گرمی کی شدت میں اضافہ: مالاکنڈ اور مظفرآباد کے پہاڑی جنگلات میں ہولناک آگ، مساجد سے اپیلیں

گرمی کی لہر میں ہولناک تباہی: مالاکنڈ اور مظفرآباد کے پہاڑی جنگلات میں ہولناک آگ بھڑک اٹھی، قیمتی درخت راکھ کا ڈھیر

مرکزی سرخی: تیز ہواؤں اور دشوار گزار راستوں کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات، مقامی مساجد سے شہریوں کو مدد کے لیے پکارا گیا

ماحولیات و قومی رپورٹ: عظیم الشان ٹی وی 

پاکستان بھر میں جاری شدید گرمی کی لہر اور درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافے کے ساتھ ہی ملک کے بالائی اور پہاڑی علاقوں سے تشویشناک خبریں سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔ مئی کے آخری دنوں میں جہاں میدانی علاقے حبس اور تپش کی لپیٹ میں ہیں، وہی خیبر پختونخوا کے ضلع مالاکنڈ اور آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے خوبصورت پہاڑی سلسلوں اور جنگلات میں ہولناک آگ بھڑک اٹھی ہے۔ اس ناگہانی آفت نے نہ صرف خطے کے ماحولیاتی حسن کو شدید نقصان پہنچایا ہے بلکہ وہاں موجود قیمتی جنگلی حیات اور نباتات کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔

مالاکنڈ کی تینوں تحصیلیں آگ کی لپیٹ میں، مساجد سے اعلانات

مقامی پولیس حکام اور انتظامیہ کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، مالاکنڈ ڈویژن کی تینوں تحصیلوں کے مختلف پہاڑی سلسلے اس وقت آگ کی شدید لپیٹ میں ہیں۔ آگ کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مالاکنڈ کی تحصیل بٹ خیلہ کے ‘سنگینہ پہاڑ’ میں لگنے والی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے اردگرد کے ایک وسیع رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ اتنی تیزی سے پھیل رہی ہے کہ مقامی انتظامیہ اور ریسکیو کے محدود وسائل اس پر قابو پانے میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔

حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بٹ خیلہ اور گردونواح کی مقامی مساجد سے لاؤڈ اسپیکرز پر شہریوں سے ہنگامی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔ مساجد سے کیے جانے والے اعلانات میں مقامی لوگوں، نوجوانوں اور رضاکاروں سے درخواست کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے طور پر پانی، مٹی اور دستیاب اوزار لے کر پہاڑ کی طرف پہنچیں تاکہ بستیوں کی طرف بڑھتی ہوئی آگ کا راستہ روکا جا سکے۔

قیمتی درختوں کا نقصان اور متاثرہ علاقے

سرکاری رپورٹس کے مطابق، صرف بٹ خیلہ ہی نہیں بلکہ درگئی کے مشہور ‘جبن پہاڑ’ اور تحصیل تھانہ کے مختلف علاقوں بشمول ‘بایزی’، ‘آلہ ڈھنڈ ڈھیری’ اور ‘زرکنڈی تنگے’ کے پہاڑی جنگلات بھی شدید آگ کی زد میں ہیں۔ ان علاقوں میں کئی دہائیوں پرانے قیمتی اور نایاب درخت موجود تھے جو اب جل کر راکھ کا ڈھیر بن رہے ہیں۔ مقامی ماحولیاتی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر آگ پر فوری قابو نہ پایا گیا تو یہ مقامی آب و ہوا پر انتہائی تباہ کن اثرات مرتب کرے گی اور زیرِ زمین پانی کی سطح مزید نیچے چلی جائے گی۔

مظفرآباد کے چیڑ کے جنگلات بھی زیرِ آتش

دوسری جانب، آزاد کشمیر کا دارالحکومت مظفرآباد بھی اسی قسم کی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ مظفرآباد کے نواحی پہاڑی جنگلات میں لگی آگ نے وسیع رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ کنزرویٹر فاریسٹ میر نصیر نے میڈیا کو بتایا کہ خطے میں جاری شدید گرمی اور خشک موسم کے باعث چیڑ (Pine) کے جنگلات میں قدرتی طور پر آگ لگنے کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ چیڑ کے درختوں کے پتے انتہائی روغن دار اور خشک ہوتے ہیں، جو معمولی تپش یا چنگاری ملنے پر بھی پٹرول کی طرح آگ پکڑ لیتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ یہ آگ بہت کم وقت میں میلوں دور تک پھیل جاتی ہے۔

وسائل کی کمی اور روایتی طریقوں کا استعمال

جنگلات میں لگی اس آگ نے متعلقہ محکموں کی کارکردگی اور ان کے پاس موجود وسائل کی قلعت کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ کنزرویٹر فاریسٹ میر نصیر نے اعتراف کیا کہ محکمہ جنگلات کو جدید ترین آلات، فائر فائٹنگ کٹس اور ضروری وسائل کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ آگ بجھانے کے لیے عملے کے پاس کوئی جدید ٹیکنالوجی یا ہیلی کاپٹرز کی سہولت موجود نہیں ہے، جس کی وجہ سے وہ آگ پر قابو پانے کے لیے صدیوں پرانے روایتی طریقے (جیسے درختوں کی شاخوں سے آگ کو پیٹنا یا مٹی ڈالنا) اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ، تیز اور گرم ہواؤں کے چلنے اور پہاڑی راستوں کے انتہائی دشوار گزار ہونے کے باعث امدادی ٹیموں کو متاثرہ مقامات تک پہنچنے میں شدید ترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی مقامات ایسے ہیں جہاں گاڑیاں نہیں جا سکتیں اور عملے کو پیدل کئی کلومیٹر کا پہاڑی سفر طے کر کے جانا پڑتا ہے، جس کے باعث آگ مزید پھیل جاتی ہے۔

محکمہ جنگلات کی رپورٹ اور آزاد کشمیر میں موسم کی صورتحال جاننے کے لیے ایکسپریس نیوز وزٹ کریں

Related Posts