تنظیم اسلامی کا خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج پر تشویش کا اظہار، فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ
ملتان: (شکیل چوہدری)تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی گرفتاری پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے صوبے کی صورتحال نہایت نازک ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی انتشار اور خانہ جنگی کسی بھی ملک کے امن و استحکام کے لیے تباہ کن ہوتی ہے۔ موجودہ عالمی و علاقائی حالات میں پاکستان اس کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا، اس لیے تمام فریق اپنی ضد چھوڑ کر ملکی مفاد میں مل کر کام کریں۔
حکومتی مؤقف میں تضاد
شجاع الدین شیخ کے مطابق ایمرجنسی اور گورنر راج کی وجوہات کے بارے میں حکومت کے بدلتے مؤقف نے معاملے کو اور مشکوک بنا دیا ہے۔ ان کے بقول ابتدا میں کہا گیا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خاتمے میں مؤثر کردار ادا نہیں کر رہی۔ بعد ازاں ایک پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر قانون نے اس کی وجہ صوبے میں کم عمری کی شادی سے متعلق قانون کو قرار دیا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کی قیادت کا کہنا ہے کہ اصل مقصد اس کے لانگ مارچ کو روکنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں۔ ضلع کرم میں بڑی کارروائی: دراندازی ناکام، 12 دہشتگرد ہلاک
پرامن احتجاج آئینی حق ہے
امیر تنظیم نے یاد دلایا کہ آئین ہر شہری کو پرامن اور غیر مسلح احتجاج کا حق دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر احتجاج کے دوران کوئی شرپسندی کرے تو صرف ثابت شدہ شرپسندوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ افراد اور جماعتوں کے آئینی حقوق سلب کرنا جمہوری روح کے منافی ہے اور اس سے ملک میں جبر کی فضا بڑھے گی۔
وفاق اور صوبے کے درمیان کشیدگی
انہوں نے میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وفاق اور خیبر پختونخوا آمنے سامنے آ گئے ہیں اور بعض مقامات پر جھڑپوں اور گرفتاریوں کی اطلاعات ہیں، جو افسوسناک ہے۔ ان کے مطابق اس کشمکش میں اصل نقصان پاکستان اور اس کے عوام کا ہو رہا ہے۔
شجاع الدین شیخ نے الزام لگایا کہ اسرائیل، امریکہ اور بھارت پر مشتمل گٹھ جوڑ پہلے ہی پاکستان کا امن خراب کرنے کے درپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں خیبر پختونخوا میں ہونے والے آپریشنز سے ثابت ہوا کہ طاقت کے بے جا استعمال سے دہشت گردی، بدانتظامی اور عوامی ناراضی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے بلوچستان میں بھی دہشت گردی بڑھنے پر تشویش ظاہر کی۔
یہ بھی پڑھیں۔ کے پی کے لیے بڑا فیصلہ آنے والا ہے؟ وزیراعظم کی صدارت میں کابینہ کا اجلاس جاری
مذاکرات کی اپیل
امیر تنظیم نے کہا کہ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے اور ناراض لوگوں کو منانا اس کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے ایمرجنسی اور گورنر راج کا فیصلہ فوری واپس لینے اور پی ٹی آئی قیادت سے مذاکرات کا راستہ اپنانے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام معاملات بات چیت سے حل کیے جائیں۔
بیان کے آخر میں انہوں نے پاکستان کے اتحاد و یکجہتی کے لیے دعا بھی کی