اسموگ سے پہلے پنجاب کا بڑا اقدام، فصلوں کی باقیات جلانے کی روک تھام کے لیے 67 یونٹس متحرک
لاہور: پنجاب میں اسموگ کے خطرات کم کرنے اور فصلوں کی باقیات جلانے کے واقعات پر قابو پانے کے لیے محکمہ تحفظِ ماحولیات نے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ اس سلسلے میں 10 حساس اضلاع میں 67 کوئیک رسپانس یونٹس تعینات کیے گئے ہیں، جو آگ لگنے کے واقعات کی فوری نشاندہی اور انہیں پھیلنے سے روکنے کے لیے کام کریں گے۔
ان یونٹس کو ٹریکٹرز کے ساتھ منسلک فائر باؤزرز فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ اہم موٹروے روٹس پر ان کی تعیناتی کا مقصد فصلوں کی باقیات جلانے کے واقعات پر بروقت قابو پانا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل پنجاب انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی (EPA) عبداللہ نئیر شیخ نے اتوار کے روز گوجرانوالہ سیالکوٹ موٹروے کے ساتھ قائم یونٹس کا اچانک معائنہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے عملے کی موجودگی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامات کا جائزہ لیا۔
معائنے کے موقع پر تمام یونٹس مقررہ مقامات پر موجود پائے گئے اور متعلقہ عملہ بھی ڈیوٹی پر موجود تھا۔ حکام کے مطابق ان ٹیموں کی تیاری کا مقصد فصلوں کی باقیات میں آگ لگنے کے واقعات کی صورت میں فوری کارروائی کرنا اور آگ کو مزید پھیلنے سے روکنا ہے۔
یہ پڑھیں حیسکو قاسم آباد ڈویژن کی کارکردگی میں بہتری، ریکوری 58 فیصد سے متجاوز
ڈی جی ماحولیات نے اس موقع پر محکمہ زراعت کے افسران سے بھی ملاقات کی، جس میں دھان کی کٹائی کے عمل کی نگرانی اور فصلوں کی باقیات جلانے کے ممکنہ واقعات کی نشاندہی کے حوالے سے باہمی رابطوں کا جائزہ لیا گیا۔
محکمہ تحفظِ ماحولیات کی جانب سے یہ اقدامات دھان کی کٹائی کے سیزن میں فضائی آلودگی کو کم کرنے اور اسموگ کی شدت سے بچاؤ کی کوششوں کا حصہ ہیں۔