائے گا۔

آپ کے خیال میں شادی کیلئے ذات زیادہ اہم ہے یا کردار، اہلیت اور باہمی اِحترام؟

(تحریر:ڈسرکٹ بیورو چیف مظفرگڑھ ارشد خان سعیدی غزلانی)

Related Posts